نقطہ نظر

سپریم کورٹ کی تضاد بیانی

سپریم کورٹ کی تضاد بیانی

کلدیپ نائر
ریاستی اسمبلیوں کے تقریباً 80 اراکین راجیہ سبھا (ایوان بالا)میں داخل ہو گئے ہیں۔ وہ اپنی ریاستوں کی نمایندگی کرتے ہیں۔ چونکہ پارلیمنٹ کے دو ایوان ہیں، دوسرا ایوان لوک سبھا (ایوان نمایندگان) ہے جس کا براہ راست انتخاب ہوتا ہے جب کہ راجیہ سبھا کا درجہ ’’کونسل آف اسٹیٹس‘‘ کا ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ بعض منتخب اراکین ایوان میں بیٹھنے کے لائق نہیں ہیں۔ راجیہ سبھا کارکن عمومی طور پر اس ریاست کا باسی ہونا چاہیے جس کی وہ ایوان میں نمایندگی کرتا ہے۔
اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کو وہ قانون کالعدم قرار دے دینا چاہیے جس کو تقریباً دس سال قبل پہلی مرتبہ چیلنج کیا گیا تھا لیکن اس کے بجائے عدالت نے اس غلطی کو جاری رکھا ہے۔اس حوالے سے سپریم کورٹ کا جو بنچ قائم کیا گیا تھا وہ خود ابہام کا شکار محسوس ہوا جس نے انتخابی امیدواروں کی اہلیت کا بیان شروع کر دیا۔ لیکن راجیہ سبھا کے اراکین کے لیے ڈومیسائل کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ حالانکہ اہلیت کے لیے یہ لازمی ہے کہ امیدوار اس ریاست کا رہائشی ہو جس کی وہ ایوان میں نمایندگی کر رہا ہے۔
اس مسئلے کی اصل وجہ یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں خود نہیں چاہتیں کہ ڈومیسائل کی شق قانون میں موجود رہے تا کہ وہ اپنی مرضی کے امیدواروں کو راجیہ سبھا میں بھیج سکیں خواہ ان کا تعلق اس ریاست سے ہو یا نہ ہو جس کی نمایندگی کے وہ مجاز ہیں۔ بدقسمتی سے پارلیمنٹ نے ریاست کا لفظ نکال کر اس کی جگہ ’’انڈیا‘‘ کا لفظ لگا دیا ہے حالانکہ یہ انتہائی بے معنی بات ہے کیونکہ پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان میں کوئی ایسا شخص رکن ہی نہیں بن سکتا جو انڈین یعنی بھارتی نہ ہو۔ سپریم کورٹ کو ڈومیسائل کی پابندی لازمی قرار دے دینی چاہیے لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس نے بھی پارلیمنٹ کی اس غیرمنطقی دلیل کو قبول کیا ہوا ہے۔
قانون ساز اسمبلی کی کارروائی کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اس میں واضح لکھا ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ان کے مقاصد بھی الگ ہیں۔ آئین ساز اسمبلی کے ایک رکن آروینکٹ رامن کے سوال پر، جو کہ بعد میں ملک کے صدر بن گئے‘ ڈاکٹر بی آر امبیدکر نے، جنہوں نے کہ آئین کا مسودہ قانون پیش کیا تھا‘ وضاحت کی کہ کونسل آف اسٹیٹس (یعنی راجیہ سبھا) کارکن لازمی طور پر اسی ریاست کا رہائشی ہونا چاہیے جس کی وہ ایوان میں نمایندگی کرتا ہو جب کہ لوک سبھا (یعنی ایوان نمایندگان) کارکن کسی بھی پارلیمانی حلقے کا رہائشی ہوسکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اس موقف کو کوئی اہمیت نہیں دی کہ منتخب رکن کا تعلق اسی ریاست سے ہونا چاہیے جہاں سے وہ منتخب ہوا ہے کیونکہ جن رائے دہندگان نے اس کو منتخب کیا ہے وہ اسی ریاست سے تعلق رکھتے ہیں۔ کسی بیرونی شخص کے حق میں دلیل عجیب سی منطق کی نمایندگی کرتی ہے۔ اصل نکتہ یہ نہیں کہ کس کو منتخب کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ ہے کہ ریاست کی نمایندگی کون کر سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ نمایندگی وہی شخص کرے گا جو اس ریاست میں رہنے والا ہو۔ اس کی ثقافت‘ زبان اور دیگر مسائل سے آگاہی رکھتا ہو۔
اب آپ اس دو ریاستوں کی مثال دیکھیں جو کہ آپس میں لڑ رہی ہیں۔ وہ ہیں کرناٹک اور تامل ناڈو۔ ان دونوں میں دریائے کرشنا کے پانی کی تقسیم کا جھگڑا ہے۔ کیا ریاست کرناٹک کا رہنے والا ریاست تامل ناڈو کی نمایندگی کا حق ادا کر سکتا ہے؟ اور اس ریاست کے مفادات کے متعلق فیصلے کر سکتا ہے؟ یا کہ تامل ناڈو کی بہتر نمایندگی اور اس کے مفادات کی حفاظت راجیہ سبھا میں تامل ناڈو کا باشندہ ہی کر سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے جو قومی کمیشن قائم کیا تھا جس کے ذمے آئین پر عملدرآمد کے معاملے کا جائزہ لینا تھا چنانچہ اس کمیشن نے سفارش کی کہ ’’راجہ سبھا کے بنیادی وفاقی کردار کے لیے یہ الزام ہے کہ اس کا انتخاب وہی امیدوار لڑے جو اس ریاست کا باشندہ (Son of Soil ہو جس کی وہ نمایندگی کرنا چاہتا ہے‘‘۔
یہ الگ بات ہے کہ حکومت نے اس کمیشن کو کوئی بھی سفارش نافذ العمل نہیں بنائی۔سپریم کورٹ کا یہ موقف کہ وفاق کی کوئی علاقائی حدود نہیں ہوتیں‘ ناقابل قبول ہے۔ وفاق علیحدہ علیحدہ ریاستوں کے مجموعے کا نام ہے۔ یہ ریاستیں بے شک اپنے معاملات پر مکمل اختیار رکھتی ہوں تاہم یہ وفاق کو بالادستی کا اختیار دیتی ہیں۔ ریاست کے وجود کی بنیاد اس بات پر ہے کہ وہ ریاست کے اصل باشندوں کے حقوق کی پاسداری کرے۔ یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ کسی ریاست میں رہنے والا اس کے اصل باشندے جیسے حقوق کا آئینی طور پر حامل نہیں۔کیونکہ ریاست کی تشکیل کے لیے عام رہائشی‘ دھرتی کے بیٹوں کی حیثیت نہیں رکھتے۔ لیکن سپریم کورٹ اسی بات پر مطمئن ہے کہ راجیہ سبھا کے نمایندے اگر ملک کے شہری ہیں تو یہ بات کافی ہے۔
اگر رہائشی ہونا اہلیت نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ راجیہ سبھا کے تمام 250 اراکین جن میں کہ 12 نامزد اراکین شامل نہیں تو پھر تمام کے تمام کسی ایک ریاست بلکہ کسی ایک شہر کے بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ سپریم کورٹ ایسا نہیں چاہے گا۔ اگر کسی ریاست کے مفادات کو مقدم رکھنے کی بات ہو تو پھر ڈومیسائل کی ضرورت سے ہر گز صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے راجیہ سبھا کو ایک نیا نام دیدیا ہے جو ہے ‘‘Revising House’’ یا ایوان نظرثانی اور اس ضمن میں اس بات کا کوئی احساس نہیں رکھا گیا کہ راجیہ سبھا کا مقام و مرتبہ گر جائے گا حالانکہ راجیہ سبھا ایک مکمل آزاد اور خود مختار ایوان ہے جس کے اپنے فرائض اور ذمے داریاں ہیں۔
اس کا کردار کسی کے ماتحت نہیں۔ تمام مسودات قانون ماسوائے جن کا تعلق مالی معاملات سے ہو وہ راجیہ سبھا میں پیش کیے جاسکتے ہیں لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ لوک سبھا ‘‘Revising House’’ یعنی ایوان نظرثانی کا درجہ اختیار کر لیتی ہے کیونکہ مسودات قانون تو راجیہ سبھا میں پیش کیے گئے؟ اصل بات یہ ہے کہ جن معاملات کا تعلق ریاستوں یا ریاستی امور سے ہو ان کے مسودات قانون راجیہ سبھا سے شروع ہوتے ہیں۔ سینٹرل سروسز سے متعلقہ تمام سوال بھی راجیہ سبھا میں اٹھائے جاتے ہیں۔
مجھے اس کی قطعاً سمجھ نہیں آئی کہ سپریم کورٹ کا اس بات سے کیا مطلب ہے جب اس نے کہا ہے کہ انتخاب کا حق ’’نہ ایک بنیادی حق ہے نہ ’’کامن لا‘‘ کا حق ہے بلکہ خالصتاً اور سیدھا سادا قانون ساز اسمبلیوں کا تفویض کردہ حق ہے اور آئینی حق نہیں ہے‘‘ یہ دونوں آراء متضاد ہیں اگر انتخاب کرنے کا حق بنیادی حق نہیں تو پھر کوئی ملک کس طرح جمہوری رہ سکتا ہے؟ حقیقت میں یہی ایک حق ہے جو جمہوریت کو آمریت سے ممیز کرتا ہے۔
یہ بہت افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے راجیہ سبھا کے دروازے دولت کی بوریوں اور مافیاز کے لیے چوپٹ کھول دیے ہیں۔ یہ ایوان دولتمندوں اور اثرورسوخ والے لوگوں کے کھیل کا میدان بنا دیا ہے۔ سیاسی اکابرین اپنے پسند کے لوگوں کو بھارت کے کسی بھی کونے کھدرے سے اٹھا کر ایوان بالا میں لا سکتے ہیں۔ آئین میں لکھا گیا ہے کہ راجیہ سبھا کے صرف 12 اراکین نامزد کیے جا سکتے ہیں لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب سیاسی اکابرین پورے ایوان کو نامزد کر دیں گے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)