مضامین

سیب: قدرت کا ایک انمول تحفہ

سیب: قدرت کا ایک انمول تحفہ

ڈاکٹر نثاراحمد بٹ ترالی

حمید اور رشید دو دوست تھے۔ دونوں ہم عمر تھے۔ ایک بار دونوں دوست ایک مشترکہ دوست کی عیادت کے لیے گئے۔ وہاں پر بیٹھے دیگر دوستوں اور رشتہ داروں نے حمید سے کہا کہ آپ کمزور دکھائی دے رہے ہیں، آپ کے جسم میں تھکاوٹ کے آثار نمایاں ہیں۔ آپ کے چہرے کی رونق اور جلد کی چمک دمک ختم ہوگئی ہے آپ کے چہرے پر جھریاں نمودار ہوئی ہیں آپ کی آنکھوں پر وزن دار پپوٹے نظر آرہے ہیں۔ لگتا ہے آپ بوڑھے ہوگئے ہیں آپ کے جسم میں وہ پٹھوں کی مضبوطی اور پھرتیلا پن غائب ہوا ہے۔ گو کہ حمید نے ان سب سے کہا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں لیکن اندر ہی اندر اس کے دل پر پریشانیوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اور وہ جلدی جلدی اپنے دوست رشید کے ساتھ گھر کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں حمید نے رشید سے کہا کہ جو کچھ میرے دوست اور رشتہ دار میرے متعلق کہہ رہے تھے کیا آپ کو بھی یہ سچ لگتا ہے؟ رشید نے کہا مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ حمید نے رشید سے پوچھا آپ کیسے بالکل صحت مند رہتے ہیں؟ رشید نے جواب دیا کہ میں ڈاکٹر ایشان جو ہمارا فیملی ڈاکٹر بھی ہے کے پاس اکثر و بیشتر صحت مند رہنے کے طریقوں سے متعلق سنتا رہتا ہوں اور پھر اس کے بتائے ہوئے ہدایات پر عمل پیرا ہوتا ہوں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں بالکل صحت مند ہوں۔
حمید دوسرے دن ڈاکٹر ایشان کے کلینک پر گیا اور اپنی ساری داستان بیان کی۔ ڈاکٹر ایشان کہنے لگے: انگریزی میں ایک محاورہ ہے۔
An apple a day keeps the doctor away
یعنی روزانہ سیب کے استعمال سے ڈاکٹر کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ اس محاورے میں بے شک صداقت ہے کہ سیب خدا کی عطا کردہ ایک بہترین غذا اور انمول تحفہ ہے۔ یہ میوہ جات میں بہت ہی پرانا میوہ ہے۔ اس میں پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جس طرح کیلشم ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے بے حد ضروری ہے اسی طرح پوٹاشیم بھی جسم کے نرم نسیج (Soft tissues) کے لیے انتہائی ضروری ہے اس سے جسم کی رگیں نرم ملائم رہتی ہیں۔ اس سے جسم کی ہڈیوں پر موجود گوشت کے پٹھوں میں سختی پیدا ہوتی ہے۔ جلد میں چمکیلا پن پیدا ہوتا ہے جھُریاں غائب ہو جاتی ہیں قبل از وقت بڑھاپا ختم ہوتا ہے اور یہ بیکٹیریا اور وائرس کے خلاف بھی کارآمد رہتا ہے۔ ڈاکٹر ایشان نے حمید کو سمجھایا کہ ہر جاندار چیز کے لیے پوٹاشیم انتہائی ضروری ہے اور اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں ہے۔ زمین میں بھی درختوں کے تنوں کو مضبوطی بخشنے کے لیے پوٹاشیم کی موجودگی بے حد ضروری ہوتی ہے۔ پوٹاشیم کی بدولت ہی مختلف بیج آہستہ آہستہ پھول میں تبدیل ہوتے ہیں۔ پوٹاشیم کی غیر موجودگی میں پیڑ پودوں کا نشو و نما اور بڑھنا متاثر ہوتا ہے۔ درخت میں مُرجھاپن پیدا ہوتا ہے اور پیر زرد ہوتے ہیں اور درخت مرتا ہے۔
ڈاکٹر ایشان نے حمید سے پھر یہ بات دہرائی کہ بے شک قدرت کی طرف سے سیب ایک انمول تحفہ ہے اور صحت مند اور چمک دار زندگی کے لیے قدرت کی عطا کردہ غذا میں سیب کا اہم رول ہے۔ حمید اب سمجھ چکا تھا کہ اُسے کیا کرنا ہے۔ اُس نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں ابھی بازار سے سیب کی ایک پیٹی گھر لاکر روز اس کا استعمال کروں گا۔ ایک مہینے کے بعد رشید حمید سے ملاقاتی ہوا اور اسے دیکھ کر حیران ہوا۔ حمید نے رشید سے پوچھا کہ مجھے کیوں اتنی نزدیک سے دیکھ رہے ہو۔ رشید نے کہا کہ میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا تو وہی حمید ہے جو ایک مہینے پہلے تھا حمید نے کہا میں ہی ہوں اور اللہ کے فضل سے چاک و چوبند ہوں۔ رشید نے پوچھا اس کی کوئی خاص وجہ۔ حمید نے کہا:
An Apple a day keeps the doctor away
رشید نے جب حمید سے یہ بات سن لی کہ
An apple a day keeps the doctor away”
تو وہ فوراً بازار کی طرف نکلا اور وہاں سے سیب کی ایک پیٹی اپنے گھر خرید کر لایا۔ گھر میں جب رشید کی بیوی کی نظر اس پیٹی پر پڑی تو اس نے رشید کو ڈانٹنا شروع کیا اور کہا کہ تم گھر کی آمدنی کو فضول چیزوں پر خرچ کر رہے ہو دونوں میں کچھ دیر تک تُو تُو میں میں ہوئی اور پھر رشید نے اپنی بیوی کو مشورہ دیا کہ ہم دونوں صبح سویرے ڈاکٹر ایشان کے پاس جاکر دریافت کریں گے کہ میں نے یہ غلط کام کیا ہے یا صحیح۔ اس پر دونوں کا اتفاق ہوا اور صبح سویرے دونوں ڈاکٹر ایشان سے ملنے گئے جس نے دونوں کا والہانہ استقبال کیا۔ ڈاکٹر ایشان نے رشید کی بیوی سے پوچھا۔ بھابھی کیا بات ہے؟ آپ کا موڑ خراب کیوں ہے؟ تو اس نے ڈاکٹر ایشان کو سارا ماجرا سنایا۔ ڈاکٹر ایشان بولے کہ رشید نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے بلکہ سیب کے استعمال سے بے شمار فائدے حاصل ہوتے ہیں اور آپ کا عیال مختلف بیماریوں سے بچ جائے گا۔ ڈاکٹر ایشان نے کہا چلیے میں آپ کی تسلی کے لیے سیب کے متعلق تفصیل سے جانکاری دوں گا تاکہ آپ خود فیصلہ کرسکیں کہ رشید کا فیصلہ درست تھا یا غلط۔ ڈاکٹر ایشان بولے:
دنیا میں سیب کی تقریباً پچتھر ہزار (۷۵۰۰۰) قسمیں موجود ہیں۔ سیب مختلف سائز اور شکل کے ہوتے ہیں۔ عمومی طور سرخ (Red)، گولڈن (Golden)، سبز (Green)، زرد (Yellow) کے اقسام استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ ہندوستان میں کشمیر، کولو (Kulu)، منالی (Manali)، کیومان (Kumoan) اور بنگلور جیسے مقامات پر سیبوں کی کاشت ہوتی ہے۔ سیب دماغ کے لیے ایک بہترین ٹانک ہے۔ اس میں فاسفورس، پوٹاشیم، بوران (Boron) اور وٹامن بی ون (Vitamin B1) کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔ سیب میں موجود فاسفورس ایک فاسفو لپڈ (Phospholipid) جس کو Lecithin کہتے ہیں کو بنانے میں مدد کرتا ہے۔ یہ Lecithin دماغ کے مختلف کام کاج کو صحیح ڈھنگ سے انجام دینے میں مدد کرتا ہے۔ خاص کر یاد رکھنے کی صلاحیت کو۔ بوران Boron سے دماغ کی برقی روئوں پر اثر پڑتا ہے جس سے دماغ تازہ رہتا ہے۔ اسی طرح وٹامن بی ون فاسفورس اور پوٹاشیم کی بدولت ایک مادہ Glutamic Acid بننے میں مدد ملتی ہے جو عصبی نظام Nervous System کے خلیوں کے Wear and Tear کو کنٹرول کر پاتا ہے۔ دل کے لیے بھی سیب فائدہ مند ہے کیونکہ اس میں انٹی آکسی ڈنٹس Antioxidants کی مقدار بہت ہوتی ہے جن میں سے ایک کا نام Querection ہے جو کہ دل کی صحت مندی کے لیے ایک اہم جز تصور کیا جاتا ہے۔ دراصل Antioxidents کمیکل جز ہوتے ہیں جو ان ذروں کو نگل ڈالتے ہیں جن کی وجہ سے خلیوں میں موجود ڈی این اے DNA، خلیوں کے دیواروں اور خون کی رگوں کو زک پہنچتا ہے۔ سرخ ڈیلی شس قسم کے سیب کے چھلکے میں Anthcyanin ایک دوسرا قسم کا جز موجود ہوتا ہے جو جسم میں پیدا ہو رہے نقصان دہ ذروں یعنی Free Redicals کو نگل لیتا ہے۔ سیب کے چھلکے میں فائبر Fibre، پیکٹن Pectin اور Lignin کی بدولت انسان کے جسم میں کولسٹرال Cholestrol کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ سیب کے استعمال سے خون میں موجود خراب کولسٹرال یعنی LDL Cholesterol کی مقدار گھٹ جاتی ہے جبکہ اچھے کولسٹرال یعنی HDL Cholesterol کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔
سیب کے استعمال سے انسان کینسر سے بھی محفوظ رہ سکتا ہے خاص کر وہ مرد حضرات جو ان غذائی اجناس کا استعمال کرتے ہوں جن میں Boron زیادہ موجود ہو۔ ان کو پراسٹیٹ کینسر ہونے کا خطرہ بہت ہی کم ہوتا ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ سیب میں موجود Qurecetin سے کینسر کو بڑھنے سے کچھ حد تک روکا جا سکتا ہے۔ اس میں ایک اور جز Ellagic Acid ہوتا ہے جو انسان کو کینسر پیدا کرنے والے اجزاء سے بچا سکتا ہے اسی طرح سیب میں موجود فائبر Fibre سے انسان قولون Colon یعنی بڑئی آنت کے کینسر سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
اسی طرح اوسٹو پوروسز Osteoporosis، جوڑوں کے ورم Arthrits اور نقرس Gout (جو یورک ایسڈ Uric Acid کی زیادتی سے ہوسکتی ہیں) میں سیب کا اہم رول ہے۔ سیب میں موجود Malic Acid اس Uric Acid کے اثر کو زائل کر دیتا ہے اور Malid Acid جوڑوں کے اردگرد موجود ردی مواد جو جوڑوں میں درد پیدا کرتا ہے کو باہر نکال دیتا ہے۔ اگر سیبوں کو ابال کر ایک Jelly بنائی جائے تو اس کے استعمال سے ریومیٹک درد میں اضافہ ہوتا ہے۔ سیب میں موجود Boron سے جسم سے کیلشم زیادہ خارج نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے انسان اوسٹو پوروسز Osteiporosis (یعنی ہلکی ہڈیاں جن کو معمولی چوٹ سے ٹوٹنے کا خطرہ ہوتا ہے) سے بچ سکتا ہے۔ اسی طرح سیب کا انتڑیوں کی بیماریوں اور جگر Liver کے کام میں بھی اہم رول ہے۔ اگر آدمی روز دو عدد کچے سیب استعمال کرلے تو اس سے قبض کی شکایت دور ہوتی ہے۔ پکایا ہوا سیب دست یعنی اسہال یا Diarrhoea کے لیے مفید ہے۔ سیب میں موجود Pectin دست کے جراثیم کو نگل ڈالتا ہے اور Malic Acid سے جراثیم کی افزائیش متاثر ہوتی ہے۔ جگر سے نکلے مواد جس کو ہم Bile کہتے ہیں پر pectin کا اچھا اثر پڑتا ہے جس سے جگر کا کام ٹھیک سے انجام ہوتا ہے۔
ڈائی بٹیز مریضوں کے لیے بھی سیب قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے کیونکہ سیب میںموجود Pectin سے ہضم پر مثبت اثر پڑتا ہے جس کی وجہ سے یہ میوہ ڈائی بٹیز مریضوں کے لیے ایک اچھی غذا بن جاتا ہے۔ سیب میں موجود کم گلیسیمک انڈیکس (جسم میں شوگر لیول بڑھنے کی صلاحیت) کی وجہ سے ڈائی بٹیز مریضوں میں بلڈ شوگر کی لیول کنٹرول میں رہ سکتی ہے۔ سیب میں موجود زیادہ پوٹاشیم اور کم نمک کی مقدار کی وجہ سے جسم سے پیشاب کی زیادہ مقدار خارج ہوتی ہے جس سے انسان کا بلڈ پریشر کم ہوتا ہے اس لیے سیب ہائے بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔
سیب کے روزانہ استعمال سے جسم میں موجود درد میں کمی واقعی ہوتی ہے اور یہ بحیثیت Anti inflimatory ایجنٹ بھی کام کرتا ہے۔ سیب میں موجود Quercetin سے جسم میں الرجی اور ورم ہونے کے امکانات کم رہتے ہیں۔ سیب میں موجود Polyphenols سے وائرس مر جاتے ہیں اور Pectin سے جسم میں موجود بھاری دھات Heavy Metals کا اخراج ممکن ہے۔
اسی طرح سے ٹوٹھ برش کے بعد دانتوں کو صاف کرنے کا بہترین طریقہ سیب کا استعمال ہے۔ دانتوں میں موجود جراثیم کے لیے سیب کا Malic Acid بحیثیت Antiseptic کا کام دیتا ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کی ورزش کے لیے مضبوط اور سخت سیب کا استعمال بہتر ہے۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سیب میں موجود Tanins سے مسوڑھوں کی بیماریوں سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یاد رکھیں
سیب میں موجود فائبر سے پیٹ بھرتا ہے اور بھوک محسوس نہیں ہوتی ہے۔
ایک بڑے سیب میںموجود فائبر کی مقدار تین گیہوں کی بنی چپاتیوں سے زیادہ ہے۔
ایک سیب ۵۹ کلو کیلوریز حرارے دیتا ہے اس لیے جسم کا وزن نہیں بڑھتا ہے۔
اگر آپ Cola یا دودھ کا گلاس استعمال کرتے ہیں تو اس سے بہتر ہے کہ روز ایک گلاس سیب کا رس استعمال کیا جائے کیونکہ اس میں Fructose کی کافی مقدار موجود ہوتی ہے۔ البتہخالی معدہ سیب کے استعمال سے بعض لوگوں میں معدے کے کچھ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
سیب پر موجود اوپری تہہ پر Wax کی موجودگی، دیگر خطراتی اجزاء مثلاً کیڑے مار دوائیوں وغیرہ کو صاف کرنے کے لیے اِسے ۲۰ سے ۳۰ سیکنڈ تک گرم پانی میں رکھ دیں اور پھر استعمال کریں۔
رشید اور اس کی بیوی دونوں غور سے ڈاکٹر ایشان کی باتیں سن ہی رہے تھے کہ اتنے میں ڈرائیور نے دروازہ کھٹکھٹایا اور داکٹر ایشان سے عرض کرنے لگے کہ ڈیوٹی کا وقت ہوگیا۔ ڈاکٹر ایشان نے ڈرائیور کو اپنا Brief Case تھما دیا اور ڈیوٹی پر نکلنے کی تیاری کی۔ رشید اور اس کی بیوی بھی کھڑے ہوگئے۔ چلتے چلتے ڈاکٹر ایشان نے رشید کی بیوی سے پوچھا کہ بھابھی اب کیا خیال ہے؟ اس نے جواب دیا کہ سچ مچ میرا خاوند سوچ سمجھ کر ہی اپنے گھر کی بہبودی کے لیے اچھے فیصلے لیتا ہے۔ رشید نے ڈاکٹر ایشان کو دعائیں دیں اور دونوں رشید اور اس کی بیوی خوشی خوشی گھر لوٹے۔