سرورق مضمون

سینک کالونی معاملہ / وزیراعلیٰ کا انکار ، عمر عبداللہ کا چیلنج

سینک کالونی معاملہ / وزیراعلیٰ کا انکار ، عمر عبداللہ کا چیلنج

ڈیسک رپورٹ
عوامی حلقوں میں اس بات پر سخت تشویش پائی جاتی ہے کہ مرکز نے ریاست میں سابق فوجیوں کی رہائش کے لئے الگ اور محفوظ کالونیاں بسانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ بات اس وقت سامنے آگئی جب سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے سوشل میڈیا پر اس کی خبر دی۔ ان کے ٹویٹرپر یہ بات سامنے آنے کے بعد کئی حلقوں کی طرف سے سخت غم غصہ کا اظہار کیا گیا۔ اس کے جواب میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایسے کسی منصوبے سے سرے سے انکار کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعلان کیا کہ سرکار نے کسی بھی ایسے منصوبے کو منظوری نہیں دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایسا کوئی منصوبہ سرے سے پیش نہیں کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے اس بیان کے ساتھ ساتھ حکومت کے ترجمان نعیم اخترنے اعلان کیا کہ حکومت کو ایسے کسی منصوبے کا سرے سے علم ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمر عبداللہ کی ذہنی اختر اع ہے۔ سرکار کے پاس ایسی کالونیاں بسانے کا سرے سے کوئی منصوبہ نہیں آیاہے۔ اس کے بعد معاملہ کچھ ٹھنڈا پڑگیا تھا۔ لیکن اس دوران عمر عبداللہ نے چیلنج کیا کہ ایسا منصوبہ زیرغور ہے جس کے لئے مرکز نے ڈویژنل کمشنر کو زمین کی نشاندہی کرنے کے لئے ایک خط لکھا ہے۔ ان کے اس بیان کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس طرح کے منصوبے پر عمل کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے عمر عبداللہ کی تنقید کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ایک سابق وزیراعلیٰ کی حیثیت سے انہیں ایسا غیر ذمہ دار بیان نہیں دینا چاہئے۔ اس پر تاحال دونوں طرف سے بیان بازی جاری ہے اور مسئلہ صاف ہونے کے بجائے الجھ رہاہے ۔
سابق فوجیوں کے لئے محفوظ بستیاں تعمیر کرنے پر عوام کے بجائے این سی والے موجودہ سرکار سے سخت ناخوش ہیں اور اپنی ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ نے اس پر سخت بیان بازی کی۔آپ اس معاملے پر حکومت کے خلاف کمر کس کر مید ان میں آچکے ہیں ۔ حریت کے دونوں دھڑوں نے سینک کالونیوں کو لے کر اس پر عوامی ایجی ٹیشن چلانے کااعلان کیا،لیکن حکومت کی ان کالونیوں کے بارے میں انکار کے بعد حریت والے خاموش ہوگئے لیکن این سی کارگذار صدر اور سابق وزیراعلیٰ اس مسئلے کو برابر اچھال رہے ہیں۔ وہ اس بات پر اٹل ہیں کہ اس طرح کی کالونیاں بنانے کے پروگرام پر کام ہورہاہے ۔ جب وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس قسم کے کسی منصوبے کی جانکاری ہونے سے انکار کیا تو عمرعبداللہ نے چیلنج دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ اس مسئلے کو لے کر 16 اپریل کو راج بھون جموں میں راجیہ سینک بورڈ کی میٹنگ ہوئی۔ بورڈ کے سربراہ ریاست کے گورنر ہیں اور انہوں نے اس میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا کہ کشمیر کو ڈویژنل کمشنر کو خط لکھ کر بستی تعمیر کرنے کے لئے سرکاری زمین الاٹ کرنے کو کہا جائے۔ عمرعبداللہ کا کہنا ہے کہ اس غرض سے ہمہامہ بڈگام میں زمین کی باضابطہ نشاندہی بھی کی گئی ۔ لیکن زمین کم پڑنے کی وجہ سے کسی دوسری جگہ وسیع زمین الاٹ کرنے کے لئے کہا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے مرحلے پر سینک بورڈ کو 350 سابق فوجیوں کے لئے مکانات تعمیر کرنے کا پروگرام ہے۔ اس منصوبے کو بعد میں وسعت دینے کا پروگرام ہے ۔ اتنا بڑا منصوبہ زیرغور ہو تو وزیراعلیٰ کا اس سے بے خبر ہونا ممکن نہیں ہے۔حالانکہ وزیراعلیٰ کئی بار انکار کرچکی ہیں اور اس بات کا تکرار کررہی ہیں کہ حکومت نے اس مقصد کے لئے کوئی زمین الاٹ نہیں کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمر عبداللہ جھوٹی افاہیں پھیلاتے ہیں۔ ان کے اس الزام کے جواب میں عمر نے چیلنج کیا کہ جھوٹی افواہیں پھیلانے کے الزام پر ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ درج کیا جانا چاہئے ۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے حکومت نے درجنوں افراد کے خلاف کچھ افواہیں پھیلانے کے جرم میں گرفتار کیا اور ان کے خلاف سوشل میڈیا پر غلط خبریں دینے کے لئے مقدمے درج کئے گئے۔ اس حوالے سے حال ہی میں آرڈر جاری کیا گیا کہ واٹ سیپ کا کوئی گروپ بنانے سے پہلے ضلع مجسٹریٹ سے اجازت حاصل کی جائے بصورت دیگر قانونی کاروائی کی جائے گی ۔ سوشل میڈیا پر اس طرح کی قدغن کے بعد کئی نیوز ایجنسیوں کو اپنے گروپ رجسٹر کرنے کے لئے ضلع حکام سے باضابطہ رجسٹریشن کرنا پڑی ۔ اسی تناظر میں عمرعبداللہ نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بات کہی، لیکن حکومت نے سنی ان سنی کرکے کوئی توجہ نہ دی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے ۔ سینک کالونیوں کے حوالے سے عمر نے یہ بیان بھی دیا کہ حکومت 2008 کی طرح ایک اور ایجی ٹیشن کو ہوا دینا چاہتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ ایجی ٹیشن امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین الاٹ کرنے کے مسئلے پر شروع ہوگئی تھی اور مخلوط سرکار کے خاتمے پر ختم ہوگئی تھی۔ سینک کالونیوں کا مسئلہ اس حد تک پہنچنے سے پہلے ہی سرد پڑ گیا ۔ اس کے باوجود عمر عبداللہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مسئلہ سرد پڑ گیا لیکن ختم نہیں ہوگیا ۔ آپ اپنے بیان پر تاحال اڑے ہوئے ہیں ۔