خبریں

سچیت گڑھ جموں و کشمیر کا واگہ بن سکتا ہے

سچیت گڑھ جموں و کشمیر کا واگہ بن سکتا ہے

وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ سچیت گڑھ کو بین الاقوامی سرحد کے آر پار عوام کے مابین ملاقات کا مقام بنانے کا معاملہ مرکز کے سا تھ اٹھائیں گے۔ انہوں نے سچیت گڑھ کو پنجاب میں واگہ کی طرزپر ایک سرحدی سیاحتی منزل کے طور پر ترقی دینے کے لئے متعدد اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا صورتحال میں بہتری آنے کے سا تھ ہی ہم سچیت گڑھ کو ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے لئے ایک تجارتی مقام کے طور پر ترقی دینے کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے اس کا اظہار سچیت گڑھ کے دورے کے دوران کیا ۔ انہوں نے علاقہ میں سیاحت اور کھیل کود کے بنیادی ڈھانچے کے قیام کے لئے جاری کاموں کا بھی جائزہ لیااور سرمائی راجدھانی میں متعدد تکنیکی تعلیم کے اداروں کا معائینہ کیا۔قانون ساز اسمبلی کے سپیکر کویندر گپتاکے علاوہ وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی،امور نوجوان و کھیل عمران رضاانصاری ، قانون ساز شیام چودھری ، گگن بھگت او ررمیش اروڑہ وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ ڈویژنل کمشنر جموں ، آئی جی، پی ایس ایف جموں اور سیکرٹری محکمہ سیاحت بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔سچیت گڑھ وارد ہوتے ہوئے وزیراعلیٰ کو بی ایس ایف کے ایک دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ انہوں نے سرحدی چوکیوں کا بھی دورہ کیا اور وہاں دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا۔ سچیت گڑھ کو سرحدی سیاحت کے لئے بہتر مقام قرار دیتے ہوئے مفتی محمد سعید نے کہا کہ وہ سچیت گڑھ کو سرحد کے آر پار سفر اور تجارت کے دائرے میں لانے کے معاملے کو مرکزی وزارت برائے داخلہ کے ساتھ اٹھائیں گے، جو کہ ہندو پاک کے مابین اعتماد سازی کا ایک بہت بڑا قدم ہوگا۔مفتی محمد سعید نے سلام آباد اور چکاداں باغ کے اپنے گذشتہ دورے کے دوران حد متارکہ کے آر پار سفر و تجارت کو توسیع دینے کی خواہش کو اظہار کیا تھاجس پر ہند و پاک کی جوائنٹ ورکنگ گروپ میٹنگوں میں وقتاً فوقتاً تبادلہ خیال ہوا ۔وزیر اعلیٰ نے دورے کے دوران میڈیا افراد کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سچیت گڑھ میں سیاحوں کی آمد میں اضافہ کرنے کے لئے اضافی سہولیات قائم کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا’’اگر ہم سچیت گڑھ کو سیالکوٹ کے ساتھ صنعتی تجارتی مرکز کے طور پر کھولنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ باہمی رشتوں کو مضبوط بنانے کے لئے ایک بہت بڑا قدم ثابت ہوگا۔ ‘‘وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے علاقہ کو مزید دلکش بنانے کے لئے ایک تفریحی پارک اور میوزیکل فوارے نصب کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے آر ایس پورہ اور سچیت گڑھ کے مابین 7کلومیٹر سڑک کے حصے کی اور لیننگ کا معاملہ بی آر او حکام کے ساتھ اٹھانے کی بھی متعلقہ حکام کو ہدایت دی جس سے اس سرحدی قصبے میں سڑک رابطہ سہولیات میں مزید بہتری آئے گی۔اُنہیں بتایا گیا کہ سچیت گڑھ کو ایک سیاحتی مرکز کے طور ترقی دینے کے لئے بنیادی ڈھانچے کے قیام کے لئے زمین دستیاب رکھی گئی ہے۔محکمہ سیاحت کے حکام کو پروجیکٹ پر عمل آوری کے لئے اراضی کی ضرورت کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کے لئے کہا گیا۔ ڈویژنل کمشنر نے یقین دلایا کہ زمین کے حصول کا کام تیز تر بنیاد وں پر عمل میں لایا جائے گا۔ مفتی محمد سعید کو مرکزی وزارت سیاحت کی سودیش درشن سکیم کے خدو خال کے بارے میں جانکاری دی گئی جس کے تحت سچیت گڑھ کو سرحد سیاحتی منزل کے طور ترقی دی جائے گی۔ پروجیکٹ کے لئے 4.92کروڑ وپے منظور کئے گئے ہیں ، جس کے تحت پرانی چنگی چوکی ، جو برطانوی دور میں تعمیر کی گئی تھی ،کی بحالی کثیر المقاصد ہال کی تعمیر ، تالابوں کی دیدہ ذیبی اور باغچوں کی آرائش کی جائے گی۔آر ایس پورہ سیکٹر میں ہند و پاک کے بین الاقوامی سرحد سے متصل سچیت گڑھ سرمائی دارالخلافہ سے محض 28کلومیٹر دور ی پر واقع ہے۔سچیت گڑھ کو سرحدی سیاحتی منزل کے طور پر فروغ دینے سے جموں میں سیاحت کو کافی فروغ حاصل ہوگا۔میڈیا افراد کے ساتھ مختصر بات چیت کے دوران وزیر اعلیٰ نے کٹرہ تک براہ راست ریل سروس شروع ہونے سے جموں نظر انداز ہونے کے خدشات کو دور کر تے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت جموں کو ایک آزاد سیاحتی منزل کے طور ترقی دینے کے لئے ہرممکن قدم کو شش کر رہی ہے۔وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے جموں شہر کے لئے سو دیش درشن سکیم کے تحت ہمالین سرکٹ کے تحت مرکزی وزارت سیاحت کی جانب سے منظور کئے گئے دو مزید پروجیکٹوں کا معائینہ کیا۔ وزیر اعلیٰ باغ باہو بھی گئے جہاں میوزیکل آبی فوارے ، ساؤنڈ اینڈ لائیٹ شو کے ساتھ 10.82لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے جموں کے بہترین تفریحی منزل کے ماحول سے مطابقت رکھنے کے لئے دیودار اور ٹیک لکڑی کی نشستیں نصب کرنے کی ہدایت دی ۔لیزر فونٹن شوکے علاوہ پروجیکٹ کے تحت آئیر کنڈیشن ویونگ گیلری او راحاطے کو سولر لائیٹوں سے چراغاں کیا جارہا ہے۔وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ اس پروجیکٹ پر کام اگلے سال 18دسمبر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔بعد میں وزیراعلیٰ نے سدھرا گالف کورس سے متصل ایمیوزمنٹ واٹر پارک کا بھی دور ہ کیا۔پروجیکٹ کو وزارت برائے سیاحت نے منظور ی دی ہے اور 8کروڑ روپے کی لاگت سے پروجیکٹ کے تحت اوپن فوڈ کورٹ ، جھرو کے ، اوپن آئیر تھیٹر اور سوئینئر کیوسکس قائم کئے جائیں گے اورباغیچوں کی آرائش کی جائے گی۔مختلف تکنیکی تعلیم و تربیتی اداروں کا دورہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے ہنر اور روزگار کے مابین حائل خلا کو پُر کرنے پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں میں روزگار موافق مضامین شروع کرنے کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے ۔ زنانہ پولی ٹیکنیک اداروں اور انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی چیوٹوں کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰ نے طلاب کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جو ان اداروں میں آٹو موبائیل اور میکنیکل انجینئرنگ ، کاسموٹالاجی ، کمپیوٹر ، پری سکول ٹیچنگ ،طبی ٹیکنالو جی اورٹیکسٹائل میں ڈپلوما اور قلیل المدتی کورسوں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔علاقہ میں کھیل کود کے بنیادی ڈھانچے پر جاری کام کا موقعہ پر ہی جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کے کے ہکھوہاکی سٹیڈیم کا دورہ کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ سٹیڈیم میں 6641 مربع فٹ پر محیط پویلین کی تعمیر پر 1.35کروڑ روپے صر ف کئے جارہے ہیں۔مفتی محمد سعیدنے ایم اے ایم کالج میں انڈور سپورٹس سٹیڈیم پر جاری تعمیراتی کام کابھی جائزہ لیا۔ پروجیکٹ کے لئے مرکزی وزارت برائے کھیل کودنے 6.42کروڑ روپے منظور کئے ہیں اور اگلے سال ماہ مارچ میں اس کی تکمیل متوقع ہے۔وزیر اعلیٰ نے ایم اے ایم کالج میں توسیع شدہ سوئمنگ پول کابھی معائینہ کیا جس پر 1.75کروڑ روپے صرف کئے گئے ہیں ۔ پول جو اب تمام جدید سہولیات سے آراستہ ہے، میں قومی تیراکی مقابلوں کا انعقاد کیا جاسکتا ہے۔ اس موقعہ پر ڈپٹی کمشنر جموں، وزیر اعلیٰ کے سیکرٹری ، ناظم سیاحت جموں ، ڈائریکٹر تکنیکی تعلیم اور سیکرٹری سپورٹس کونسل موجود تھے۔