اداریہ

شام کی تہلکہ خیز صورتحال ذمے دارکون ؟

صابر کربلائی

شام کے حالات کو بگڑے ہوئے تقریباً دو سال مکمل ہو رہے ہیں ،لیکن ہمیں چاہیے کہ جب ہم شام کے بحران پر بات کریں تو اس ملک کی اسٹرٹیجکل حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کریں نہ کہ جذبات اور انٹرنیٹ پر چلنے والی چند ایک کہانیوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔شام جس خطے میں واقع ہے اسے مشرق وسطیٰ کہا جاتا ہے ، مشرق وسطیٰ میں پوری عرب دنیا سمیت مسلم دنیا اور انسانیت کا بدترین دشمن اسرائیل موجود ہے جو فلسطین پر غاصبانہ تسلط جمائے ہوئے ہے اور خطے میں ایک بد مست ہاتھی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اسی طرح شام جو کہ اسی خطے میں وقوع پذیر ہے لیکن شا م کا کردار اس کے برعکس نظر آتا ہے یعنی روز اول سے فلسطین کے مظلوم انسانوں سے ہمدردی اور ان کی ہر سطح پر مدد کرنا شام کی حکومت اور شامی عوام کا منفرد کارنامہ رہا ہے جو افسوس کے ساتھ کسی دوسری عرب ریاست کا نہیں رہا۔شام نے فلسطینی عوام کی حمایت کی ہے اور فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیموں حماس، حزب اللہ،جہاد اسلامی اور دیگر چھوٹے بڑے گروہوں کو مالی معاونت کے ساتھ ساتھ مسلح معاونت بھی کی ہے جو شام کی تاریخ کو اور بھی بے مثا ل کردیتی ہے۔
البتہ جہاں تک دنیا بھر میں شام کو مقتل بنا کر پیش کیا جا رہاہے اور اس قسم کا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شام کے اندر موجود شامی فورسز عوام پر ظلم وستم کر رہی ہیں تو شاید یہ عام انسان کو بتانے کے لیے درست ہو لیکن کسی ذی شعور اور قابل فہم کے لیے یہ بات قبول کرنا انتہائی نا ممکن اورکٹھن کام ہے۔ دراصل شام کو جو لوگ مقتل بنا رہے ہیں یا بنانا چاہتے ہیں ان میں سر فہرست امریکا، اسرائیل اور دوسرے نمبر پر ان کے وہ مسلم اور اسلامی اتحادی ممالک ہیں جو در اصل امریکی ایماء پر ماضی میں بھی القاعدہ نامی امریکی برانڈ دہشت گرد تنظیم کی سر پرستی کرتے رہے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔
نقطہ فکر یہ ہے کہ ایک طرف امریکی اور اتحادی افواج عراق سے مکمل انخلاء کر چکی ہیں اور اب افغانستان سے انخلاء ہونے کا عمل شروع ہونے جارہا ہے جب کہ دوسری طرف القاعدہ جو کہ خود امریکی دریافت ہے اسے پہلے بہت بڑا دہشت گرد قرار دیا گیا اور پھر فرانس اور امریکا جیسے ممالک میں اسی دہشت گرد گروہ کے سربراہوں سے امریکی اور یورپی اعلیٰ حکام ملاقاتیں کرتے رہے۔عراق سے فوجی انخلاء کے بعد افغانستان سے بھی فوجی انخلاء ہو نے کا وقت آ چکا ہے اور اسی طرح دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں گرفتار ان دہشت گردوں کو مختلف جیلوں جن میں ابوغریب،گوانتا ناموبے،ایکس زی اور دیگر شامل ہیں میں رکھا گیا تھا۔
گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی آفیشل ویب سائٹ پر اس بات کا انکشاف بھی ہو چکا ہے کہ انھی جیلوں میں رکھے گئے سیکڑوں دہشت گردوں کو مجاہدین کا لبادہ اوڑھا کر شام کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ایک طرف یہ دہشت گرد شام کی حکومت کو غیر مستحکم کریں اور دوسری طرف اس لڑائی میں یہ دہشت گرد شامی فورسز کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوجائیں،یعنی سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر یہ بھی کہا جا چکا ہے کہ شام میں لڑنے والے باغی درجنوں ممالک سے شام پہنچائے گئے ہیں تا کہ شام کی حکومت کے خلاف بغاوت میں مسلح کردار ادا کریں۔
در اصل جس فتنے کو امریکا اور اسرائیل سمیت یورپی ممالک نے مضبوط کیا ہے وہی فتنہ در اصل انھی ممالک کے لیے خطر ناک بھی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ دہشت گردوں کے سرپرست یہ ممالک اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اگر دنیا بھر میں رہنے والے یہ دہشت گرد آزاد رہے تو بالآخر ایک کے بعد ایک کا نمبر آنا شروع ہو جائے گا اور اس کی واضح مثال وہ پہلے ہی افغانستان میں دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح ان کے ہی پیدا کردہ گروہوں نے ان کی مخالفت کردی۔
امریکا اور اسرائیل سمیت دیگر ممالک اس خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ تمام ممالک مل کر ان دہشت گردوں کو شام میں اتار چکے ہیں تاکہ یہاں یہ دہشت گرد شامی فورسز سے جنگ کریں اور خود بھی مارے جائیں اور شام کو بھی کسی حد تک غیر مستحکم کریں اور کسی مناسب موقعے پر امریکا سمیت دیگر ممالک کی فورسز شام میں اتار دی جائیں اور شام پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے فلسطینی مزاحمت کو ملنے والی آکسیجن کی لائن کاٹ دی جائے۔یہاں ایک اور بات جو واضح کرنا ضروری ہے وہ شام میں موجود دہشت گردوں کو فراہم کیے جانے والے اسلحے سے متعلق ہے،یہ اسلحہ ان دہشت گردوں نے شامی افواج سے نہیں چھینا بلکہ یہ وہ جدید اور مہلک ہتھیار ہیں جو براہ راست اسرائیل کی مدد سے ان تک پہنچایا جا رہا ہے اور یہ تمام اسلحہ شام کے معصوم شہریوں پر استعمال کیا جا رہاہے۔
مقالے کے آغاز میں ہم نے سیکڑوں شامی زخمیوں کی بات کی تھی ، یہ وہ لوگ ہیں جو شام کے مختلف علاقوں ،حلب، قیسریہ اور دیگر مقامات پر پر امن زندگی گزار رہے تھے تاہم ان دہشت گردوں کو جب شامی افواج کے خلاف کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی توانھوں نے معصوم اور بے گناہوں کا قتل عام شروع کر دیا جس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں شامی شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں بچے،بوڑھے،خواتین اور جوان شامل ہیں، ہزاروں افراد کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا جو شام اور لبنان کی سرحد پر مہاجر کیمپوں میں موجود ہیں جب کہ ایک بڑی تعداد لبنان میں ہجرت کرچکی ہے۔
شام میں شامی حکومت کے خلاف لڑنے والوں کو باغی کہنا بھی باغیوں کی توہین کے مترادف ہو گا کیونکہ باغی تو وہ لوگ ہوا کرتے ہیں جو کسی ریاست کے شہری ہوں لیکن ریاست کے قوانین یا پالیسیوں سے نا اتفاقی کے باعث احتجاج کرتے ہوں یا اپنا غصب شدہ حق حاصل کرنے کے لیے مزاحمت اور جہاد کا راستہ اختیار کرتے ہوں،آخر یہ شام میں کون سے باغی ہیں جن کو حکومت کے خلاف احتجاج کے لیے اسرائیل اسلحہ فراہم کررہاہے،یہ کون سے باغی ہیں جو شام کے شہریوں کو خون میں غلطاں کر رہے ہیں؟ آخر یہ کون سے باغی اور اسلام پسند گروہ ہیں جن کا سرپرست امریکا ہے؟ یہ کون سے باغی ہیں جو جہاد کے نام پر اسلام کا چہرہ مسخ کر رہے ہیں ؟ یہ کیسے باغی ہیں جو نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جلیل القدر صحابی حضرت حجر ابن عدی رضی اللہ تعالی عنہ کے مزار مقدس کو منہدم کر دیتے ہیں اور اس جلیل القدر صحابیؓ رسول (ص) کے جسد مقدس کو نکال کر لے جاتے ہیں؟ آخر یہ کیسے مجاہد اور بغاوت کی تحریک کے علمبردار ہیں کہ جن کے درمیان اسرائیلی افواج کے وحشی درندے جن کے ہاتھ سیکڑوں فلسطینیوں کے خون سے رنگین ہیں ،ان کی صفوں میں ان کے شانہ بہ شانہ شامی افواج کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان دہشت گردوں کو باغی کہنا در اصل بغاوت کی توہین ہے،یہ لوگ دہشت گرد ہیں ان کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ اصلاً اسلام کے دشمن ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ شام کا ہر شہری بہادری سے ان حالات کا مقابلہ کر رہا ہے اور استقامت اور پائیداری سے مقابلہ کررہا ہے اگرچہ ان خطرناک دہشت گردوں نے بچوں کو ان کے والدین کے سامنے ہی جلا کر خاکستر کر دیا ہے لیکن شامی شہری آج بھی شامی حکومت اور بشار الاسد کے ساتھ ہیں اور سب کے سب ایک آواز ہو کر شام میں لڑنے والے ان غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف اس عزم کا اظہار کررہے ہیں کہ شام کے دفاع کی خاطر کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا کیونکہ شام کا دفاع ،فلسطین کا دفاع ہے اور فلسطین کا دفاع عالم اسلام اور انسانیت کا دفاع ہے۔خدا را۔اے دنیا کے انسانوں ،انسانیت کی خاطر، انسانیت کی بقاء کی خاطر،اور اے دنیا کے مسلمانوں! اسلام کے دفاع اور تحفظ کی خاطر اپنی آنکھیں کھولو اور تفرقہ سے باہر آجاؤ۔سوچیے لمحہ فکریہ ہے۔