اداریہ

سیاسی پینترا بازی

ضلع ترقیاتی کونسل کےانتخابات اختتام پذیر اور نتائج منظر عام پر کیا آئے کہ ہر طرح سے سیاسی پینترا بازی شروع ہوئی۔ نتائج کے بعد سیاسی لیڈروں کا زیادہ ہی کچھ اچھل کود ہونا شروع ہوا، یہ الگ بات ہے کہ سیاسی لیڈران اپنی اپنی ہنر دکھانے میں ہرگز کوئی جھجک نہیں کرتے۔ آج تک یہی دیکھا گیا جس کی جتنی زیادہ ہنر ہے وہ اتنا ہی زیادہ کامیاب ہوتا جا رہا ہے۔ بے بس سادہ لوح عوام کو ہر وقت سبز باغ دکھائے گئے۔حالانکہ سادہ لوح عوام ان کی سبزباغ دیکھنے کا شکار کیوں نہ ہو جائے کیونکہ ہمارے سیاسی لیڈروں کے پاس ایسے کرتب جو ہیںکہ وہ اپنے عوام کو ہر وقت دھوکہ دیہی کا شکار کرتے ہیں۔ ایک لیڈر کو آزما کر دوسرے لیڈر کی طرف راغب ہونا سادہ لوح عوام کی عادت بن گئی ہے جب یہ لوگ دوسرے کو بھی آزماتے ہیں تو دوسرا لیڈر بھی وفا نہ کر سکے، اس طرح سے پارٹی اور لیڈر بدلنے میں عوام بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں۔ بالآخر معاملہ پھر وہی پہنچ جاتا ہے کہ نئی بوتل میں پرانی شراب ۔
آج بی ڈی سی انتخابات میں بھی کئی سیاسی جماعتوں کےاتحاد یعنی گپکار الائنس نے جموں وکشمیر کی منفرد شناخت کو بحال کرنے کے ایجنڈے کو لوگوں کے سامنے رکھ کر ووٹ حاصل کئے۔ اسی طرح آزاد امیدواروں نے اس طرح کی بولی بول کر لوگوں سے ووٹ حاصل کئے اور تواقعات کے عین مطابق نتائج آئے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جس کا مرکز کے ساتھ ساتھ کئی ریاستوں میں راج قائم ہے نے جموں صوبہ میں حسب روایت اکثر نشستوں پر جیت درج کی جبکہ وادی کشمیر میں جہاں کئی سال قبل بی جے پی کا کوئی وجود ہی نہ تھا اور اس بار تین نشستوں پر فاتح ہوئی حالانکہ یہ بات بھی ہے کہ وادی میں بی جے پی کا رجحان نہ ہونے کے برابر تھا مگر زمینی سطح پراس کے برعکس ہوا اور بھاجپا بھی کشمیر وادی میں اپنا کھاتہ کھولنے میں کامیاب ہوا۔ اس طرح اعداد شمار کے مطابق 50نشستوں پرآزاد امیدواروں نے جیت درج کی ۔ ’’ اپنی پارٹی‘‘ کا بھی زمینی سطح پر پذیرائی ہوئی اور وہ بھی 12نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔یہ بات غور طلب ہے کہ انتخابی مہم کے دوران باقی امیدواروں کے علاوہ گپکار الائنس جو کئی سیاسی پارٹیوں کا ایک مشترکہ اتحاد و پلیٹ فارم ہےنے لوگوں سے وعدے کئے کہ ان سے چھینے گئے حقوق کی بحالی کیلئے ہرممکن کوشش کریں گے ۔جبکہ آزاد امیدواروں ،اپنی پارٹی کے امیدواروں نے بھی حقوق کی بحالی اور تعمیروترقی کے ایجنڈے کو سامنے رکھ کر لوگوں سے ووٹ حاصل کئے۔حالانکہ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ بی ڈی سی انتخابات روایتی تھے اور امیدواروں نے معمول کے مطابق سبز باغ دکھانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تاہم لوگ ایک بار اور امید رکھتے ہوئے اپنی رائے دہی کا اظہار کیا ۔ مگر اس سے پہلے اسمبلی یا پارلیمانی انتخابات میں انہی سیاستدانوں نے لوگوں کو سبز باغ دکھانے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی تھی۔ آج کا سب سے بڑا دھوکہ ان پارٹیوں نے370اور35Aکو بحال کرنے اور اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے لوگوں سے ووٹ حاصل کئے۔آج ان سیاستدانوں کے پاس کوئی ایجنڈے نہیں تھا لیکن ان دفعات کو ایجنڈا بنا کر ہی انتخابی میدان میں اترے ۔حالانکہ یہ لوگ اقتدار پر برا جماں ہونے کے بعد روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی جھولی بھرنے میں محوہو جاتے ہیں ۔ سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جب اسمبلی انتخابات کے دوران لوگوں کو سبز باغ دکھانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی تو اقتدار میں آتے ہی سارے وعدے یکدم بھول گئے اور یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کہ میرے پاس کوئی جھادو کی چھڑی نہیں کہ عوام کے مسئلے اور مسائل حل کروں۔ اتنا ہی نہیں آج جب بی ڈی سی انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ لیڈران الیکشن یا انتخابات اپنے اقتدار کے لئے لڑتے ہیں البتہ آج کا یہ الیکشن ہم نے جموں کشمیر کی بقا کےلئے لڑا ہے نہ کہ اقتدار کےلئے۔ اسی دوران ان کے والد سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا کہ میں شیر کشمیر یعنی شیر کا بیٹا ہوں، یہ بات انہوں نے این سی کی وادی کشمیر میں بی ڈی سی انتخابات میں زبردست کامیابی پر کہی۔ اسی طرح آج محبوبہ مفتی بھی مرکزی سرکار پر کئی الزامات لگا رہے ہیں یہاں تک کہ گذشتہ روز محبوبہ مفتی ایک زبردست انداز میں پریس کانفرنس میں بول چکی تھی کہ بی جے پی ان پر کئی طرح کے الزامات لگا رہی ہے محبوبہ مفتی نے کہا کہ بی جے پی کو اگر میرے ساتھ مقابلہ کرنا ہے تو وہ سیاسی طور مجھ سے مقابلہ کریں۔ بی جے پی کو اگر مجھ سے لڑنا ہے تو وہ سیاسی طور لڑے میرے رشتہ داروں اور دوستوں کو تنگ طلب نہ کریں،مجھ سے سیاسی طور ہی لڑیں۔ حالانکہ محبوبہ مفتی آج بی جے پی پر کئی طرح کے الزامات لگا رہے ہیں مگر آج محبوبہ جی د ودھ اور ٹافی کی باتیں بھول رہی ہیں۔ اس طرح سے ہر کوئی سیاست دان سیاسی طور پر اپنے اپنے پینترے آزما رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہےکہ تمام سیاسی لیڈروں بشمول عمر عبداللہ ،فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت تمام سیاسی لیڈروں کوچاہئے کہ وہ اپنے اپنے ماضی پر غوروخوض کر کے سوچیں کہ آج ہم کہاں پر ہے اور کل کہاں پرہوں گے؟