سرورق مضمون

سوپورمیں حریت کارکن ہلاک/ حریت کاخفیہ ایجنسیوں پر الزام/ پولیس نے ٹھہرایا ملی ٹینٹوں کو ذمہ دار

سوپورمیں حریت کارکن ہلاک/ حریت کاخفیہ ایجنسیوں پر الزام/  پولیس نے ٹھہرایا ملی ٹینٹوں کو ذمہ دار

ڈیسک رپورٹ
سوپورمیںہوئی ہلاکت کے خلاف گیلانی کی کال پر بدھ کو ہڑتال کی گئی اور کئی جگہوں پر تشدد کے واقعات بھی ہوئے ۔ پلہالن میں سنگ باری کے واقعے کے علاوہ علاقے میں حالات میں سخت تنائو پایا جاتا ہے ۔ اس ہلاکت کے بارے میں اب تک حقیقت سامنے نہیں آسکی ۔ حریت پسند حلقے اس کے لئے خفیہ ایجنسیوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں ۔ پولیس نے ان کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ہلاکت میں علاحدگی پسند بندوق برداروں کا ہاتھ ہے۔ جمعرات کو اس پر بیان دیتے ہوئے پولیس سربراہ نے دعویٰ کیا کہ قاتلوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور جلد ہی ان کو عوام کے سامنے لایا جائے گا۔ انہوں نے واقعے کے بارے میں زیادہ تفصیل نہیں بتا یاالبتہ یہ بات زور دے کر کہی کہ اس ہلاکت میں کوئی بھی سرکاری ایجنسی ملوث نہیں ہے بلکہ یہ ملی ٹینٹوں کے ہاتھوں پیش آیا واقعہ ہے ۔ ادھر مقتول حریت کارکن کے والد نے بھی الزام لگا یا کہ ان کے بیٹے کو پولیس کی مدد سے خفیہ ایجنسیوں نے ہلاک کیا۔
سوپور میں قتل کا یہ واقعہ 9 جون کو پیش آیا جب الطاف احمدشیخ نامی ایک نوجوان کو نامعلوم بندوق برداروں نے ہلاک کیا۔ الطاف سے متعلق بتا یا گیا کہ تحریک حریت کا ایک کارکن ہونے کے علاوہ محکمہ صحت میں کام کررہاہے ۔ الطاف مقامی ہیلتھ سنٹر میں بطور ایکسرے ٹیکنیشن کام کرتا تھا۔ ہلاکت کی رات ڈیوٹی پر تھا اور سخت مشغول رات گزاری۔ اس سے پہلے کئی بار جیل جاچکا ہے۔ الطاف کے باپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بیٹے نے پانچ سال سے زائد کا عرصہ جیل میں گزارا اور علاحدگی پسند رہنما گیلانی کا حامی تھا۔ الطاف کو کچھ روز پہلے پولیس نے وہاں موبائل فون ٹاوروں کے زمین مالکان پر کئے گئے حملوں کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا اور بڑی مشکل سے رہاکیا گیا۔ اس ہلاکت کے بعد علاحدگی پسندوں اور پولیس کے درمیان سخت بیان بازی ہورہی ہے ۔ گیلانی نے الزام لگایا کہ اس ہلاکت میں سرکاری ایجنسیاں ملوث ہیں ۔ لیکن پولیس نے ان کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملی ٹنٹ تنظیموں کے ہاتھوں کی گئی ایک واردات ہے ۔ لوگ سخت تذبذب کا شکار ہیں۔ علاقے میں سخت تنائو اور خوف و ہراس پایا جاتا ہے ۔ مقامی لوگوں نے وہاں آئے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس ہلاکت کے لئے مرکزی سرکاری ایجنسیاں ملوث ہیں۔ ادھر جمعرات کی رات کو ایک بار پھر سوپور میں اشتہارات چسپاں پائے گئے جن میں ایک بار پھر موبائل فونوں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لباس اور دوسری کئی چیزوں کے متعلق لوگوں کے نام احکامات جاری کئے گئے ہیں ۔ موبائل فونوں کے حوالے سے متعلق پولیس نے کہا ہے کہ وادی میں تمام فون ٹاور کام کررہے ہیں اور کہیں بھی کوئی نیا واقعہ پیش نہیں آیا ہے ۔ پولیس نے موبائل فون ٹاور وں کے لئے زمین فراہم کرنے والوں کے تحفظ کے لئے انہیں سیکورٹی فراہم کرنے کی پیش کش بھی کی ہے ۔ یاد رہے کہ فون ٹاوروں کو بند کرنے کی دھمکی لشکر اسلام نامی تنظیم نے دی تھی ۔ اس تنظیم کا نام پہلی بارسامنے آیا۔ حریت (گ) نے اس تنظیم کو سرکاری ایجنسیوں کی حاشیہ بردار قرار دیا اور اس کے خلاف سخت لب و لہجہ استعمال کیا ۔ اس کے چند روز بعد طفیل احمد ڈار نامی مذکورہ نوجوان کو سوپور میں قتل کیا گیا ۔