اداریہ

سیاسی پینترہ بازی

ریاست کے کئی علاقوں میں قومی تحفظ خوارک قانون کیخلاف احتجاجی لہر بدستور جاری ہے ۔گزشتہ ایک مہینے کے دوران یہا ں یہ کہہ کر راشن کی تقسیم کاری نہیں کی گئی کہ ابھی تک محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے محکمہ نے یہ اعلان نہیں کیا کہ راشن کی سکیل کس طرح ہے۔ حالانکہ کہیں کہیں پر اگر چہ رواں مہینے کی 15 تاریخ کے بعد گھاٹ منشی راشن تقسیم کرنے کے لئے آئے اور صارفین سے کہا کہ 3کلو چاول اور 2کلو آٹا فی فرد میں تقسیم کیا جائے گا جس پر ان علاقوں کے لوگ سراپا احتجاج ہوئے اور راشن لینے سے انکار کیا۔ کئی جگہوں پر لوگ اس بات پر نالاں ہے کہ ایک مہینہ گزر جانے کے باوجود بھی صارفین میں راشن تقسیم نہیں کی گئی کہیں جگہوں پر لوگوں سے کہا گیا کہ وہ تب تک سرکاری راشن لینے سے گریز کریں جبکہ تک نہ اس متنازعہ قانون کو ایک حکم نامہ کے تحت واپس لیا جائے گا اور صا رفین میں فی فرد 11کلو چاول تقسیم کیا جائے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ یہاں آئے روز نت نئے قانون بنائے جاتے ہیں اور آج کی اس کڑی کے تحت اب سرکار نے قومی تحفظ خوارک قانون کو کشمیر میں لاگو کر کے ایک غیر واضع پالیسی اپنائی۔ کئی جگہوں پر محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے ملازمو ں کو خبر دار کیاگیا کہ جب تک سرکار اس قانون سے متعلق اپنی پالیسی واضع نہ کرے،تب تک وہ راشن گھا ٹوں سے راشن تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ حد تو یہ ہے کہ کئی جگہوں پرقومی غذائی تحفظ قانون کے خلاف سیاسی جماعتیں بھی میدان میں کود پڑیں۔ کئی ایک جگہ پر ڈھول بجاکر حکام کو اس کے تئیں بیدار کرنے کی کوشش کی گئی۔ حالانکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے تحت فراہم کی جارہی غذائی اجناس کی مقدار سے ان کی ضروریات پوری نہیں ہونگی، لہٰذا اس قانون کو فوری طور منسوخ کیا جائے۔راشن کی نامعقول تقسیم کاری پر سیاسی پینترہ بازی بھی دیکھئے ،حد تو یہ ہے جن لوگوں نے اس ایکٹ کو ریاست میں لاگو کیا وہ اب حکمرانی کے منصب پر نہ رہے اور آج وہ شہر گام میں زور دار ا حتجاجی لہر کو دیکھ کر یہ کہنے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے کہ ان کی سرکار اس قانون کو یعنی نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ کو عوام دوست بنا کر نافذ کرانا چاہتی تھی۔ ان کے یہ الفاظ اب زیب نہیں دیتا کہ نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ کو گورنر انتظامیہ نے جلد بازی میں نافذ کیا۔ سابق حکمران اس بات کا شوشہ ڈالنے کی کوشش میں ہیں کہ اگر پی ڈی پی سرکار بن پائے گی وہ اس ایکٹ پر دوبارہ سوچ وچار کر کے اس کو مزید عوام دوست قانون بناکر لوگوں کو راحت دینے کی کام کرے گی۔ ان کے مطابق اس ایکٹ کو جلد بازی میں لاگو کرکے لوگوں کو جو پریشانی ہورہی ہے اس کیلئے گورنر انتظامیہ کو وقت سے پہلے ہی باخبر کیا گیا تھا لیکن اب لوگوں کو چنی ہوئی سرکار کا انتظار کرنا چاہئے اور چنی ہوئی سرکار لوگوں کے مفاد کیلئے کام کرکے اس ایکٹ کو ضرور عوام دوست بنانے کو لیکر قدم اٹھائے گی۔ سابق حکمران کا یہ دعویٰ کہ وہ اس ایکٹ میں ترمیم لاکر مستقبل میں عوام دوست بنائے گی ایسا ہرگز ہونے والا نہیں بلکہ یہ محض سیاسی پینترہ بازی ہے جو سیاست دان اکثر وقت پر ضرورت کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ جب حکمرانوں کو عوام کی طرف سے کسی کام پر شاباشی ملتی ہے تو چاہیے وہ کام کس نے بھی اور کب کی ہو وہ اس کام کو اپنے سر باندھتا ہے اور جب اپنی کام پر ان کو عوام کی ناراضگی دکھائی دیتی تو وہ اس کام کو دوسروں کے سر باندھتے ہیں یہی سیاسی پینترہ بازی ہے۔