سرورق مضمون

سیاستدانوں کے کتنے چہرے

یوسف ندیم

ریاستی عوام خاص کر کشمیری ستمبر 2014 کے تباہ کُن سیلاب کے ابھی کانٹے بھی نہیں نکالے کہ ان پر اسمبلی الیکشن کے پروسس سے گذرنا پڑا، یہاں کی سیاسی جماعتوں خاص کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) نے الیکشن کمیشن آف انڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ ریاست میں فوراً انتخابات کرائیں اور اس طرح سے سیلاب کے خوفناک لہروں سے معصوم کشمیری اگر کچھ حد تو بچ گئے تاہم سیلاب کے فوراً بعد جب انتخابات کا بوجھ ڈالا گیا تو یقینا سیلاب سے ہوئی تباہی کے باعث اس وقت کے حکمران جماعتوں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو نقصان اُٹھانا پڑا تاہم اس وقت کے اپوزیشن پارٹی پی ڈی پی کو سیلاب کی تباہ کاری کا سہرا ملنے کا ضرور خدشہ تھا۔ اسی بلبوتے پر اس پارٹی نے فوراً سے فوراً تر الیکشن کرانے کی مانگ کی۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا ریاست میں الیکشن کرانے پر راضی کیا ہوئے کہ ریاست میں الیکشن نوٹیفکیشن کے نکلتے ہی ابتدائی دنوں میں اگر چہ الیکشن ریلیوں میں تمام سیاسی پارٹیوں نے عوام کو اپنی طرف سے سبزباغ دکھانے شروع کئے تاہم اس دوران پی ڈی پی نے کچھ زیادہ ہی کرتب دکھائے، تقریباً پی ڈی پی کے سبھی لیڈران ان دنوں الیکشن ریلیوں میں بی جے پی مخالف مہم چلانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑے۔ اور تو اور اِس وقت کی وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اُس وقت کئی ریلیوں میں ببانگ دہل یہ بات کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی کہ بی جے پی کو ووٹ دینا براہ راست نریندر مودی کو ووٹ دینا ہے۔ محبوبہ مفتی نے عوام کو خبردار کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ہاتھ ہزاروں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور اس طرح سے بی جے پی کو ووٹ دینا مسلمانوں کے قاتلوں کو ووٹ دینا ہے، یہ ایک زبردست مہم جو محبوبہ مفتی کی قیادت میں اس وقت پی ڈی پی نے بی جے پی کے خلاف چلائی۔ اسی طرح دوسری بڑی پارٹیوں نے بھی ایک دوسری پارٹیوں کو ننگے کرنے کیلئے ایک دوسرے پر الزامات لگا کر اپنے ہی حق میں عوام سے ووٹ مانگنے میں کوئی بھی کثر نہیں چھوڑی۔ تاہم جب ریاست میں انتخابات ہوئے لوگوں نے اگر چہ اتنی فیصدی میں ووٹ کاسٹ نہیں کئے جتنے کہ پی ڈی پی اور دوسری بڑی مین سٹریم پارٹیوں کو امید تھی تاہم جتنی بھی فیصدی میں ووٹ پڑے ان کے نتائج کیا آئے کہ پی ڈی پی 28 نشستوں کے ساتھ ریاست کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے طور اُبھر آئی اور اسی طرح ریاست کی دوسری بڑی پارٹی بی جے پی نے 25 سیٹوں کے ساتھ جیت درج کی۔اس طرح سے ریاست میں دونوں پارٹیوں نے حکومت بنانے کے لئے پہل کی۔ اس دوران کافی عرصہ گذر جانے کے باوجود بھی حکومت بننے کے چانس نظر نہ آئے تاہم کئی مرتبہ نیشنل کانفرنس نے بی جے پی کو اعتماد دینے اور انہیں حکومت بنانے کی پیشکش کی تاہم اگرچہ پی ڈی پی بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے کے لئے پہلے سے ہی تیار تھی مگر بیچ میں ایک وقفہ ضرور دیا گیا جو کہ عوام کے لئے دھوکہ نمبر ایک تھا۔
اب اگر چہ فوراً حکومت بنانے کی کوشش نہیں کی گئی تاہم مفتی محمد سعید نے تقریباً دو مہینے کے بعد جموں کے زور آور سنگھ آڈیٹوریم میں بحیثیت ریاست کے 12 ویں وزیراعلیٰ کے طور حلف لیا۔ مرحوم مفتی محمد سعید اس بات سے واقف تھے کہ ریاستی عوام بی جی پی کے ساتھ پی ڈی پی کے اتحاد کرنے میں خوش نہ تھے تاہم مرحوم بھی ایک غلط فہمی میں ضرور تھے جس کے چلتے مرحوم نے بی جے پی کو ہی حکومت میں شامل کرنے کو ترجیح دی، وہ یہ کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے اور ریاست میں بی جے پی حکومت میں ساجھے دار بنا کر ان سے ایسا فائدہ اٹھایا جائے جس سے ریاستی عوام یہ ضرور بھول جائیں گے کہ مفتی محمدسعید نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے عوام کو دھوکہ کیا ۔ ان کی رائے یہ ضرورتھی کہ مرکز ریاست کو اتنا مالی امداد کرے گا جس سے ریاست میں نہ صرف اچھی خاصی تعمیر و ترقی ہو جائے گی بلکہ یہاں کے لوگ بھی خوشحال ہو جائیں گے تاہم جب مرکز کی طرف سے یہ بھی نہیں ہوا تو ضرور مفتی محمدسعید کو اپنے کئے پر پچھتانا پڑا۔ اتنا ہی نہیں مفتی محمد سعید نے جب وزیراعظم نریندر مودی کو ریاست کی دعوت دے کر کشمیر لایا تاکہ یہاں ان کی ساکھ تھوڑا بہت بچ جائیں ۔ اگر چہ سونہ وار کے سٹیڈیم میں وزیراعظم نریندرمودی کی موجودگی میں کشمیری عوام کو خوش کرنے کیلئے مرحوم مفتی محمد سعید نے وزیراعظم کو اشارہ دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ دوستی کرنے کیلئے کہے اور یوں مفتی محمد سعید نے کہا ہمارے وزیراعظم نریندر مودی پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بٹھانے کے حق میں ہے ، تاہم وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی تقریر کے بعد جب وزیراعظم نریندر مودی نے اپنا خطاب شروع کیا تو اپنے تقریر میں وزیراعظم نریندر مودی نے اس بات کا بھرملا اظہار کیا کہ کشمیر کے بارے میں مجھے کسی کے مشورہ کی ضرورت نہیں یعنی مفتی محمد سعید کو وزیراعظم کی طرف سے منہ پر ہی جواب ملا، تب مفتی محمد سعید مایوس ہوئے اوران کے پاس نہ اظہار ناراضگی کا راستہ تھا اور نہ اور کچھ ،تاہم سلسلہ آگے بڑھتا گیا۔ وزیراعلیٰ مفتی محمدسعید کا معیار بھی آب آہستہ آہستہ کم ہونے لگا ،کیونکہ بی جے پی کے لیڈران مفتی محمد سعید کو خاطر میں نہ لاتے تھے ہاں وزیراعلیٰ مفتی محمدسعید کے پاس وزیراعلیٰ کی Designation کے علاوہ کچھ بھی نہ دکھتا۔ وزیراعلیٰ ہونے کے ناطے انہیں جے کے بنک کے اے ٹی ایموں کی افتتاح کرنے کے لئے لیتے تھے مطلب یہ کہ جو مفتی محمدسعید کا دبدبہ تھا وہ اب دیرے دیرے ختم ہونے لگا۔ ہاں اب مفتی محمد سعید اپنا عزت بچانے کے لئے حکومت کی سربراہی ضرور کرتے رہے، بالآخر مفتی محمد سعید کی صحت اچانک بگڑ گئی اور انہیں علاج و معالجہ کے لئے بیرون ریاست لینا پڑا، جہاں وہ کئی دنوں تک زیر علاج رہنے کے بعد اس دنیا سے چل بسے۔ اس طرح سے بی جے پی پی ڈی پی والی سرکار کا ایک طرح سے خاتمہ ہوا۔ ریاست میں گورنر راج کا نفاذ عمل میں لایا گیا، تقریباً دو مہینے کا وقفہ گذر جانے کے بعد بھی ریاست میں سیول حکومت قائم نہ ہوئی۔
ریاست میں وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کے فوت ہو جانے کے بعد گورنر راج نافذ کیا گیا اور اس دوران محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے میں ناراضگی دکھائی تاہم جب اپنی ہی پارٹی کے چند ایک ممبران نے ادھر اُدھر کرنا شروع کیا تو مجبوراً محبوبہ مفتی کو دلی کا رُخ اختیار کرنا پڑا، وہاں بی جے پی لیڈران کے ساتھ ملاقات کر کے ریاست کو پائور پروجیکٹوں کی واپسی کے شرط پر حکومت بنانے پر رضا مندی دکھائی تاہم جب محبوبہ مفتی کی یہ مانگ بھی بی جے پی لیڈران نے خاطر میں نہیں لائی تو مجبوراً انہوں نے بھی اقتدار کے لئے پرانے ہی تنخواہ پر کام کرنے کی رضا مندی ظاہر کی۔ تو ظاہر سی بات ہے یہ دھوکہ نمبر دو ہے جو محبوبہ مفتی نے از خود عوام کو دیا۔ تاہم محبوبہ مفتی نے بحیثیت وزیراعلیٰ حکومت کی بھاگ ڈور سنبھالی اور یوں وزیراعلیٰ کی Desigination کو دو دو ہاتھوں سے باندھ کرکے رکھا، محبوبہ مفتی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد ابتدائی مہینوں میں ہی یہاںایک لہر چلی کی حکومت ریاست میں سینک اور پنڈت کالنیاں بنانے کے حق میں ہے،جس کا چرچہ ریاست کی اسمبلی میںبھی رہا، اس دوران حزب اختلاف کے لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے سینک اور پنڈت کالنیوں پر سوال اٹھایا تاہم اس کا دفاع کرتے ہوئے اگلے روز وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے قانون ساز اسمبلی میں عمر عبداللہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کبوتروں اور بلیوں کو ایک ساتھ نہیں رکھ سکتا۔ یعنی کبوتر کشمیری پنڈتوں اور بلی کشمیری مسلمانوں کو لقب دے کر محبوبہ مفتی غلطی نمبر تین سے گذرگئی تھی۔ اس کے بعد سلسلہ آگے بڑھتا گیا علیحدگی پسندوں کی طرف سے ریاستی سرکار کو خبردار کیا گیا کہ حکومت کے ان اقدام سے ریاست میں سنگین نتائج نکل سکتے ہیں اور اس طرح سے ایک آواز سی بن گئی کہ عید کے بعد پتہ نہیں ریاست میں کیا ہوگا، بہر حال ماہ رمضان گذر جانے کے بعد تیسری عید یعنی8 جولائی کو حزب المجاہدین کے معروف اور کم عمر کمانڈر برہان وانی کے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ جان بحق ہونے کی خبر کیا آئی کہ پورا کشمیر برہان کی ہلاکت کو لے کر اُبل پڑا۔ا س دوران حزب المجاہدین کمانڈربرہان وانی کی ہلاکت کی خبر آنے کے ساتھ ہی ایک طرف حکومت نے بندشوں کا اہتمام کیا تو دوسری طرف لوگ جوق در جوق برہان وانی کے جنازے میں شرکت کی غرض سے جمع ہو رہے تھے۔ اس دوران فورسز نے بے تحاشہ طاقت کا استعمال کر کے متعدد شہری ہلاکتوں کو انجام دیا اور انتظامیہ نے پوری وادی میں لگاتار کرفیو نافذ کیا۔ تقریباً32 دنوں تک لگاتار ہڑتال، کرفیو اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد مجبوراً راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے کشمیر کی صورتحال پر بحث کرنے کی مانگ کی۔ اپوزیشن کی لگاتار مانگ کو مد نظر رکھتے ہوئے 10 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کے مدعو کو لے کر ایک زبردست بحث چھیڑا گیا جس میں اپوزیشن لیڈر اور سابق ریاست کے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے کشمیریوں کے کئی مدعوں کی طرف ایوان کی توجہ مبذول کرائی، تاہم بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈر ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور بھارت کو کبھی گولیاں بند کر کے اس مسئلہ کو حل کرنا ہوگا اس دوران ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا کہ کشمیر بھارت میں ضم نہیں ہوا ہے بلکہ بھارتی وفاق کے ساتھ اس کے تعلقات دفعہ 370کے تابع ہیں کرن سنگھ نے کہا ’ میرے والد نے تین باتوں پر حامی بھری، اس میں دفاع، مواصلات اور خارجی امور، بھارت نے اسی طرح دیگر ریاستوں کے ساتھ بھی دستاویزات پر دستخط کئے یہ تمام ریاستیں بھارت میں ضم ہوئی لیکن ریاست جموں وکشمیر ضم نہیں ہوئی۔ اس طرح سے راجیہ سبھا میں کشمیر کے مدعو کو لے کر بحث بھی بے سود نکلا۔
اس دوران 15 اگست کی تقریب کے سلسلے میں انتظامات ہو رہے تھے اور کشمیر میں بھی حسب روایت اس دن15 اگست کی سب سے بڑی تقریب بخشی سٹیڈیم میں منعقد کی جارہی تھی ۔ مگر وادی میں نا مساعد حالات کے چلتے لگاتار کرفیو رہنے سے عام زندگی ایک طرح سے مفلوج ہو کر رہی گئی۔ عوام حکومت سے شہری ہلاکتوں کو لے کر سخت نالاں ہیں اور عوام جان و مال کی سلامتی کیلئے فکرمند تھا ۔ اس دوران37 دنوں کے لگاتار کرفیو کے باوجود بھی15 اگست کی بخشی سٹیڈیم تقریب میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی غلطی نمبرچار کے مرتکب ہو رہی تھیں، وزیراعلی محبوبہ مفتی کا تقریر میں نوجوانوں کے خلاف سخت لہجہ نوجوانوں میں مزید اشتعال کا سبب بنا۔
ادھر وادی میں لگاتار پیلٹ فائرنگ سے آئے روز یا تو شہری ہلاکتیں ہوتیں یا درجنوں زخمی ہوتے ہیں، اس دوران وادی میں سنگین صورتحال کے چلتے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے وادی میں لگاتار کرفیو، بندشوں اور ہڑتال کے چلتے کشمیر کادو روزہ دورہ کیا، دورے کے اختتام پریعنی لگاتار کرفیو کے 48 دن کے بعد قریباً68 شہری ہلاکتیں اور قریباً دس ہزار لوگوں کے زخمی جن میں سے سینکڑوں افراد بینائی سے بھی محروم ہوئے، ہونے کے بعد وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ساتھ میڈیا کے سامنے آئیں اور ایک مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں محبوبہ مفتی کوغلطی نمبر پانچ سرزدہوئیں۔ وزیراعلیٰ نے پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو بولنے نہ دیا اور خود پریس پر برس پڑی۔ اور زور زور سے چلانے لگی کہ جو لوگ مارے گئے وہ کیا ٹافی یا دودھ لانے کیمپوں پر گئے حالانکہ یہ بات بھی درست ہے کہ 2010 میں ایسی ہی ہلاکتوں پر محبوبہ مفتی آئے روز حکومت کے خلاف احتجاج کرتی دیکھی گئی مگر آج یہی سوال پوچھنے پر وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے میڈیا پر غصہ کیا۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے لہجہ کو سمجھتے ہوئے وزیر داخلہ نے پریس نمائندوں سے کہا کہ وزیراعلیٰ تو آپ کی اپنی ہے۔ یہاں پر ہم اس بات کی طرف مائیل ہوتے ہیں کہ سیاست دانوں کے چہرے الگ الگ موقعوں پر مختلف ہوتے ہیں۔
اس طرح سے فی الحال عید سے عید تک ہڑتال کرفیو اور بندشوں کا سلسلہ جاری رہا۔