سرورق مضمون

سیلاب ریلیف پیکیج / پی ڈی پی کے خلاف سخت ناراضگی/ تجارتی حلقے بھی سیخ پا

ڈیسک رپورٹ
کئی عوامی اور تجارتی حلقوں نے مرکزی حکومت کی طرف سے دئے گئے حالیہ سیلاب پیکیج پر اپنی بے اطمینانی کا اظہار کیا ہے ۔ ان حلقوں نے 1667 کروڑ روپے کے مالی امداد کو ناکافی قراردیتے ہوئے اسے پی ڈی پی کی ناکامی قرار دیا ہے ۔ تجارتی حلقوں نے مرکز کی طرف سے دئے گئے سیلاب بحالی پیکیج کو کشمیریوں کے ساتھ ایک مزاق قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔ جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میںبولتے ہوئے تجارتی یونینوں کے کئی لیڈروں نے اس پیکیج کا مزاق اڑاتے ہوئے پی ڈی پی کو فوری طور بی جے پی سے الگ ہونے کے لئے کہا۔ کشمیر ٹریڈرس یونین کے سربراہ نے اس موقعے پر بولتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی کے لئے اس کے بغیر اب کوئی چارہ نہیں رہاہے کہ وہ حکومت سے الگ ہوکر اس پیکیج کے خلاف آواز اٹھائے ۔ انہوں نے وادی کے تمام ممبران اسمبلی سے اپنی اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہوکر احتجاج کرنے کی اپیل کی۔ اس طرح سیلاب پیکیج کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انہوں نے اس کے خلاف جدوجہد کرنے کا اشارہ دیا ۔
پچھلے سال ستمبر میں آئے سیلاب نے کشمیر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ اس وجہ سے یہاں مال و جان کا کافی نقصان ہوا۔ سب سے زیادہ نقصان تجارت پیشہ لوگوں کا ہوا ۔ اس کے بعد اس وقت کی حکومت نے محکمہ مال کو فوری طور نقصان کی تفصیل معلوم کرنے کا حکم دیا۔ اس بنیاد پر مرکزی حکومت سے 44000 کروڑ روپے کی امداد کا مطالبہ کیا گیا۔ مرکز نے یقین دلایا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے بڑے پیمانے پر امداد فراہم کی جائے گی ۔ لیکن نو مہینے گزرنے کے باوجود دہلی سرکار کی طرف سے اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہ آئی ۔ اب پچھلے دنوں مرکزی ہوم منسٹرر اجناتھ سنگھ نے ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ مرکز کی طرف سے 1667کروڑ روپے کی امداد سیلاب بحالی پیکیج کے طور فراہم کی جائے گی ۔ اتنی کم امداد کو ناکافی قراردیتے ہوئے تمام عوامی ، سیاسی اور تجارتی حلقوں نے اس پر مرکزی اور ریاستی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ حیرن کن بات یہ ہوئی کہ پی ڈی پی کے اندرونی حلقوں میں بھی اس وجہ سے سخت تشویش پائی گئی اور بی جے پی کے ساتھ اتحاد توڑنے کی مانگ کی جانے لگی ۔ پی ڈی پی کے سینئر رہنما اور پارلیمنٹ ممبرطارق حمیدقرہ نے اپنے ایک سخت بیان میں مطالبہ کیا کہ پارٹی رہنمائوں کو بی جے پی کے ساتھ اتحاد جاری رکھنے پر از سرنو غور کرنا چاہئے۔ انہوں نے دونوں جماعتوں کے اتحاد کو کشمیریوں کے لئے سخت نقصان دہ قرار دیا ۔ قرہ نے اس پیکیج کو ناکافی قراردیتے ہوئے یہ بات کہی کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرکز میں کشمیریوں کے خلاف منفی سوچ پائی جاتی ہے ۔ ادھر کانگریس نے بھی امدادی پیکیج کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔کانگریس رہنما غلام نبی مونگا نے مفتی سعید کو مشورہ دیا کہ اپنی سیاسی ساخت بچانے کے لئے اسے فوری طور بی جے پی سے علاحدگی اختیار کرنی چاہئے۔ اسی طرح اسمبلی میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی این سی نے اس پیکیج کو ایک بڑا مزاق قراردیتے ہوئے گورنر سے مل کر اس کے خلاف سخت احتجاج کیا ۔ ناکافی سیلابی پیکیج نے کشمیر میں پی ڈی پی کو سخت دبائو میں لایا ہے ۔ پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے لئے یہی ایک وجہ بتائی تھی کہ مرکز کی طرف سے بڑے پیمانے پر امداد ملے گی ۔ لیکن معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔ مرکز نے ریاستی سرکار کی کوئی بھی مالی امداد نہیں کی جس وجہ سے تاحال سیلاب متاثرین کی بحالی کا کوئی پروگرام ہاتھ میں نہ لیا جاسکا ۔ مرکز کی طرف سے اختیار کئے گئے اس طریقے نے عوام کو سخت مایوس کیا ۔ اس وجہ سے حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔پی ڈی پی پر سخت دبائو ہے کہ وہ حکومت سے الگ ہوجائے اور بی جے پی کے ساتھ اتحاد توڑدے ۔