اداریہ

سیاست۔۔۔ کیسا ہے تیرا رنگ وروپ؟

پی ڈی پی اور بی جے پی کا تقریباً حکومت بنانا طے ہے اور اگلے ہفتے میں سارا کچھ منظر عام ہوگا۔ پی ڈی پی نے حکومت بنانے میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی پیشکش کو ٹھکرا کر بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانا بہتر سمجھا۔23 دسمبر کو اسمبلی کے چناؤ نتائج سامنے آئے اور ریاست میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پی ڈی پی اُبھر کر آئی جس کو 28 نشستیں حاصل ہوئیں۔ مگر حکومت بنانے میں پی ڈی پی کو اور سولہ ممبران کی حمایت ضروری ہے۔ پی ڈی پی کو حکومت بنانے کا کئی پارٹیوں نے آفر کیا تھا۔ نیشنل کانفرنس کے پاس بھی پندرہ اراکین اسمبلی موجود ہیں اور کانگریس کے پاس بھی بارہ ممبران ہیں۔ دونوں پارٹیوں نے اگر چہ پی ڈی پی کو بلا کسی شرط کے حمایت دینے کا اعلان کیا تھا تاہم پی ڈی پی نے دونوں پارٹیوں کی پیشکش مسترد کی اور بی جے پی کے ساتھ ملاپ کا اندیشہ دیا۔ اس طرح سے پی ڈی پی نے دونوں پارٹیوں کو اقتدار سے باہر کیا۔ پی ڈی پی نے ان دونوں پارٹیوں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو یہ کہہ کر ان کی پیشکش کو ٹھکرا یا کہ ان دونوں پارٹیوں کو عوام نے مسترد کیا تو پی ڈی پی کیسے ان پارٹیوں کو حکومت میں شامل کرے گی۔ یہ بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ الیکشن کے دوران ریلیوں، چناؤ جلسوں اور تقریبات پر ایک طرف پی ڈی پی لیڈران نے عوام کو اپنے امیدواروں کے حق میں ووٹ مانگے دوسری طرف حریف جماعتوں نیشنل کانفرنس ، کانگریس اور بی جے پی کے خلاف عوام کو ووٹ ڈالنے کی تاکید کی۔ الیکشن ریلیوں میں اگر چہ پی ڈی پی لیڈران نے عوام کو بے دار کرنے کی کوشش کی کہ عوام اس بار بدلاؤ کیلئے ووٹ دیں۔ نیشنل کانفرنس ،کانگریس اور بی جے پی کو ہرگز اب کی بار اقتدار میں نہ آنے دیں اور ساتھ ساتھ اس بات کا بھی ڈھونڈورہ پیٹا گیا کہ نریندر مودی کا مشن 44+ کے خواب کو چکنا چور کیا جائے ۔ الیکشن ریلیوں میں پی ڈی پی کی طرف سے یہاں تک بھی کہا گیا کہ بھاجپا کی سرکار فرقہ پرستوں کا ایک ایسا ٹولہ ہے جن کے ہاتھ معصوم انسانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور ریاست کے لوگ بی جے پی کے کرتوتوں سے واقف ہیں۔ عوام میں ایک طرح کا شوشہ ڈالا گیا کہ اگر عوام نے فرقہ پرست جماعت بی جے پی کو ووٹ دیا تو آئندہ اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ ادھر بی جے پی لیڈر اور وزیراعظم نریندر مودی نے بھی الیکشن ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب ملک اور ریاستوں میں خاندانی راج کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ باپ اور بیٹا، باپ اور بیٹی خاندانی راج کا اب بس کرو۔ پی ڈی پی لیڈران نے ایک طرف الیکشن کے وقت عوام کوبھاجپا کے مشن کو کامیاب کرنے کیلئے خبردار کیا دوسری طرف اب پارٹی نے اقتدار کے مزے لوٹنے ،مفادات اور مرعات حاصل کرنے کیلئے بی جے پی کے ساتھ ملاپ کیا جو بقول اُن کے فرقہ پرست جماعت تھی۔ عوام نے ایک طرف نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے خلاف ووٹ دیا دوسری طرف صوبہ کشمیر کے پچاس فیصدی سے زائد ووٹ ڈالنے والوں نے بی جے پی لہر کے خلاف ووٹ دیا جن کے توقعات اب چکنا چور ہورہے ہیں۔ نیشنل کانفرنس، کانگریس دودھ کا دھولا نہیں مگر بی جے پی بھی کشمیریوں کی ہمدرد جماعت نہیں ہوسکتی ہے۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ایسے ویسے اگر اس بار بی جے پی کے ملاپ سے پی ڈی پی اقتدار میں آئی مگر آئندہ کیلئے یہ پی ڈی پی کیلئے خاص کر مہنگا ثابت ہو سکتا۔ کشمیر صوبے میں پچاس فیصدی سے زیادہ ووٹ ڈالنے والوں نے اس بار اگر بی جے پی لہر کو روکنے کے لئے ووٹ دیاتاہم ان کی خواہشات کا احترام نہیں کیا گیا تو ان کے من پر کیا بیتے گا وہ تو وہی جانے۔ان کے من پر آج کیا گذرتا ہوگا کہ اُسی پارٹی کو اقتدار میں لایا گیا جس کے خلاف انہوں نے ووٹ دیا۔ وہی پارٹی اب اقدار میں آرہی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ آئندہ یعنی اگر یہ چھ برس کی مدت اقتدار میں اچھی طرح سے گذرے تو بعد از چھ برس اس کے نتائج کیا نکل سکتے ہیں اس کے لئے پی ڈی پی کو تیار رہنا ہی ہوگا۔ ویسے کہتے ہیں نا جو وٹیا سو کٹھیا۔ عندیہ تو یہی ہے کہ بی جے پی ، پی ڈی پی کے لئے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے اور بی جے پی پی ڈی پی کی جو درگت بنائی گی اس سے پارٹی کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ اور تو اور پی ڈی پی قیادت کو غیرت، ضمیر اور حس انہی کے پاس گروی رکھنی پڑے گی تب ہی تو وہ پورے چھ سال تک اقتدار پر رہنے دیں گے۔