اداریہ

سیاست میں سب کچھ جائز

کہتے ہیں سیاست میں سب کچھ جائز ہے ۔ اس پر دھیرے دھیرے جموں کشمیر کےہر کسی شخص کوتجربہ ہو رہا ہے کیونکہ آئے دن اس طرح کی خبریں گشت کر رہی ہے جس سے خاص تو خاص عام لوگ بھی اب واقف ہو رہے ہیں۔ یہ بات بہت پرانی ہوچکی ہے کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔ اب بات بدل کر یہ بن چکی ہے کہ سیاست میں سب کچھ جائز ہے کہ اب سیاست ہی محبت ہے اور سیاست ہی جنگ ہے۔ ہم ہر طرف سے سیاسی جنگ میں مبتلا ہیں اور سیاستدان عوام سے سیاسی محبت کے دعوے کرتے پھر رہے ہیں۔ اس دور میں بھی یہ عوام اپنے سیاستدانوں کی ہر بے سروپا بات اور بے وزن دلائل کو غور سے سنتے ہیں اور کچھ حد تک ان باتوں پر یقین بھی کرتے ہیں اور جب تک کوئی نئی بات نہ آجائے وہ گفتگو زیربحث رہتی ہے۔ حالانکہ سیاست کا پیشہ اسی لیے اختیار کیا جاتا تھا کہ عوام میں شعور پیدا کیا جائے۔ انہیں آگہی دی جائے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ سیاست دانوں کا پیشہ عوامی بہبود اور خدمت سے جڑا ہوا ہے،لیکن اب سیاست ” خدمت” اور ” تربیت” سے نکل کر ایک ” تماشے ” کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ جس میں تماشہ کرنے والے کا مقصد صرف یہ ہوتا کہ میں کچھ نہ کچھ ایسا کرتا رہوں کہ لوگوں کی توجہ صرف میری طرف ہو ۔ ہمارے سیاستدان بس اسی کام پرلگے ہوئے کہ وہ کس طرح اقتدار حاصل کریں۔ بقول مرحوم مفتی محمد سعیدسیاست میں کل کا دوست آج دوست نہیں ہو سکتا اور آج کا دشمن کل کا دوست ہو سکتا ہے یعنی سیاست میں سب کچھ جائز ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں کے سیاست دان دل بدلی کے ماہر ہیں، ہمارے سیاست دان اس بات کے لئے ماہر مانے جاتے ہیں۔ دل بدلی ان کا مشغلہ سا ہے۔ یہ دَل بدلی یہ لوگ تب شروع کرتے ہیں جب ان کا موجودہ دل یعنی جماعت یا پارٹی میں کوئی مفاد نظر نہیں آتا تب یہ دل بدلی کےلئے ہاتھ پائوں ضرور مارتے ہیں۔ ایک پارٹی میں ان کا اقتدار چلے جانے سے ان کا چین سکون بھی چلا جاتا ہے۔ اسی لئے دوسرے طریقوں سے اقتدار تک پہنچنے کے لئے کسی دوسری پارٹی کا سہارا لینے کی ضرورکوشش کرتے۔ اتنا ہی نہیں اقتدار حاصل کرنے کے لئے چاہئے ان کو کوئی بھی حربہ کیوں نہ آزمانہ پڑے ضرور آزماتے ہیں۔ تازہ واقعے معروف سیاست دان، قانون دان اور سابق نائب وزیراعلیٰ مظفر حسین بیگ کا سامنا آیا۔ انہوں نے پیپلز کانفرنس میں باضابطہ شمولیت اختیار کی حالانکہ کہاجاتا ہے کہ مظفر صاحب پیپلز کانفرنس کے ابتدائی راہنما تھے تاہم انہوں نے بھی اُن ایام میں پیپلز کانفرنس سے کنارہ کشی اختیار کی تھی جب انہیں اس پارٹی میں کوئی خاص مفاد باقی نہ دکھا اور آج دوبارہ گھر واپسی کا مطلب اس پارٹی سے مفاد ہی وابستہ ہوں گے۔ بیگ صاحب نے اسے پہلے مفتی محمد سعید کی پارٹی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے اقتدار حاصل کیا۔ انہیں اس پارٹی نے نائب وزیراعلیٰ کی کرسی پر براجمان کیا اور کئی برسوں تک بیگ صاحب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پر چھایا رہا۔ پی ڈی پی کا اقتدار چلا گیا اور بیگ صاحب نے بھی اسی کے ساتھ پی ڈی پی کے ساتھ کنارہ کشی یعنی پارٹی کو خیرباد کہنے کے لئے من کیا بنایا بلکہ انہوں نے پی ڈی پی کو خیر باد کہا اور اس کے بعد اگر چہ کئی حلقوں کی رائے تھی کہ بیگ صاحب اپنی پارٹی بنانے جا رہا ہے تاہم عوامی حلقوں کی یہ رائے اس وقت تبدیل ہوئی جب بیگ صاحب پیپلز کانفرنس میں شامل ہوئے اور سجاد غنی لون نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بیگ صاحب کی گھر واپسی ہوئی ہے۔یہاں پر عوامی حلقے اس کا کیا مطلب نکال رہے ہیں اور کئی حلقے اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ بیگ صاحب کی پیپلز کانفرنس میں شامل ہونا اور سجاد صاحب کا بیگ صاحب کو پیپلز کانفرنس میں شامل کرنا دونوں کی مصلحت اورضرورت ہیں۔ یہ مصلحت اور ضرورت کیا ہیں ؟ اس کا ابھی بظاہر خلاصہ نہیں ہواہے البتہ عندیہ ہے کہ اس کے پیچھے ضرور کچھ ایسے راز پوشیدہ ہیں جس کے چلتے دونوں لیڈران آپس میں مل رہے ہیں۔ یہ راز کب افشا ہوں گے اس کے بارے میں وثوق سے کچھ کہا نہیں جا سکتا ہے تاہم کئی حلقے اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ بیگ صاحب ایک منجھا ہوا سیاست دان ہے اور انہوں نے سوچ سمجھ کر پیپلز کانفرنس میں شمولیت اختیار کی ہوگی۔ اس طرح کے بھی خدشات ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ بیگ صاحب کی پیپلز کانفرنس میں شمولیت سے پیپلز کانفرنس کا بڑا فائدہ ہو سکتا ہے۔ اسے کہتے ہیں کہ سیاست میں سب کچھ جائز ہے۔