سرورق مضمون

سڑکیں بند ، بجلی بند ، پانی بند، اسکول بند / ریکارڈ توڑ برف باری133حکومت کا اتا پتا نہیں

سڑکیں بند ، بجلی بند ، پانی بند، اسکول بند / ریکارڈ توڑ برف باری133حکومت کا اتا پتا نہیں

ڈیسک رپورٹ
12 مارچ کو کشمیر میں اس وقت سارا کاروبار ٹھپ ہوکررہ گیا جب شدید برف باری کی وجہ سے سڑکیں بند ہوگئیں ، بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے اور کئی رہائشی مکانات دب کر رہ گئے ۔ کولگام کے بالائی علاقوں میں سب سے زیادہ تین سے چار فٹ تک برف باری ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح جنوبی کشمیر اور سرینگر میں بھی کافی برف باری ہوئی ۔ اس دوران مکان دب جانے اور پسیاں گر آنے سے سترہ افراد کے مارے جانے اور کروڑوں روپے مالیت کے نقصان ہونے کی اطلاع ہے ۔ لوگ نالاں ہیں کہ حکومت کا کوئی ذمہ دار وادی میں موجود نہیں تھااور وزیر اعلیٰ سمیت تمام وزراء وادی سے باہر موج مستیاں منارہے تھے ۔ لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سرینگر کے بعض علاقوں میں تین دن تک بجلی بحال نہیں کی جاسکی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دوردراز علاقوں میں لوگوں کو کس طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بڑی سڑکوں سے اگرچہ جلد ہی برف ہٹالی گئی تاہم اندرونی سڑکیں پہلے برف کی وجہ سے اور پھر پانی جمع ہونے کے باعث کئی روز تک بند رہیں۔ اس وجہ سے لوگ گھروں کے اندر بند ہوکررہ گئے۔ اگرچہ اس سال پورے سرما کے دوران وقفے وقفے سے برف باری ہوتی رہی تاہم اس سے اس قدر نقصان نہ ہوا جتنے نقصان کا سامنا تازہ برف باری سے اٹھانا پڑا۔ یہ اپنی نوعیت کی شدید برف باری تھی اور لوگوں کے لئے کسی آفات سماوی سے کم نہ تھی۔
کشمیر عام طور پر مصائب کے ایسے موقعوں پر باقی ملک سے کٹ کررہ جاتا ہے ۔ حالیہ برف باری کے وقت بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ۔ زمینی راستے منقطع ہونے کے علاوہ ہوائی رابطہ بھی قائم نہ رہ سکا ۔ ڈویژنل کمشنر نے دو دن پہلے ضلعی حکام کو امکانی برف باری کے لئے تیار رہنے کی ہدایات دی تھیں۔ لیکن عین موقع پر یہ سب کچھ سراب ثابت ہو ا۔ کہیں پر کوئی خاص انتظامی سرگرمی دیکھنے کو نہ ملی ۔ قومی شاہراہ پر درخت گر آنے کی وجہ سے اس کو شام دیرگئے تک بڑی مشکل سے آمد رفت کے لئے کھولا جاسکا۔ تاہم کئی مقامات پر ٹریفک جام کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔ تعلیمی ادارے سولہ مارچ تک بند کئے گئے اوربجلی حسب معمول کئی دن تک غائب رہی ۔ بروقت امدادی سرگرمیوں کا کہیں نام و نشان نظر نہ آیا۔ اس بات نے لوگوں کو مزید پریشان کردیا۔ کہیں سے بھی کسی طرح کی کوئی امداد مہیا نہ کی جاسکی ۔ غیر جانبدار ذرایع کا کہنا ہے کہ سترہ لوگ مارے گئے جبکہ کروڑوں روپے مالیت کی جائداد کا نقصان ہوا۔ پچھلے کئی سالوں کے دوران یہ برف باری سے ہوا سب سے زیادہ نقصان ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ برف باری کس قدر شدید تھی اور لوگوں کی پریشانی بلا وجہ نہ تھی ۔ اس کے باوجود انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی ۔ یہ ایک بحرانی صورتحال ہے جس پر قابو پانا از حدضروری ہے ۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ کئی روز تک موسم خراب رہنے اور مزید برف باری کا امکان ہے ۔ اس دوران حکومت کی بے حسی موجود رہی تو ظاہر سی بات ہے کہ لوگوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یہ انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ یہاں حکومتی مشنری عوامی مشکلات سے بے نیاز ہوکر بیٹھی ہوئی ہے۔ لوگوں کی امداد پر اتنے زیادہ فنڈس فراہم کئے جارہے ہیں لیکن زمینی سطح پر کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فنڈس عوام تک پہنچنے کے بجائے درمیان میں ہی کہیں غائب ہوجاتے ہیں۔ آخر عوام کب تک صبر سے کام لیتے رہیں گے ۔ کسی نہ کسی مرحلے پر عوام بے قابو ہوجائیں گے ۔ پھر انہیں قابو کرنا مشکل ہوجائے گا ۔