مضامین

سیکولر مغربی جمہوریت کی پسپائی

یحیٰ بن زکریا صدیقی
اسلامی انقلاب کی حامی منتخب حکومت کے خلاف سیکولر فوجی جنتا کی بیورو کریسی عدلیہ اور ذرائع ابلاغ کی مدد سے بغاوت نے عالم اسلام‘مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ایک اہم ملک کو نئے بحران میں مبتلا کردیا ہے۔مصر کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے مصری تاریخ کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرلیا ہے۔ مصر کے ان ٹی وی چینلوں کو بند کردیا گیا ہے ‘جو مصر کی منتخب جمہوری اور قانونی حکومت کا موقف پیش کرتے تھے۔ مصر میں فوجی انقلاب کے آثار اسی وقت محسوس کرلیے گئے تھے جب سیکولر اور مغرب زدہ اقلیت نے مصر کے منتخب صدر کے خلاف اس احتجاج کو امریکا ‘یورپ اور مشرق وسطیٰ میں اسلامی جمہوری انقلاب سے خوف زدہ آمریتوں اور بادشاہتوں کی سرپرستی حاصل ہوگئی تھی۔ ایک برس قبل 30 جون 2012 کو محمد مرسی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر صدر کے منصب پر فائز ہوئے تھے، یہ مصری تاریخ کے پہلے آزادانہ عام انتخابات تھے۔ ایک برس بعد ہی سیکولر اور لبرل حزب اختلاف کے اتحاد نیشنل سالویشن فرنٹ نے تمرد وبغاوت کے نام پر منتخب حکومت کے خلاف ناجائز تحریک شروع کردی۔ مصر میں جمہوری حکومت کا قیام عرب بہار اور انقلاب کا نتیجہ تھا جس نے عالم عرب کے بدترین آمر اور امریکہ اور اسرائیل کے ستون حسنی مبارک کا تختہ الٹ دیا۔ اسی وقت سے فوجی جنرل طنطاوی کی قیادت میں انقلاب دشمن حکمراں اشرافیہ نے انقلاب کو نتیجہ خیز بنانے سے روکنے کے لیے سازشیں شروع کردی تھیں لیکن وہ محمد مرسی کو منتخب ہونے سے نہیں روک سکتے تھے۔ اس عرصے میں مصر کے سیکولر اور لبرل طبقے کا غیر جمہوری رویہ بے نقاب ہوگیا اور یہ بھی ثابت ہوگیا کہ پرْامن، جمہوری اسلامی انقلاب نہ سیکولر اور لبرل طبقے کو قابل قبول ہے اور نہ ہی امریکا اور یورپ کو۔ مصر کی فوج نے الجزائر کی تاریخ کو دہراتے ہوئے اسلامی قوتوں کے حق میں عوامی رائے کو ٹینکوں کی مدد سے بلڈوز کردیا اور المیہ یہ ہے کہ مصر کی عدلیہ بھی عوامی انقلاب کے خلاف جبرواستبداد کی قوتوں کی شریک کار ہے۔ مصری صدر کے قومی سلامتی کے امور کے مشیر عصام الحداد نے کہا ہے مصر کے نام پر تاریخ کو مسخ نہ کیا جائے اور اس واقعہ کو اس کے اصل نام سے پکارا جائے یعنی آئینی اور منتخب حکومت کے خلاف ’’فوجی بغاوت۔‘‘ صدر مرسی کے ایک اور مشیر باسر حضارہ نے قوم کے نام پیغام جاری کیا ہے کہ وہ فوجی بغاوت کے خلاف پرْامن احتجاج جاری رکھیں اور اسے کسی بھی صورت میں تشدد میں تبدیل نہ ہونے دیں، نہ ہی فوج پولیس اور دیگر مصری طبقات سے ٹکراؤ ہو، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ ایک برس کی اخوان المسلمون کی حمایت کردہ منتخب حکومت مصر کی تاریخ کی سب سے زیادہ جمہوری حکومت تھی۔ اس حکومت نے ہر گروہ کو احتجاج کی آزادی دی ہوئی تھی جبکہ اخوانی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے گروہوں کی اکثریت سابق فوجی آمر حسنی مبارک اور انورا لسادات اور جمال عبدالناصر کی جابرانہ اور مستبدانہ حکومت کا حصہ تھی۔ مصری صدر محمد مرسی نے بار بار حزب اختلاف کو مذاکرات کی دعوت دی یہاں تک کہ فوجی بغاوت سے چند گھنٹے قبل تک حزب اختلاف کو ملاقات کے لیے بلایا اور یہاں تک پیش کش کی کہ سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے مخلوط حکومت بھی قائم کی جاسکتی ہے لیکن لبرل، سیکولر اور امریکا نواز حزب اختلاف کا ایجنڈا کچھ اور تھا اور وہ منتخب سیاسی صدر سے ملنے کے بجائے آرمی چیف سے ملنے کے لیے چلے گئے۔ یہ سانحہ مصر کے انقلاب کو ناکام بنانے کے لیے امریکی منصوبے کا حصہ ہے۔ منتخب آئینی اور جمہوری حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی پشت پناہی کے لیے امریکی وزیر دفاع چک ہیگل مصر کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی سے مشورے میں شریک رہے ہیں۔ مشرق وسطی کی تمام آمریتوں نے فوجی انقلاب کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس لیے کہ مصر کے انقلاب نے مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست میں امریکا کے لیے مسائل پیدا کردیے تھے۔ تیونس سے لے کر لیبیا تک کوئی بھی سیاسی انقلاب امریکی منصوبے کے مطابق نہیں تھا۔ امریکا نے مشرق وسطیٰ اور افریقہ وایشیا کے لیے فوجوں کی سرپرستی میں سیکولر سیاسی قوتوں کی حکومت کا نظام قبول کرلیا تھا تا کہ ایران کی طرز کے کسی بھی انقلاب کے خطرے سے بچا جاسکے۔ اس تناظر میں بعض حلقوں کا یہ بھی خیال تھا کہ امریکا نے اخوان سے بھی مفاہمت کی ہے۔ لیکن فوجی بغاوت نے اس شک کا بھی خاتمہ کردیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اچانک امریکا نے ’’عرب بہار‘‘ کے باوجود مصر جیسے اہم ملک میں عریاں فوجی مداخلت کیوں قبول کرلی تو اس کا جواب واضح ہے۔ حکمت عملی میں تبدیلی کا سبب شام کی صورت حال ہے۔ ’’عرب بہار‘‘ جس کا آغاز تیونس سے ہوا تھا، جس نے تین بڑے ظالم وجابرآمروں زین العابدین بن علی، حسنی مبارک اور قذافی کا تختہ الٹ دیا تھا وہ اب شام تک پہنچ گیا۔ ان تین ملکوں کے تجربے کے بعد شام میں ناپسندیدہ تبدیلی امریکا کو منظور نہیں تھی۔ شام کی صورت حال کو روس اور امریکا نے نئی سرد جنگ کا میدان بنالیا۔ روسی صدر پیوٹن نے اسنوڈن کو پناہ دینے سے انکار کا جواز یہ بتایا ہے کہ وہ ہمارے ’’امریکی پارٹنر‘‘ کے خلاف کام کررہا ہے۔ ایک اسرائیلی سفارت کار نے امریکی وزارت خارجہ کے جریدے فارن افیئر میں مضمون لکھا ہے کہ بشارالاسد دمشق میں ہمارا آدمی ہے۔ امریکا نے شام میں اپنی کٹھ پتلیوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کی لیکن سرزمین شام میں بشارالاسد کی فوج کا مقابلہ اپنے خون سے کرنے والوں سے ان کا تعلق نہیں ہے۔ مرسی کی حکومت قائم ہونے کے بعد مصر حماس کی پناہ گاہ بن گیا تھا جبکہ مصر کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کررہی تھیں۔ اگر شام میں بھی امریکا اور اسرائیل کی مرضی کے خلاف انقلاب آجاتا تو اس کے بعد اسرائیل کا تحفظ آسان نہیں رہتا۔ شام کے مسئلے پر محمد مرسی کے مضبوط موقف اور اقدامات کی وجہ سے یہ فیصلہ کرلیا گیا کہ ایک منتخب اور جمہوری حکومت کا فوج کے ذریعے تختہ الٹ دیا جائے۔ 16 جون کو صدر محمد مرسی نے دمشق میں اپنے سفارت خانے کو بند کرنے کا اعلان کیا اور چارج ڈی افیر کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔اس فیصلے کے نتیجے میں شام کے مسئلے پر روس اور امریکہ کا گٹھ جوڑ بھی بے نقاب ہوجاتا۔ امریکہ شام مین اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ مصر کے پڑوس شام میں ایک اور انقلابی تبدیلی پورے عالمی منظر نامے کو تبدیل کردی اس لیے امریکہ نے امت کی بیداری سے خوفزدہ ہوکر جمہوریت کے تقدس کے فلسفے سے بھی پسپائی اختیار کرلی۔ مصر میں فوجی بغاوت سیکولر مغربی جمہوریت کی پسپائی کی علامت بن گئی ہے۔