اداریہ

سیلفیوں کا جان لیوا جنون
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکو مت

اس بات میں کسی شک و شبے کی گنجا ئش نہیں کہ ٹیکنا لوجی نے ہما ری زند گی کے اندر طرح طرح کی آسانیاں پیدا کی ہیں اور ان آسانیوں اور آسائشوں کی وجہ سے ہم اپنے وسائل کو ضائع کئے بغیر ہی طرح طرح کے دنیا وی کام انجا م دے سکتے ہیں ۔انسان نے تیکنالوجی کو وجود میں لا نے کے لئے سینکڑوں سال تک انتہا ئی عرق ریزی سے کا م کیا ہے اور تب جا کر آج ہمیں دنیا کی ایک ایک چیز اور ایک ایک آسائش بڑ ی آسانی کے ساتھ ہما رے گھر کی دہلیز پر مہیا ہو پارہی ہے ۔ٹیکنالوجی یا پھر سائنسی ایجادات کیلئے جن لوگوں نے دن رات ایک کئے تھے انہوں نے کبھی بھی نہیں سوچا ہو گا کہ جن چیزوں کو ہم لوگ وجو د بخش رہے ہیں ان چیزوں کا آنے والے وقت میں کچھ ناہنجار لو گ اس قدر غلط استعمال کریں گے کہ انہیں اپنی جا نوں سے بھی ہا تھ دھونا پڑ ے گا ۔دنیا بھر میں پچھلے چند سال کے دوران ایسے درجنوں واقعات پیش آئے جب لوگوں نے محض فیشن اور دکھا وے کی خاطر سیلفیاں لیتے ہو ئے اپنی جا ن دے دی ۔جموں وکشمیر میں چونکہ دکھا وے کا عالم زیادہ تیز و تند ہے لہٰذاء اس حوالے سے ہم کسی سے بھی پیچھے نہیں ہیں ۔ہما رے یہاں بھی ایسے متعدد واقعات پیش آئے جن میں محض ایک سیلفی لینے کی خاطر کسی ذی جا ن شخص نے جا ن جیسی عظیم اور عزیز ترین شے سے ہا تھ دھو لئے ۔تیسری دنیا کے ممالک کی ایک بڑ ی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ایک طرف سے ہاتھ پہ ہا تھ دھر ے بیٹھے رہتے ہیں اور کچھ نیا کر نے کی کبھی سوچ بھی نہیں سکتے مگر دوسری جا نب جب غیروں کے ہا تھوں تیا ر ہو نے والی کو ئی بھی چیز ہمارے ہا تھ لگ جا تی ہے تو ہم پھو لے نہیں سماتے ہیں اور پھر ہمارا طرز عمل کچھ ایسا ہو جا تا ہے کہ ہم آسمان پر اڑتے رہتے ہیں۔تیسری دنیا میں انسانی وسائل کی بھر ما ر کے بیچ کو ئی بھی ملک یا حکو مت یا پھر شخص اس با ت کا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے کسی سائنسی ایجا د میں کو ئی خاص کام کیا ہو یا اس ایجا د و دریا فت میں اس نے کو ئی کر دار ادا کیا ہو مگر دکھا وے کی خاطر اور دوسرا پر اپنی امیری کا رعب بٹھا نے کی خاطر ہم نہ جا نے کو ن کو ن سی بے تُکی حرکا ت کر بیٹھتے ہیں اور کبھی کبھی یہ حرکا ت ہما ری جا ن کے چلے جا نے پر منتج ہو جا تی ہیں ۔دراصل ہمارے سماجی تا نے بانے میں یہ با ت رگ رگ میں پیوست ہو چکی ہے کہ ہم بھلے خود کتنے ہی نا اہل و نا بکا ر ہوں مگر دوسروں پر رعب بٹھا نے کے لئے ہم کو ئی بھی بے تُکی حر کت کر سکتے ہیں اور اس چیز کی وجہ سے ہی مغرب ہم پر تہذیبی طور پر صدیوں سے مسلط ہے ۔پچھلے دنوں بڈگا م کے دودھ پتھری علا قے میں ایک خاتو ن محض ایک سیلفی لینے کی غرض سے ندی کے کنا رے مو جود ایک ٹیلے پر چڑھ گئی اور اس دوران اس کا پیر پھسل گیا جس کے نتیجہ میں وہ ندی میں گر گئی اور اس کی جا ن چلی گئی ۔ایک معصوم بچے کی ما ں جس نے اپنی زندگی کے حوالے سے نہ جا نے کیا کیا خواب اپنی آنکھو ں میں سجا لئے ہوتے مگر ایک بے وقوفانہ طرزِ عمل اختیا ر کر کے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے خوابوں کو چکنا چور کر کے دنیا سے چلی گئی ۔اسی علا قے میں چند روز قبل سر حدی ضلع کپوارہ سے تعلق رکھنے والی ایک جواں سال خاتون محض اس لئے اپنی جا ن سے ہا تھ دھو بیٹھی کہ اُن صاحبہ کو گاڑی چلا نے کا جنو ن تھا اور پھر کیا تھا۔اس نہ آئو دیکھا نہ تا ئو اور دودھ پتھری علا قے کے خطر نا ک ترین راستہ پر کسی سے پو چھے بغیر ہی گا ڑی میں بیٹھ گئی اور محض چند گز دور جا کر ہی گا ڑی ایک کھا ئی میں گرا دی جس کے نتیجہ میں اس کی مو قعہ پر ہی مو ت واقع ہو ئی جبکہ گا ڑی کا حال بھی بے حال سا ہو گیا ۔تیکنا لوجی کا استعما ل تو ٹھیک ہے مگر ہمیں ایک اعتدال قائم رکھنا ہو گا ۔تب جاکر ہم سیلفیوں کے جنو ن میں اپنی جا ن گنوانے سے بچا سکتے ہیں ۔