سرورق مضمون

سیب: پیداوار میں اضافے کے با وجو د صنعت خسارے کی شکا ر کیوں ؟

جموں وکشمیر کی میو ہ صنعت 38ہزار کروڑ روپے ما لیت کی ہے اور اس اعتبا ر سے یہ یہاں کی اقتصادیا ت میں ریڑ ھ کی ہڑ ی کی حیثیت رکھتی ہے ۔وادی ٔ کشمیر کے اطراف و اکنا ف میں لاکھوں کی تعداد میں لو گ اس صنعت کے ساتھ برا ہ ِ راست وابستہ ہیں ۔کشمیر کا خشک و تر میو ہ اپنی مٹھا س ،غذائیت اور ادویا تی قیمت کے اعتبا ر سے پو ری دنیا میں ایک الگ اور منفرد مقام رکھتاہے ۔کشمیر کے شمال و جنوب میں کا شت کیا جا نے والا اپنی مٹھا س اور معیار کے اعتبا ر سے دنیا بھر میں لوگوں کی اولین پسند ہے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ وادی کی میو ہ صنعت جس میں سیب ایک کلیدی عنصر ہے،زوال پذیر ہے جس کے نتیجہ میں یہاں کے کا شتکا ر شدید الجھنوں کے شکا ر ہیں ۔سرینگر ٹوڈے کے ساتھ با ت کر تے ہو ئے فروٹ گروورس ایسو سی ایشن کو لگا م کے صدر غلام محمد بانڈے نے کہا کہ وادی میں سیب کے زیر کاشت رقبے کا حجم ہر سال بڑ ھتا ہی جا رہا ہے اور اس اعتبا ر سے سیب کی پیدا وار میں بھی اضافہ درج کیا جا رہا ہے مگر اس کے با وجود یہ صنعت زوال پذیر ہے اور اس کو خسارے کا سامنا ہے ۔انہوں نے وجو ہا ت کا ذکر کر تے ہوئے کہا کہ سیب کی قیمتوں میں پچھلے پانچ سات سال سے جمود ہے ۔غلام محمد با نڈے کا کہنا تھا کہ پانچ یا سات سال قبل جو قیمتیں سیب کو جموں وکشمیر سے با ہر کی منڈیو ں میں ملتی تھیں وہی قیمتیں آج بھی مل رہی ہیں بلکہ اس میں بھی کسی حد تک کمی واقع ہو ئی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے بر عکس کھا دوں کی قیمتوں میں پچھلے پا نچ سات سال کے دوران دس فیصد اضافہ ہو اہے اور ستم یہ ہے کہ ان کھا دوں میں سے اکثر غیر معیاری بلکہ جعلی ہو تی ہیں ۔غلام محمد با نڈے نے کہا کہ اس مدت کے دوران ذرعی ادویا ت کی قیمتوں میں کم و بیش تیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ادویا ت کی بازار میں اس قدر بہتا ت ہے کہ کا شتکا ر کے لئے یہ سمجھنا کہ اصلی کو ن اور نقلی کو ن ہے ،انتہا ئی مشکل امر ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میں اکثر و بیشتر با غ ما لکان یا کاشتکا ر دھو کہ کھا جاتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ غیر معیاری ادویا ت کی بھر ما ر اور بدلتے مو سمی حالات کے نتیجہ میں میو ہ کا معیا ر گر گیا ہے اور ہزار ڈبوں میں سے نمبر 1ڈبو ں کی تعداد محض نصف ہو تی ہے جس کے نتیجہ میں کا شتکا روں یا باغ ما لکا ن کو ما لی خسارہ اٹھا نا پڑ تا ہے ۔غلام محمد با نڈے کا کہنا تھا کہ مزدوری ،پیٹیوں ،ادویا ت،کاغذ اور سیب کی پیکنگ میں درکا ر دیگر چیزوں کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہونے کے نتیجہ میں سیب کے ایک ڈبے کی تیا ری میں لاگت کم و بیش دوگنا ہو گئی ہے مگر سیب کی قیمتیں پانچ سات سال سے لگا تا ر ایک ہی نہیج پر ہیں جو کہ قابل تشویش بات ہے ۔
وادی کے اطراف و اکنا ف میں اس وقت 12لاکھ ہیکٹیر اراضی سیب کی زیر کا شت ہے اور یہاں کے کسان طبقے کا 85فیصد حصہ سیب کی کا شت کے ساتھ براہ ِ راست مشغول ہے ۔حکو مت نے سیب کے معیار اور اس کی پیداوار کو بڑ ھا نے کے لئے ہا ئی ڈینسٹی پلا نٹیشن متعارف کی ہے اور اس کے لئے’’انٹی گریٹیڈ ہارٹیکلچر ڈیو لپمنٹ سکیم‘‘ نا م سے با ضابطہ طو ر ایک سکیم لا گو ہے۔ اس سکیم کے تحت جموں و کشمیر سرکا ر کا محکمہ ٔ با غبانی کا شتکا روں کو نوے فیصد سبسیڈی پر سیب کے پیڑ فراہم کر رہا ہے اور اس سکیم کا مقصد سیب کی پیداوار اور معیا ر کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ سیب کی عام اور روایتی قسموں کا متبا دل فراہم کر نا ہے تاہم کا شتکا روں کا الزام ہے کہ اس سکیم کے اطلا ق اور اس پر عمل آوری کے لئے کچھ ایسے قواعد و ضوابط رکھے گئے ہیں جنہیں خال خال ہی کو ئی پورا کرسکتا ہے ۔اس کے علا وہ ان کا کہنا ہے کہ اس سکیم پر عمل آوری کے لئے حکو مت نے کچھ نجی کمپنیوں کو یہ کا م سونپا ہے کہ وہ با غ ما لکان کو پلانٹ میٹیرئل فراہم کر یں اور ان کمپنیوں نے کوئی متبا دل دستیا ب نہ ہو نے کے نتیجہ میں اپنی من ما نیاں شروع کر رکھی ہیں اور ہا ئی ڈینسٹی سیب کے پیڑ لگا نے کے خواہشمند زمینداروں کو کبھی کبھی دو دو ،تین تین سال تک انتظار کروایا جا تا ہے ۔سرینگر ٹوڈے نے جب اس معاملہ پر ڈائر یکٹر جنرل ہا رٹیکلچر اعجا ز احمد بٹ سے بات کی تو انہوں نے پلا نٹ میٹیرئل کی فراہمی میں ہو رہی دیری کا اقرار کرتے ہو ئے کہا کہ اب سر کا ر نے اس حوالے سے بھی ایک سکیم شروع کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بیرونی ممالک سے پلانٹ میٹیرئل لانے والی نجی کمپنیوں کو یہ پیڑ قرنطینہ کر نا پڑ تے تھے تا کہ کو ئی بیما ری ان کے اندر ہو نے کی صورت میں اس بیما ری کو پھیلنے سے روکا جا سکے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس عمل میں کافیوقت درکا ر ہو تا تھا اور اس طرح سے زمینداروں کو کبھی کبھی کا فی لمبے عر صے تک انتظار کر نا پڑ تا تھا ۔اعجا ز احمد بٹ کا کہنا تھا کہ اب سرکا ر نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے بے روز گا ر نوجوانوں کو Root Stockفراہم کیا جا ئے جو نر سر ی لگا نے کے خواہشمند ہو ں اور جن کے پاس زمین دستیا ب ہو ۔انہوں نے کہا کہ سر کا ر انہیں رعایتی نر خوں پر Root Stockفراہم کر ے گی جس کے بعد انہی سے پلا نٹ میٹیرئل حاصل کیا جا ئے گا اور وہ ہا ئی ڈینسٹی سیب کی کاشت میں دلچسپی رکھنے والے زمینداروں کو فراہم کیا جا ئے گا ۔
فروٹ گروورس ایسو سی ایشن شوپیا ن کے صدر عبد الرشید میر نے سرینگرٹو ڈے کے ساتھ با ت کر تے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس میوہ صنعت کے حوالے سے جو پا لیسی ہے وہ گئی گزری اور نا قابل ِ عمل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیب کی ایک پیٹی پر لا گت تین سو روپے سے او پر جا چکی ہے اور با ہری منڈیو ں میں ایک پیٹی سیب کی قیمت اوسطاً آٹھ سو روپے ہے اور یہ سلسلہ کئی سال سے چلا آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکو مت کو پیداوار میں اضافے سے زیا دہ فکر سیب کے معیار اور اس کی قیمتوں کی کر نی چا ہئے ۔عبد الر شید میر کا کہنا تھا کہ نقلی کھا دوں اور ادویا ت کی بدعت کے حوالے سے حکو مت کے پا س کو ئی ٹھوس پا لیسی نہیں ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ حکو مت کو زرعی ساز و سامان جیسے کھادوں اور ادویا ت کے معیا ر پر توجہ مر کو ز کر نی چاہئے اور اگر حکو مت ایسا کر تی ہے تو سیب کا معیا ر خود بخود ٹھیک ہو جا ئے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلے دو سال کے دوران حکومت نے NAFEDکے ذریعہ سے سیب کی خر ید کا سلسلہ شروع کر دیا تھا تاہم اب ایسا محسوس ہو نے لگا ہے کہ حکو مت اس میں زیا دہ دلچسپی نہیں لے رہی ہے ۔عبدلرشید میر نے کہا کہ جب تک حکو مت اس اعتبا ر سے سنجیدہ نوعیت کے اقداما ت نہیں کر تی تب تک یہا ںکی میو ہ صنعت زوال پذیر ہو تی رہے گی ۔