نقطہ نظر

شاہانہ اخراجات

کلدیپ نائر
میں کئی سال سے دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان میں سپریم کورٹ نے بھارت کے سپریم کورٹ کی نسبت کہیں زیادہ جرأت مندانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے حالانکہ وہاں زیادہ تر فوج کا غلبہ رہا ہے جب کہ   بھارت میں اس کے برعکس جمہوریت تسلسل کے ساتھ جاری رہی۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب پاکستانی وکلاء نے چیف جسٹس کی بحالی کی جنگ کا معرکہ بڑی  کامیابی سے جیت لیا جنھیں سابق آرمی چیف پرویز مشرف نے معطل کر دیا تھا۔
گزشتہ دنوں پاکستانی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایوان صدر‘ وزیر اعظم ہاؤس اور مختلف گورنر ہاؤسز پر عوام کے پیسوں سے بے تحاشا اخراجات کیے جاتے ہیں اور یہ ایک اہم سیاسی سوال ہے جس پر غور و فکر کیا جانا چاہیے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جو غیر ملکی قرضے سے زیر بار ہو اور جہاں کی آبادی کا بڑا حصہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہو، جنھیں صحت اور تعلیم کی بنیادی ضرورتیں بھی حاصل نہ ہوں اس قسم کی فضول خرچیوں اور بھاری اخراجات کا متحمل نہیں ہو سکتا جو نہ صرف یہ کہ رسول اللہؐ کے انتہائی سادہ طرز زندگی کی روایت کے منافی ہے بلکہ یہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔
اس سے ہمیں مہاتما گاندھی کی وہ نصیحت یاد آتی ہے جو انھوں نے آزادی کے بعد مختلف عہدوں پر کامیاب ہونیوالے منتخب نمایندوں سے خطاب کرتے ہوئے دی تھی اور کہا تھا کہ انھیں خود کو آقا نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ محافظ اور نگہبان سمجھنا چاہیے۔ گاندھی چاہتے تھے کہ ان لوگوں کی تنخواہوں میں ایک اوسط آمدنی والے شخص سے بہت زیادہ فرق نہیں ہونا چاہیے لیکن اراکین اسمبلی اور ان لوگوں نے جو میونسپل کمیٹیوں میں اعلیٰ مناصب پر فائز ہوئے انھوں نے کبھی مہاتما گاندھی کی اس نصیحت کی پرواہ نہیں کی۔
تاہم اس حقیقت سے کسی صورت انکار ممکن نہیں کہ ملک عوام کی ملکیت ہے جس کی ذمے داری عوامی نمایندوں پر عائد کی گئی ہے۔ کاش کہ ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں بے پناہ اضافے پر بھی تبصرہ کیا جاتا لیکن عدالت میں ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ یہ سیاسی معاملات کا سوال تھا۔ سیاسی لیڈروں اور ان کے نائبین کے بے تحاشا اخراجات پر ایک عام بحث شروع کرانی چاہیے۔ ان کا طرز زندگی مغرب کے امیر ممالک کے سیاستدانوں کی نسبت بھی کہیں زیادہ بلند ہے لیکن ان کی روک ٹوک کرنے والا کوئی نہیں۔ ایک وقت تھا جب میڈیا یہ کام کیا کرتا ہے لیکن آج ایسا نہیں ہو رہا۔ یہ یقیناقابل افسوس صورت حال ہے لیکن اس کے متبادل کوئی بہتر طریقہ بھی تو نہیں تلاش کیا جا سکا۔ اس حوالے سے مغرب کی حالت بھی کوئی زیادہ مختلف یا بہتر نہیں حالانکہ وہاں پریس نے ہمارے مقابلے میں خاصی ترقی کر لی ہے۔
پریس کونسل آف انڈیا جسے صحافت کا اعلیٰ معیار قائم کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا وہ بھی نمبر ون کی دوڑ میں شامل ہو کر مطلوبہ معیار کو کھو بیٹھی ہے۔ میں بھی اس کونسل کا ایک رکن تھا اور مجھے یاد ہے کہ پریس پر سنسر شپ کے دنوں میں کونسل کے چیئرمین نے، جو  سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج تھے، انھوں نے حکومت کی حمایت حاصل کرنے کی خاطر اس وقت کے وزیر اطلاعات وی سی شکلا کو لکھا کہ پریس کونسل کے چیئرمین کے طور پر انھوں نے اس بات میں کامیابی حاصل کر لی ہے کہ کونسل ممبران ہر گز ایسی قرار داد منظور نہیں کریں گے جس میں سنسر شپ پر تنقید کی گئی ہو۔
جنتا حکومت نے ایک قرطاس ابیض جاری کیا جس میں اس قسم کے طرز عمل کو اعلیٰ سطح پر نمایاں کیا گیا تھا۔ لیکن جب مسز اندرا گاندھی نے1980ء  میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد وہی روش اختیار کر لی تو میڈیا یا کونسل میں کوئی ایک بھی ایسا فرد نہیں تھا جو خاتون وزیر اعظم پر انگلی اٹھا سکتا حتیٰ کہ آج بھی جب پریس کونسل کی ازسرنو تشکیل کے بعد اس میں ایڈیٹروں اور کارکن صحافیوں کو بھی نمایندگی دیدی گئی ہے اس کے طرز عمل میں بمشکل ہی کوئی فرق پڑا ہے۔ غالباً پریس کونسل آف انڈیا کو کسی اور نمایندہ تنظیم سے تبدیل کر لیا جانا چاہیے جیسا کہ انگلینڈ میں کیا گیا ہے۔
وہاں بھی یہ محسوس کیا گیا کہ پریس کونسل میں قطعاً کوئی جان نہیں ہے۔ 1980ء کی دہائی میں پریس کونسل آف یو کے کو پریس کمپلینٹ کونسل (پی سی سی) میں تبدیل کر دیا گیا۔ میڈیا کا یہ تجربہ بھی زیادہ خوشگوار ثابت نہیں ہوا لیکن نہ تو حکومت میں اور نہ ہی میڈیا میں کوئی نیا، متنوع یا انوکھا خیال پیش کیا جا سکا۔ چنانچہ معاملہ جوں کا توں ہی ہے۔ بھارت میں مجھے یقین ہے کہ اب سنسر شپ کے نفاذ کا کوئی امکان نہیں ہے لیکن پھر بھی پریس کونسل کے کردار کو ازسرنو  متعین کیا جانا چاہیے تا کہ یہ زیادہ طاقتور ہو سکے۔ بصورت دیگر اس کی کاغذی کارروائی سے زیادہ اور کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔
بعینہ مجھے سابق اسپیکر سومناتھ چیٹرجی کی اس تجویز سے بھی اتفاق ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہیں اور مراعات کا جائزہ لینے کے لیے ایک آ زاد پے کمیشن تشکیل دیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بنیادی ضروریات زندگی کے اخراجات میں اضافہ کے باعث ان کی تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہیے لیکن اس کے لیے باقاعدہ ایک طریق کار وضع کیا جانا چاہیے کہ اضافہ کس قدر ہو تاہم اس کے ساتھ ہی اسپیکر چیٹرجی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اراکین پارلیمنٹ کو اپنی تنخواہوں میں اضافے کا از خود فیصلہ کرنے کا اختیار دیدیا جائے۔
اسی طرح مختلف ریاستوں کے منتخب اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں بھی اضافہ کیا جانا چاہیے۔ فی الوقت کیرالہ کے قانون ساز جن کے پاس وزارت  کا قلمدان نہ ہو ان کی تنخواہ 21,300  روپے ماہوار ہے جب کہ دہلی میں ان کے ہم منصب 50,000 روپے اور پنجاب میں 54,500 روپے تنخواہ لے رہے ہیں۔ کیرالہ کے قانون سازوں کی تنخواہ کا بریک اپ اس طرح سے ہے بنیادی تنخواہ 300 روپے‘ حلقہ انتخاب کا الاؤنس3500 روپے‘ ٹیلی فون چارجز4000 روپے‘ پٹرول اور ریلوے کوپن کے اخراجات کے لیے6000 روپے جب کہ مستقل ٹریول الاؤنس 7500 روپے۔
حالانکہ منتخب اراکین کو یک مشت تنخواہ دی جانی چاہیے جس میں ان کی رہائش‘ ٹرانسپورٹ‘ بجلی‘ پانی‘ ٹیلی فون وغیرہ کے تمام اخراجات شامل ہوں تا کہ عوام کو پتہ چل سکے کہ ایک منتخب رکن کا سرکاری خزانے پر کتنا بوجھ  ہے۔ جب تنخواہوں کو مختلف اجزاء میں تقسیم کر دیا جائے تو اس سے صورت حال میں ابہام پیدا ہو جاتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ مرکز اور ریاستوں کے اراکین کے لیے یکساں پیمانہ مقرر کیا جائے۔ تب ہی قوم جان سکے گی کہ مہاتما گاندھی کی نصیحت پر کس حدتک عمل ہو رہا ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)