اداریہ

شرنارتھیوںکامسئلہ پھر بھڑک اٹھا

جموں میں مقیم شرنارتھیوں کو ریاست کا مستقل باشندہ قرار دینے کی افواہیں گرم ہیں ۔ اس وجہ سے کشمیر میں سخت بے چینی اور ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ مرکز ی سرکارپاکستان سے جموں آئے ان مہاجرین کو یہاں کا مستقل باشندہ بنانے اور انہیں بسانے کی تیاریاں کررہی ہے ۔ اس وجہ سے سیاسی اور سماجی حلقوں میں سخت ہلچل مچی ہوئی ہے ۔ علاحدگی پسندوں کے علاوہ مین اسٹریم جماعتوں کے رہنمائوں نے مرکز کے اس فیصلے کے خلاف بھر پور طریقے سے احتجاج کرنے اور اس فیصلے کو روکنے کا اشارہ دیا ہے ۔ حریت کے دونوں دھڑوں ، لبریشن فرنٹ ، نیشنل کانفرنس اور پیوپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے اس فیصلے کے خلاف پہلے ہی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ تمام سیاسی اور سماجی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کے خلاف منظم ہوکر احتجاج کریں گی ۔ علاحدگی پسندوں نے بھی کہا تھا کہ وہ اس مسئلے پر جلد ہی ایجی ٹیشن کا اعلان کریں گے ۔ اگرچہ ابھی تک مرکز سے اس مسئلے پر کھل کر کوئی بات نہیں کہی گئی ہے تاہم اس بارے میں بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس نے اپنی سفارشات میں ان پناہ گزینوں کو مستقل شہریت دینے اور وہ تمام مراعات دینے کی سفارش کی ہے جو کشمیر مہاجر پنڈتوں کو دی جارہی ہیں۔ ان سفارشات میں انہیں مکان کی تعمیر کے لئے فی کنبہ تیس لاکھ روپے دینے اور نوکریوں میں ریزرویشن دینے کی مانگ کی گئی ہے ۔ اس طرح سے انہیں یہاں کے شہریوں سے بڑھ کر حقوق حاصل ہونگے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس پر سخت پریشان ہیں اور اس کی مزاحمت کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔
1947 میں مغربی پنجاب سے آئے یہ مہاجرین جموں میں پہناہ گزینوں کے طور مقیم ہیں۔ یہاں کے قانون کے مطابق یہ ریاست کے اصل باشندے نہیں ہیں۔ اس وجہ سے انہیں یہاں کے شہری نہیں مانے جاتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ جموں چھوڑ کر کسی دوسری جگہ جانے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ ہندوستان پچھلے ساٹھ سالوں سے انہیں ایک یا دوسرے بہانے سے یہیں ٹھہرانے پر مجبور کررہاہے اور انہیں مستقل باشندہ قرار دئے جانے کے بہانے تلاش کئے جاتے رہے ۔ حریت (گ) شرنارتھیوں کو ریاست میں بسانے کو فلسطین کے ساتھ ملارہا ہے ۔ اس کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ فلسطین میں بھی اسی طرح لوگوں کو باہر سے لاکر آباد کیا گیا یہاں تک کہ انہوں نے فلسطین کے اصل باشندوں کو وہاں سے نکال باہر کیا۔ ان رہنمائوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان بھی اسی پالیسی پر گامزن ہے جس کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ حریت (گ ) کے سربراہ سید علی گیلانی نے دھمکی دی ہے کہ وہ اس کے خلاف بڑے پیمانے پر ایجی ٹیشن چلائیں گے ۔ ادھر حریت (م) نے حال ہی میں ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کمیٹی اپنے ہم خیال گروہوں سے مشورہ کرکے اس کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دے گا۔اس مسئلے پر این سی اور پی ڈی پی لیڈروں نے بھی علاحدگی پسندوں کا موقف اختیار کیا ہے اور اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے ۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ دفعہ370 کے ہوتے ہوئے کسی بھی غیر ریاستی باشندے کو یہاں کا مستقل شہری قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ یٰسین ملک نے بھی اس کے خلاف آواز اٹھانے کا اعلان کیا ہے ۔ عوامی حلقوں میں اس وجہ سے سخت تشویش پائی جاتی ہے اور اس اقدام کو یہاں کے مسلم اکثریتی کردار ختم کرنے کی ایک سازش قرار دیا جارہاہے ۔ لگتا ہے کہ یہ مسئلہ ایک سنگین صورت اختیار کرنے والا ہے اور اندازہ ہے کہ اس وجہ سے یہاں کے امن و امان میں خلل پڑسکتا ہے ۔