سرورق مضمون

شبیر شاہ کے بعد یاسین ملک حریت (م) سے نالاں تھرڈ فرنٹ بنانے کیلئے میدان ہموار

شبیر شاہ کے بعد یاسین ملک حریت (م) سے نالاں تھرڈ فرنٹ بنانے کیلئے میدان ہموار

ڈیسک رپورٹ
کشمیر یونیورسٹی میں منعقدہ ایک سمینار میں بولنے کا وقت نہ دئے جانے پر یٰسین ملک نے حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ۔ ملک نے حریت رہنماؤں کے خلاف سخت بیانات دئے اور انہیں حسینیت ؑ کی آڑمیں یزیدوں کی مدد کرنے کا الزام لگایا ۔ ان کا صاف اشارہ ہے کہ حریت کے رہنما آزادی پسندی کا دم تو بھرتے ہیں لیکن اس نعرے کی آڑ میں ہندوستان کی مدد کررہے ہیں۔ اس طرح سے حریت پسندوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کھل کر سامنے آگئے اور ایک دوسرے پر الزامات لگانے لگے۔ اس سے پہلے ایک اور معروف علاحدگی پسند شبیر احمد شاہ نے حریت (م) سے دوری اختیار کرلی ہے اور اس کو ہندوستان کے ساتھ ساز باز میں ملوث قرار دیا ۔ اگرچہ شبیر شاہ نے اس طرح کھل کر حریت لیڈروں کی مخالفت تو نہیں کی البتہ یٰسین ملک نے پورے زور وشور سے حریت (م) کے لیڈروں کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان پر کئی طرح کے الزامات لگائے ۔ ادھر حریت (م) کے حامی حلقے نے لبریشن فرنٹ پر الزام لگایا کہ اس کے لیڈروں نے یٰسین ملک سمیت بہت پہلے ہندوستان کے سامنے ہتھیار ڈالے اور اس وقت سے لے کر آج تک گاندھیائی فلسفہ کی تعلیم دے رہے ہیں ۔جس وجہ سے اس کو آزادی پسند لیڈر تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ یٰسین ملک کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات اور جوابی الزامات کے بعد دونوں طرف سے میدان گرم ہے ۔ یہ لڑائی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ہے بلکہ اب دونوں دھڑوں کے چھوٹے بڑے حلقے اس میں شامل ہوگئے ہیں اور ایک دوسرے پر الزامات لگارہے ہیں ۔
لبریشن فرنٹ کے سربراہ یٰسین ملک اور حریت (م) کے درمیان لفظوں کی جنگ اس وقت شروع ہوگئی جب کشمیر یونیورسٹی میں منعقد کئے گئے ایک سمینار میں بلائے جانے کے باوجود ملک کو بولنے کا وقت نہیں دیا گیا ۔ اس سمینار میں حریت(م) سربراہ کے علاوہ دس کے لگ بھگ حریت لیڈروں نے تقریر کی لیکن عین موقع پر یٰسین ملک کو بولنے کا وقت نہیں دیا گیا ۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ وقت کی کمی کی باعث ملک کو وقت نہیں دیا گیا لیکن ملک اس بات پر بضد ہیں کہ اسے حریت رہنماؤں کے کہنے پر تقریر کرنے سے روکا گیا ۔ ان کاکہنا ہے کہ آپ چونکہ کشمیر کی تحریک آزادی پر خاموشی اختیار نہیں کرسکتے تھے لہٰذا اسے بولنے نہیں دیا گیا۔ یٰسین ملک کو بولنے سے کیوں روکا گیا اس کی وجہ کچھ بھی ہوسکتی ہے ۔ لیکن اس وجہ سے کئی اہم باتیں منظر عام پر آگئی ہیں۔ ان باتوں کے سامنے آنے پر لوگ سخت حیران وپریشان ہیں۔ حریت میں اس وقت پہلی دراڈ پیدا ہوگئی جب سیّدعلی گیلانی نے اس کے خلاف علم بغاوت شروع کی اور اپنے ایک الگ حلقہ تشکیل دیا ۔ اس حوالے سے لبریشن فرنٹ نے الزام لگایا کہ آغا سید الموسوی نے اس وقت حریت کو دو دھڑوں میں تقسیم کرنے میں اہم رول ادا کیا ۔ گیلانی صاحب نے اس طرح کی کوئی بات کہنے کے بجائے کہا ہے کہ حریت (م) کے لیڈروں نے الیکشن بائیکاٹ کی مہم چلانے کے بجائے کچھ خفیہ ممبر الیکشن میں اتارے۔ اس طرح اس نے بالواسطہ طور الیکشن کو کامیاب بنانے میں مدد کی۔ اسمبلی انتخابات کے دوران گیلانی صاحب خود جیل میں بند تھے جس وجہ سے آپ حریت اجلاسوں میں شرکت کرسکے اور نہ الیکشن کے خلاف کوئی مہم چلاسکے ۔ اس کے بعد امرناتھ ایجی ٹیشن شروع ہوئی۔ اس ایجی ٹیشن کی حریت (گ) نے قیادت کی اور حریت (م) کسی حد تک نرم نظر آئی ۔ اسی ایجی ٹیشن میں سینئر حریت لیڈر عبدالعزیز شیخ مارے گئے اور شبیر شاہ اس میں بال بال بچ گئے ۔ بعدمیں شبیر شاہ حریت (م) سے دور ہوگئے اور اس کے لیڈروں کے خلاف سرد مہری دکھانے لگے ۔ انہوں نے اگرچہ حریت سے علاحدگی تو اختیار نہ کی تاہم عملی طور اس کے ساتھ تعاون کرنے سے احتراز کرتے رہے ۔ اس کے بعد 2010کی ایجی ٹیشن چلی ۔ اس موقعے پر بھی حریت (م ) نے کوئی خاص رول ادا نہ کیا ۔ بلکہ اس کے لیڈروں پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے دہلی کے مذاکراتکاروں سے خفیہ ملاقاتیں کیں اور ان سے تعاون کیا۔ مذاکراتکار ایک اہم لیڈر عباس انصاری کے گھر بھی گئے اور وہاں چائے پینے کے علاوہ انصاری سے بھی ملے ۔ اس کے بعدبہت سے لوگوں کا خیال تھاکہ عباس انصاری کو حریت سے علاحدہ کیا جائے گا۔ لیکن معمولی کاروائی کے بعد انصاری اور ان کی جماعت کی ممبر شپ بحال کی گئی ۔ اس وجہ سے شبیر شاہ اور حریت(م) کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے ۔تاہم شاہ نے کوئی سخت اختلافی بیانات نہیں دئے۔ اس کے برعکس یٰسین ملک نے کھل کر حریت(م) کی مخالفت کی اور اس کے لیڈروں کے خلاف سخت قسم کے بیانات دئے ۔ ان لیڈروں پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح سے حریت کے دودھڑوں کی موجودگی میں ایک تھرڈ فرنٹ بنانے کے لئے میدان ہموار کیا جارہا ہے ۔ ایسا ہوا تو امکان ہے کہ کئی دوسری جماعتیں جو حریت دھڑوں کے اندر خود کو کمزور محسوس کررہی ہیں ان دھڑوں سے الگ ہوکر تھرڈ فرنٹ میں آئیں گی۔اس وجہ سے نہ صرف حریت (م) بلکہ حریت(گ) کو بھی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حریت کے دونوں دھڑے اپنی اکائیوں کے ساتھ رابطہ بڑھانے میں لگی ہوئی ہیں اور اپنی گرفت مضبوط کرنے پر لگی ہوئی ہیں۔