سرورق مضمون

سیز فائر بھی ہلاکتیں بھی جاری / بات چیت پر محتاط ردعمل

ڈیسک رپورٹ//
مشترکہ حریت کانفرنس کا کہنا ہے کہ بات چیت شروع کرنے سے پہلے مرکزی سرکار اپنا طرز عمل واضح کرے ۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب مرکزی وزیرداخلہ کی طرف سے بات چیت کی پیش کش کی گئی ۔ اس پر مشورہ کرنے میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک حیدر پورہ سید علی گیلانی کی رہائش گاہ پر گئے ۔ اس میٹنگ کے بعد جو بیان جاری کیا گیا اس میں اشارہ دیا گیا کہ حریت بات چیت میں شامل ہونے کے لئے تیار ہے ۔ البتہ بات چیت سے پہلے مرکزی سرکار کو اپنا موقف واضح کرنے کے لئے کہا گیا ۔ منگلوار کو جاری کئے گئے بیان کے مطابق تینوں رہنمائوں نے بات چیت کی پیش کش پر طویل بحث کی ۔ جس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ مرکز کی طرف سے بات چیت کی پیش کش بہت ہی مبہم ہے اور مزید وضاحت چاہتی ہے ۔ اس حوالے سے کہا گیا کہ مرکزی سرکار کے رہنمائوں کو الگ الگ بیان دینے کے بجائے ایک ہی زبان بولنی ہوگی اور واضح کرنا ہوگا کہ بات چیت کس مدعے پر ہوگی ۔ حریت بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ راجناتھ سنگھ ایک طرح کے بیانات دے رہے ہیں ۔ جبکہ خارجہ امور کی وزیر سشما سوراج اس کے برعکس بیان دیتی ہے ۔ بی جے پی صدر امیت شاہ کچھ الگ ہی بولی بولتا ہے ۔ یا د رہے کہ سشما سوراج نے پاکستان کو بات چیت میں شامل کرنے سے مکمل طور انکار کیا ہے ۔ جبکہ امیت شاہ نے کشمیر میں حالیہ سیز فائر کے بیان کو کسی اور ہی تناظر میں پیش کیا ۔ ان مختلف اور ایک دوسرے سے الگ بیانات کا حوالہ دے کر حریت چاہتی ہے کہ مرکز مشترکہ موقف اختیار کرکے ایک ہی پالیسی اختیار کرے ۔ حریت کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم مودی نے سرینگر آکر کہا کہ مسئلہ کشمیر کا اصل حل ڈیولپمنٹ میں اور اس کے لئے پہلے ریاست میں امن قائم کرنا ہوگا۔ مشترکہ حریت قیادت کا کہنا ہے کہ دہلی سرکار جان بوجھ کر مسئلہ کشمیر کی تاریخی اہمیت کو نظر انداز کرتی ہے ۔ اس کے بجائے تعمیر وترقی کو مسئلہ کشمیر کا حل قرار دینا حریت لیڈروں کے مطابق یہاں کے عوام کے ساتھ ایک سخت قسم کا مزاق ہے ۔اس طرح سے حریت نے بات چیت میں شامل ہونے سے اقرار کیا ہے البتہ اس کے لئے کچھ شرائط پیش کی ہیں۔ ان شرائط کو خاطر میں لانے کے لئے مرکز تیار ہے نہ بات چیت کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے ۔اسی دوران جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کی طرف سے ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں ہندوستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو تسلیم کرنے کے بعد بات چیت میں شامل ہونے پر آمادگی کا اظہار کیا گیا ہے ۔
وزیرداخلہ کی طرف سے بات چیت کی پیشکش پر ابھی بحث جاری تھی کہ ریاست میں حالات میں کشیدگی پیدا ہونے لگی ۔ سیز فائر کے اعلان کو پہلے ہی جنگجو تنظیموں نے مسترد کیا ہے ۔ لشکر طیبہ نے اسے ایک ڈراما قرار دے کر اپنی پہلی ہی فرصت میں مسترد کیا ۔ جیش محمد نامی تنظیم نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے پچھلے کئی دنوں کے دوران فوج پر کئی حملے کئے۔پہلے پلوامہ کے کاکہ پورہ علاقے میں وہاں قائم ایک سیکورٹی کیمپ پر حملہ کیا گیا۔ حملے کے بعد جنگجو بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے البتہ حملے میں ایک فوجی آفیسر ہلاک اور دو سرے دو فوجی زخمی ہوگئے ۔ فوج نے جوابی کاروائی میں دو نوجواں کو سخت زخمی کیا ان میں سے بعد میں ایک زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ اسی طرح شوپیان علاقے میں ایک زوردار دھماکہ کیا گیا جس سے ایک فوجی کیسپرگاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔ا س حملے میں تین فوجیوں کے زخمی ہونے کی خبر آئی ۔ کہا جاتا ہے کہ فوجی اس حملے سے بے قابو ہوئے اور بڑی تعداد میں نزدیکی گائوں میں داخل ہوئے۔ یہاں کئی درجن مکانوں کے شیشے توڑنے کے علاوہ ایک عسکریت پسند کے گھر میں داخل ہوکر وہاں لاکھوں روپے کی مالیت کا ساز وسامان تہس نہس کیا گیا ۔ اس سے حالات میں ایک بار پھر کشیدگی دیکھنے کو ملی ۔
ادھر جنوبی کشمیر کے ترال علاقے میں جمعہ کے روزوہاں کے ایم ایل اے کے گھر پر گرینیڈ حملہ کیا گیا ۔ اس سے پہلے ترال میں ہی این سی کے لیڈر محمد اشرف کے گھر پر گرینیڈ پھینکا گیا ۔ دونوں حملوں میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ جمعہ کو ہی اننت ناگ میں ایک فوجی پٹرول پارٹی پر حملہ کیا گیا ۔ اس سے ایک دن پہلے کولگام میں ڈی سی آفس کے نزدیک ایک سیکورٹی اہلکار پر کلہاڑی سے وار کیا گیا ۔ اس سے مذکورہ سپاہی سخت زخمی ہوا ۔ کہا جاتا ہے یہ حملہ بندوق چھیننے کے لئے کیا گیا تھا ۔ لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی ۔شمالی کشمیر کے حاجن علاقے سے اطلاع ہے کہ ایک نوجوان شہری کو گھر میں ذبح کیا گیا ۔ پولیس نے اس کا الزام لشکر طیبہ تنظیم پر لگایا ہے ۔ تنظیم نے اس ہلاکت اور اس سے پہلے پیش آئے ایسے واقعات سے کسی قسم کے تعلق سے انکار کیا ہے ۔ اس طرح سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پورے کشمیر میں حالات میں انتہائی کشیدگی پائی جاتی ہے ۔ وزیرداخلہ نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ کشمیر میں سیز فائر کا اعلان کیا گیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجیوں کے ہاتھ باندھ کر رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ۔ وزیر داخلہ نے وضاحت کی ہے کہ رمضان کے دوران عام شہریوں کو بہتر ماحول فراہم کرنے کے لئے روزمرہ کے فوجی آپریشنوں کو معطل کیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی وزیرداخلہ نے علاحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ حریت بات چیت کے لئے سامنے آئے تو مرکزی سرکار کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ وزیرداخلہ کے اس بیان پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے حریت لیڈروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بات چیت کے لئے سامنے آئیں ۔ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ حریت نے اس موقعے کوضایع کیا تو آگے چل کر ایسی پیشکش کرنا مشکل ہوگا ۔ انہوں اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا ۔ حالانکہ حریت پہلے ہی بات چیت کے لئے آمادگی ظاہر کرچکی ہے ۔ البتہ اس کے لئے سرکار سے کئی ا قدامات کرنے کی اپیل کی گئی۔بات چیت کہاں ہوگی اور کن حریت لیڈروں سے ہوگی اس کا ابھی پتہ نہیں چلا ہے ۔ دوسری صف کے کئی حریت رہنمائوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بات چیت کے لئے پہلے ہی تیار ہیں۔ مرکز ی سرکار واقعی ان کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھائے گی ابھی کچھ کہنا مشکل ہے ۔ حریت کی مشترکہ قیادت نے مانگ کی کہ مرکز ابہام دورکرے ۔بات چیت کے بارے میں بی جے پی لیڈروں کی طرف سے الگ الگ بیان دینے کو افسوسناک قرار دیا جارہاہے ۔ پارٹی کا اس بات چیت کے حوالے سے کوئی متفق نظریہ سامنے نہیں آیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حریت نے اس بارے میں واضح موقف اختیار کرنے کی مانگ کی ۔ مرکز کی طرف سے اس بارے میں اب مزید کچھ نہیں کہا گیا ۔ البتہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے حریت سے اپیل کی ہے کہ بات چیت کی پیش کش کا بھرپور فائدہ اٹھایا جائے اور اس موقعے کو ضایع نہ ہونے دیا جائے ۔ ادھر جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے بھی اپنے بیان میں مانگ کی ہے کہ دہلی سرکار مسئلہ کشمیر کو حل طلب تسلیم کرے تو وہ بات چیت میں شامل ہونگے ۔ یہ ایک بڑی پیش رفت ہے ۔ البتہ مزید کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔