خبریں

سینئر سیاسی لیڈروں کیلئے خلاف توقعات

سینئر سیاسی لیڈروں کیلئے خلاف توقعات

جی این حکیم
سال 2014 ء جہاں ریاست جموں وکشمیر کے لئے پریشان کُن رہا وہی آخری ماہ دسمبر کے 23 تاریخ کو جاتے ہوئے ایک اور پریشانی پیچھے چھوڑ کر آئندہ آنے والے چھ سالوں کے لئے ریاست کے عوام کو ایک اور پریشان کُن مخمصے میں ڈالدیا گیا ہے۔ وہ ہے ریاستی اسمبلی انتخابات میں حیران کُن نتائج ہیں کل ملا کر سابقہ مخلوط سرکار اپنی کنبہ پروری اور اقربا پروری کے علاوہ بدنام زمانہ پنچایت راج کے کالے کرتوتوں کی بے ہودہ حمایت کرنے کی وجہ سے عوامی غیض و غضب کی شکار ہو گی اور سابقہ مخلوط سرکار کے بہت سارے زیرک اور اپنے آپ کو دانائے دہر سمجھنے والے منسٹر آسمان سے گر کر کھجوروں میں اٹک گئے اور سابقہ وزیراعلیٰ سرینگر میں ڈوب کر بزور مشکل بیروہ سے دوبارہ نظر آئے وہ بھی نذیر احمد خان کے خلاف شعیہ فرقے نے کامیابی دلائی ۔ بقول کسے کسی کا مصیبت اور سختی دوسرے لوگوں کے لئے عبرت ہوتا ہے یہ حالات نئی بننے والی مخلوط سرکار کے حکمران کیلئے ایک اشارے سے کم نہیں ہے بہر حال آمد برسر مطلب رواں سال میں ہوئے پارلیمانی الیکشن کے نتائج سابقہ مخلوط سرکار عوام کی طرف سے ایک قسم کی سگنل تھی کہ عوام میں مایوسی اور ناراضگی تمام حدود پار کر رہی مگر خود غرض حکمران اندھے کی حد تک غفلت اور لاپرواہی میں مست مدہوش تھے۔ پارلیمانی انتخابات کے بعد اُمید تھی کہ شاید سابقہ مخلوط سرکار کچھ ریایتی اعلانات یا عوامی فائدے کے فاصلے لے کر کسی حد تک سرکار کے خلاف ناراضگی دور کرنے کی کوشش کرے گی وہ کہاں لب لباب صرف ریاستی سرکاری ملازمین کی عمر میں دو سالوں کا اضافے کا اعلان کر کے خود کو چکی کے دو پاٹوں میں پھنسا دیا جو ایک آہستہ اور ایک تیز چل کر نیا طوفان بن کر اُبھر آیا ریاست میں اچانک نہیں بہت دیر سے ( بدلاؤ) کا نعرہ جو صرف نوجوان کا نعرہ ہی نہیں تھا عام لوگ بھی( بدلاؤ) چاہتے تھے آخر اس بدلاؤ نعرے کا اصل مطلب کیا تھا ۔ہم نے وادی میں بہت سے نوجوانوں، بزرگوں ، خواتینوں کے ساتھ (بدلاؤ) کے بارے میں تبادلہ خیال کیا اور لوگوں نے صاف صاف بتا دیا کہ ہم نئے حکمرانوں کے ذریعہ اُن پالیسوں کا بدلاؤ چاہتے ہیں جو یہاں کے غریب اور مفلوالحال لوگوں کو فائدہ دینے کے بجائے حکمرانوں کے منظور نظر افراد اور صرف آسودہ حال طبقے کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور مجبور لوگ جب احتجاج کرتے ہیں تو حکمران گولیاں برساتے ہیں۔ اب جبکہ ریاست میں اسمبلی کے انتخابات مکمل ہو کر سیاسی پارٹیاں ضرورت کے مطابق مکمل اکثریت حاصل نہیں کر سکے۔ اس لئے نئی حکومت قائم کرنے میں زبردست دشواریاں پیش آرہے ہیں ریاست میں ایک اور مخلوط سرکار قائم کرنا ناگزیر ہے وادی میں نیشنل کانفرنس بری طرح ناکام صرف 15 نشستیں حاصل کر سکی۔ کانگریس کا ہاتھ خون ناحق سے ٹنڈا ہو گیا، تیسرا محاذ اسی سال قائم ہونے والا تھرڈ فرنٹ جو تین جگری دوست اکھٹے چلا رہے ہیں یعنی خانصاب کا حکیم محمد یٰسین، کولگام کا یوسف تاریگامی اور گلمرگ کا غلام حسن میر اگر چہ حکیم اور تاریگامی بزور مشکل کامیابی حاصل کر چکے ہیں مگر بدمزگی اس وقت ہوئی جب گلمرگ کا بے تاج بادشاہ غلام حسن میر چناؤ ہار گئے اس کی ناکامی نے تیسرا محاذ بددل اور مایوس کر دیا ، میر صاحب کی ناکامی کے باوجود گلمرگ کے لوگ غلام حسن میر کو ہرگز ناکام ماننے کے لئے تیار نہیں اُن کا ماننا ہے اور ان کو یقین مکمل بھی ہے کہ غلام حسن میر ریاستی سیاست میں ایک سرگرم لیڈر اور گلمرگ میں پرانے سے زیادہ سرگرم رول نبھائے گا کیونکہ ریاست میں اقتدار کے بغیر اس کی ایک الگ سیاسی شناخت ہے، سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ پہلی سیاسی شخصیت تھی جس نے غلام حسن میر کی ہار کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے میر صاحب کے ساتھ فون پر بات کی اور اُس کو اسی وقت سرینگر بلایا۔