اِسلا میات

سیرتِ پاک ﷺ دعاؤں کی روشنی میں!

سیرتِ پاک ﷺ دعاؤں کی روشنی میں!
                     از سعیدالظفر

اِنسانی تاریخ میں ساتویں صدی عیسوی ہمیشہ یاد رہے گی، کیونکہ اس زمانہ میں دنیا ایک عجیب و غریب انقلابی تحریک سے روشنا س ہوئی تھی، عرف عام میں اس تحریک کو اسلامی تحریک کہا جاتا ہے۔ اس کی ابتداء جزیرہ نمائے عرب کے ایک گمنام اور غیر تاریخی گوشے یعنی حجاز سے ہوئی تھی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بیس پچیس سال کے اندر ہی یہ تحریک پورے مشرقِ وسطیٰ پر چھاگئی، جہاں اس کا ہدف پورا عالم تھا۔
اس تحریک کی ابتداء اسلام کےآخری پیغمبر حضرت محمدﷺ سے ہوتی ہے اوراس تحریک کو کامیاب بنانے میںآ پﷺ کی سیرتِ مبارکہ کا بہت بڑا دخل ہے۔ آپﷺ کی پوری زندگی، اس کا ہر ہر گوشہ کامل اور لائق اتباع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو ہمہ جہت بنایا تھا۔ تاریخی نقطۂ نظر سے آپﷺکی حیات مبارکہ کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
۱-بعثت سے قبل کا دور۔۲- مکی زندگی کا دور۔۳-مدنی زندگی کا دور۔
یہ تینوں دور آپﷺ کی پوری حیات پاک کو حاوی ہیں۔ آپﷺ کے اخلاق و عادات امانت و دیانت، کفار کے ساتھ معاملات، منافقین کے ساتھ نرمی، دین کی نشر و ا شا عت میں مصائب کا سامنا، آپﷺ کی داخلی اور خارجی زندگی، ازواج مطہرات اور خدام کے ساتھ حسن سلوک– غرض سیرت کا ہر رخ ان تین دوروں سے متعلق ہے لیکن ان کے علاوہ بھی سیرت کی تکمیل کے حوالہ سے ایک اہم شعبہ آپ ﷺ کی دعائیں ہیں۔ ان کے تناظر میں بھی کافی حدتک سیرت کو سمجھاجاسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کوکاملیت توعطا کی ہی تھی، خود بھی آپﷺ نے بے شمار دعائیں کیں، جن کو سیرت کی تکمیل میں بڑا دخل ہے، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رب کائنات نے ان دعاؤں کو پسندیدگی کی نظروں سے دیکھااور آپﷺکو بالکل مجسمہٴ عمل بنادیا۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر بہت سی چیزوں کو اپنی بے مثال آخری کتاب قرآن میں جگہ دی۔ آئیے! آپ ﷺ کی مقبول دعاؤں کے تناظر میں آپﷺ کی پاک سیرت دیکھیں۔
عبدیت رسول اللہ ﷺ:
احادیث کی مستند کتابوں میں بے شمار دعائیں منقول ہیں، انہی میں ایسی دعائیں بھی ہیں، کہ جن میںآ پﷺ نے اپنے آپ کو بندہ سے تعبیر کیا۔ اللہ کے حضور ”عبدیت“ کا اظہار جابجا جھلکتا ہے، کہیں آپﷺ اپنی عبدیت کو یوں جتاتے ہیں: الّٰہم انی عبدک وابن عبدک وابن أمتک اور کہیں صالحین میں شمولیت کے خواہاں ہیں: واجعلنا من عبادک الصالحین غرض نبوت کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہونے کے بعد بھی آپ ﷺ نے اپنی عبدیت ہی کو پیش نظر رکھا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے حبیبﷺ کا یہ اظہارِ ”عبدیت“ اس قدر پسند آیا کہ اپنی کتاب میں اسی نام سے مختلف مقامات پرخطاب کیااور یاد فرمایا ہے۔ چنانچہ سورئہ بقرہ میں ہے:وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا ۔اور بنی اسرائیل میں ہے: سبحان الذی اسری بعبدہ ۔ان کے علاوہ متعدد مقامات پر لفظ ”عبد“ سے ہی یاد فرمایا ہے۔
تواضع:
آپﷺ سراپا مجسمہ تواضع تھے، آپﷺ سے بڑھ کر کوئی متواضع نہیں ہوسکتا اور ہو بھی کیوں سکتا ہے، آپﷺ حبیب خدا تھے، رہتی دنیا تک آپ ﷺکو مثال انسانیت بنانا تھا۔ چنانچہ آپﷺتواضع سے اپنے رب کے شکر گزاروں اور نعمت کے ثناخوانوں میں شرکت کی درخواست ان الفاظ میں کرتے دیکھے جاتے ہیں:واجعلنا شاکرین لنعمتک مثنین بہا ۔آپ کی زبان مبارک سے ادا ہونے والی یہ دعا تو تواضع کا منتہا ہے:اللّٰہم اجعلنی فی عینی صغیرًا
یہ الفاظ اس ذات گرامی کے ہیں جس کو دونوں جہاں کی سرداری عطا کی گئی، چنانچہ جب ہم ان دعاؤں کے تناظر میں آپ ﷺ کی حیات مبارکہ پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہرقول وفعل میں ان دعاؤں کا رنگ نظر آتا ہے۔ قارئین کرام بھی اس رنگ کو ملاحظہ فرمائیں:
بخاری میں مذکور ہے کہ آپﷺ کے ایک ناقہ کا نام ”عضبا“ تھا، کوئی جانوراس سے آگے نہیں بڑھ سکتاتھا، ایک اعرابی اپنی سواری پر آیا اوراس سے آگے بڑھ گیا، حضرات صحابہ کو یہ بہت ہی شاق گزرا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:ان حقا علی اللّٰہ عزوجل ان لا یرفع شیئاً من الدنیا الا وضعہ[دنیا میں خدا کی یہی سنت ہے کہ کسی کو اٹھاتا ہے، تو اسے (سواری کو)نیچے بھی دکھاتاہے]۔
بخاری ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ ایک شخص نے نبیﷺ کو ”یا خیر البریة“ (برترین خلق) کہہ کر پکارا۔ آپﷺ نے فرمایا :ذاک ابراہیم[ یہ شان تو ابراہیم علیہ السلام کی ہے]۔آپ ﷺ کی سیرت میں تواضع کی ایک یہ ادا بھی ملاحظہ ہو:
فتح مکہ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے بوڑھے، ضعیف، فاقد البصر باپ کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بیعت کرنے کے لئے لائے، آپﷺ نے فرمایا: تم نے بوڑھے کو تکلیف کیوں دی، میں خود اُن کے پاس چلاجاتا۔ سیرت اور احادیث کی مستند کتابیں ایسے واقعات سے پُر ہیں، اگر اس سے آگے بڑھ کر یہ بات کہی جائے تو حق بجانب ہوگی کہ آپﷺ کی ہر ہر ادا تواضع اور مسکنت کا لطیف سبق دیتی ہے۔ آپﷺ کی سیرت پر ایک نظر ڈالنے سے رات دن میں ان باتوں کا کثرت سے وجود ملتا ہے:
۱- مجلس میں کبھی پاؤں پھیلاکر نہ بیٹھتے۔۲- ہمیشہ سلام میں پہل کرتے۔
۳- مصافحہ کیلئے خود پہلے ہاتھ پھیلاتے۔۴- صحابہ کو کنیت سے پکارتے (عرب میں عزت سے بلانے کا یہی رواج تھا)۔۵- کسی کی بات کبھی قطع نہ فرماتے۔
۶- اگر نفل نماز میں ہوتے اور کوئی شخص آبیٹھتا تو نماز کو مختصر کردیتے، اور اس کی ضرورت پوری کرنے کے بعد پھر نماز میں مشغول ہوجاتے۔۷- اکثر اوقات آپﷺ متبسم رہتے۔
خوفِ خدا:
ہمارا عقیدہ ہے کہ نبی کریمﷺمعصوم تھے، آپ ﷺکا اگلا پچھلا سب معاف تھا، لیکن قربان ہوجائیں سرکار دوجہاںﷺ پر کہ مرضیٴ مولا کے بغیر آپ ﷺکا کوئی قول و فعل وجود میں نہیں آتا تھا، خوف خدا ہر وقت دامن گیر رہتا، رات ہو یا دن، سفر ہوکہ حضر، عبادات ہوں کہ معاملات غرض ہر جگہ آپ ﷺکی روحانی آنکھیں اللہ تعالیٰ کو محسوس کرتی تھیں، اس پر مزید دعا کا یہ انداز نرالا ہے:
اللّٰہم اقسم لنا من خشیتک ما تحول بہ بیننا وبین معاصیک
روزِ قیامت میدانِ محشر میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کے حوالہ سے خوفِ الٰہی کی یہ دعا بھی انفرادی شان رکھتی ہے: واجعلنی ممّن یخاف مقامک
آپ ﷺ کی سیرتِ پاک میں جا بجا ان دعاؤں کا اثر نمایاں ہے، آندھی کے آثار نمایاں ہوتے تو آپﷺ لرز اٹھتے، خوفِ خدا سے بدن مبارک کانپ جاتا، اور مسجد کی طرف دوڑتے، اللہ کے حضور روتے گڑگڑاتے کہ کہیں اللہ کا غضب نازل نہ ہوجائے، یہ تو نمونہ ہے آپﷺ کے رجوع الی اللہ کا، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح آپ ﷺ کی سیرت کا احاطہ کرنا مشکل ہے، اسی طرح اس باب میں بھی گفتگو مشکل ہے۔
زہد:
اسلام کے ابتدائی دور میں جب اہل اسلام پر کفار کے مظالم بڑھے، اور اللہ کی طرف سے قتال کی اجازت ملی تو مال غنیمت سے خمس (پانچواں حصہ) آپ ﷺ کے لئے شریعت نے مقرر کیا، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ آپﷺ نے فقر کو پسند کیا، آپﷺ ہمیشہ یہ دعا کرتے تھے:یا ربّ أجوع یوماً وأشبع یوماً
یہ تو دعا تھی، اب عملی زندگی کے بھی چند واقعات ملاحظہ ہوں:
۱- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک ایک مہینہ برابر ہمارے چولہے میں آگ روشن نہ ہوتی،آنحضرتﷺ کا کنبہ پانی اور کھجور پر گذارا کرتا۔
۲- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپﷺ نےمدینہ تشریف لاکر تین دن تک برابر گیہوں کی روٹی کبھی نہیں کھائی۔
۳- آپ ﷺاس دنیا کی آخری شب میں تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پڑوسن سے چراغ کے لئے تیل لیا تھا۔
۴- آپﷺ نے انتقال فرمایا تو آپﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس بعوض غلہ رہن تھی۔
صبر وحلم اور عفو و درگذر:
ان دعاؤں کے علاوہ آپﷺہمیشہ صبر و شکر کی توفیق مانگتے، اپنے اصحاب کو ہرپسندیدہ اور ناپسندیدہ موقع پر صبر وشکر کی وصیت فرماتے، چنانچہ اپنی مخصوص دعاؤں کے علاوہ صبر وشکر کی تبلیغ کی اور یہی فرماتے تھے:علینا الشکر اذا أعطی، والصبر اذا ابتلی
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اہل مکہ نے جو ظلم و ستم اس برگزیدہ ہستی پر کئے، اس کی مثال تاریخ کے صفحات میں موجود نہیں ہے، لیکن آپﷺنے کبھی صبروحکم کا دامن نہیں چھوڑا، دوست ہو یا دشمن، عفو و درگذر سب کے سات برابر رہا۔
۱- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺنے اپنی ذات مبارک کی بابت کسی سے انتقام نہیں لیا۔
۲- ’’شفاء عیاض‘‘ میں منقول ہے کہ جنگ اُحد میں کافروں نے نبی ﷺ کے دندانِ مبارک شہید کردئیے، آپﷺ کے سر میں بھی زخم آیا، آپﷺ ایک غار میں بھی گرگئے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ان پر بدعا فرمائیے، آپﷺ نے فرمایا: میں لعنت کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا، خدانے مجھے اپنی بارگاہ میں بلانے کے لئے بھیجا ہے۔
۳- بخاری شریف میں روایت ہے کہ طائف میں آنحضرت ﷺوعظ و تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے تھے، وہاں کے باشندوں نے آپﷺ پر کیچڑ پھینکی، فقرے کسے، اتنے پتھر مارے کہ آپ ﷺلہو لہان ہوکر بے ہوش ہوگئے ،پھر بھی آپ ﷺیہی فرماتے رہے: میں ان لوگوں کی ہلاکت نہیں چاہتا، کیونکہ یہ ایمان نہیں لاتے، توامید ہے کہ ان کی اولاد مسلمان ہوجائے گی۔
ظلم سے پناہ:
یہ حال تھا رحمة للعالمین ﷺکے صبر وشکر اور عفو ودرگذر کا، اسی کے تناظر میں یہ دیکھاجاسکتا ہے کہ یہ ذات بابرکت ظلم سے کس قدر دور ہوگی، مزید برآں آپﷺ ہمیشہ ظلم سے پناہ مانگتے رہے:أعوذ بک من أن أظلِم أو أظلَم
یہ دعا تو آپﷺ کے معمولات میں شامل تھی، لیکن رحمت کے پرتو کی یہ جھلک بھی قابل دید ہے کہ آپ ﷺنے احتمال بشریت اللہ تعالیٰ سے عہد لے لیا، اگر بالفرض کسی کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچے تو اس کو اس کے حق میں قربت اور نعمت کا ذریعہ بنادے:اللّٰہم انی أتخذ عندک عہدًا لن تخلفنیہ فانا أنا بشرٌ، فأیّما مومن أذیتُہ أو شتمتُہ أو جلدتُہ أو لعنتُہ فاجعلہا لہ صلوة وزکوة، وقربة تقرّبہ بہا الیک
تاریخ شاہد ہے کہ آپ ﷺکی زندگی بے گرد وغبار تھی، نہ بعثت سے قبل کوئی متہم کرسکا، اور نہ ہی منصب نبوت پانے کے بعد کوئی عیب نکال سکا، آپﷺ نے کبھی ظلم کو پسند نہیں کیا، متعصبینِ اسلام کوئی ایسا واقعہ پیش کرنے سے عاجز رہیں گے کہ جس میں آپﷺ کی جانب سے ظلم و زیادتی کا شبہ ہوتا ہو، البتہ تاریخ نے اس واقعہ کو جگہ دینے پر فخر محسوس کیا ہے کہ نبی کریم ﷺنے ایک مجمع عام میں یہ اعلان فرمایا کہ: جس کا مجھ پر کوئی حق ہو وہ لے لے، میں نے کسی کو گالی دی ہو تو وہ گالی دے سکتا ہے، ظلم کیا ہو تو بدلہ لے سکتا ہے۔ مجمع عام سے کوئی آواز تک بلند نہیں ہوسکی، سوائے ایک صحابی کے جنھوں نے حیلہ اختیار کرکے آپ ﷺ کی مہر نبوت کو بوسہ دیا۔
ناگہانی وفات سے پناہ:
آپ ﷺنے اپنی مسنون دعاؤں میں ناگہانی وفات سے پناہ مانگی ہے: اللّٰہم انی أعوذبک من التردّی ومن الغرق والحرق، وأن یتخبطنی الشیطان عند الموت، ومن أن أموتَ فی سبیلک مُدبرًا وأن أموت لدیخا۔چنانچہ سیرت کی کتب میں واقعہٴ ہجرت مشہور ہے، اللہ تعالیٰ نے غار کے اندر زہریلے اژدہے سے محفوظ رکھا تھا۔
حسن خاتمہ کی دعاء:
آپ ﷺنے حسن خاتمہ کے لئے بھی دعائیں کی ہیں:اللّٰہم احیني مسلما وأمتنی مسلما۔سیر واحادیث کی کتابوں میں متعدد الفاظ کے ساتھ آپﷺ کی حسن خاتمہ کی دعائیں مذکور ہیں۔
یہ آپ ﷺ کی مختصر سی سیرتِ مبارکہ تھی دعاؤں کی روشنی میں، سیرت کے ہر پہلو کی طرح یہ پہلو بھی بہت وسیع ہے، ہم دعویٰ کرسکتے ہیں کہ جس طرح ہر پہلو تشنہ ہے ،اس پہلو پربھی جو کچھ لکھاگیا ہے، وہ ناکافی ہے۔