سرورق مضمون

ڈی ڈی سی ممبران کا جموں میں احتجاج

سرینگر ٹوڈےڈیسک
سیکورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ عسکری تنظیم البدر کے چیف کمانڈر غنی خواجہ کی ہلاکت ان کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے ۔ خواجہ کشمیر میں موجود جنگجووں میں مطلوب ترین جنگجو تھے۔ باقی تنظیموں کے اعلیٰ کمانڈروں کی مسلسل ہلاکت کے بعد اب غنی خواجہ ایسے واحد کمانڈر تھے جو فورسز کے ہاتھ نہیں آرہے تھے ۔ منگل وار کو تجر شریف سوپور میں حفاظتی دستوں کے ساتھ تصادم میں خواجہ مارا گیا ۔ اس حوالے سے دئے گئے سرکاری بیان میں کہا گیا کہ انہیں علاقے میں جنگجووں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملی تھی جس کے بعد وہاں محاصرہ کیا گیا۔ وہاں موجود جنگجووںنے سخت فائرنگ کرکے علاقے سے بھاگنے کی کوشش کی۔ تصادم آرائی میں ایک جنگجو مارا گیا ۔ مارے گئے جنگجو کی شناخت بطور البدر چیف غنی خواجہ کے کی گئی۔ پولیس کے سربراہ نے اسے سیکورٹی فورسز کی ایک بڑی کامیاب قرار دیا ۔ مذکورہ کمانڈر کے بارے میں کہا گیا کہ دو سال پہلو جنگجو صفوں میں شامل ہوا تھا اور اس وقت سے لے کر فورسز کو مطلوب تھا۔ اس سے پہلے کئی بار محاصرے میں آگیا تھا ۔ لیکن کسی نہ کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوا۔ آخر کار تجرشریف کے آپریشن میں مارا گیا۔ اس طرح سے کشمیر میں سرگرم سب سے مطلوب کمانڈر کی ہلاکت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ فورسز کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کاروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک کہ تمام عسکریت پسندوں کو ہلاک نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز کو عوام کی طرف سے بڑے پیمانے پر تعاون مل رہا ہے۔ عوام کی طرف سے ملنے والے تعاون کی وجہ سے جنگجووں کے چھپنے کی جگہوں کی نشاندہی کرنا آسان بن جاتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے کچھ عرصے سے جنگجووں کو بڑے پیمانے پر تلاش کیا گیا اور قریب قریب تمام نمایاں عسکری کمانڈر مارے گئے ۔ ادھر جمعرات کو بجبہاڑہ اننت ناگ میں ہوئے تصادم کے دوران دو جنگجو مارے گئے۔ دونوں نوجوانوں کی شناخت مقامی جنگجووں کی طور کی گئی ۔ 18گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس تصادم میں بتایا گیا کہ جیش محمد سے تعلق رکھنے والے دو سرگرم جنگجو مارے گئے۔ یہ تصادم آرائی بدھ کی شام کو شروع ہوئی تھی ۔ سخت گولہ باری کے نتیجے میں دو گائو خانے تباہ کئے گئے جہاں جنگجو چھپے ہوئے تھے ۔ خبررساں اداروں کے مطابق کنڈی پورہ علاقے میں ہوئی اس جھڑپ سے پورے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا تھا ۔ اسی دوران سرکار کی طرف سے انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی ۔ طویل جھڑپ کے دوران بتایا جاتا ہے کہ جنگجووں کو سرنڈر کرنے کی پیش کش کی گئی ۔ لیکن سرنڈر کرنے کی پیش کش کے جواب میں انہوں نے سیکورٹی اہلکاروں پر گولیاں چلائیں ۔ جس کے بعد دونوں طرف سے گولیوں کا سلسلہ کافی دیر جاری رہا ۔ آپریشن ختم ہونے کے بعد دو جنگجووں کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی۔ ان کی شناخت عادل ساکنہ شٹھ پورہ بجبہاڑہ اور زاہد ساکنہ سرہامہ بجبہاڑہ کے طور کی گئی ۔ اس دوران وہاں پتھرائو کا ایک معمولی واقعہ بھی پیش آیا جس پر پولیس کی طرف سے سخت وارننگ دی گئی۔ پولیس نے لوگوں کو خبردار کیا کہ تصادم آرائی کے دوران ایسی جگہوں سے دور رہیں ۔ ادھر پولیس کی طرف سے دعویٰ کیا گیا کہ پچھلے کچھ روز کے دوران اونتی پورہ کے علاقے میں جنگجووں کے کئی بالائی کارکن گرفتار کئے گئے ۔ گرفتار کئے گئے ان نوجوانوں سے مبینہ طور جنگجو سرگرمیوں کے بارے میں کافی معلومات حاصل کی گئیں ۔ پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے گولہ بارود سے بھری دو گاڑیاں بر آمد کیں جس سے دھماکہ کئے جانے کے خطرے کو ٹالا گیا ۔ پولیس کا کہنا تھا کہ جنگجو لیتھ پورہ پلوامہ طرز کا ایک اور دھماکہ کرنا چاہتے تھے جسے بروقت ناکام بنایا گیا ۔
جموں سے اطلاع ہے کہ حال ہی میں منتخب کئے گئے ڈی ڈی سی ممبران کی طرف سے وہاں سخت احتجاج کیا جارہاہے ۔ یہ ممبران اس بات پر احتجاج کررہے ہیں کہ سرکار نے ان کے لئے جو تنخواہیں مقرر کی ہیں وہ ناکافی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری دفتروں میں کام کرنے والے چپراسی مقرر کئے گئے تنخواہ سے کہیں زیادہ تنخواہ وصول کرتے ہیں ۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ ان کے لئے مناسب تنخواہ مقرر نہ کی جائے تو وہ اجتماعی طور اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیں گے۔ انہوں نے شکایت کی کہ سرکار ان کے ساتھ مناسب رویہ اختیار کرنے کے بجائے ذلیل کررہی ہے ۔ یاد رہے کہ پچھلے دنوں انتظامی کونسل کا ایک اہم اجلاس لیفٹنٹ گورنر کی صدارت میں منعقد ہوا جہاں ڈی ڈی سی عہدیداروں کے لئے بیس ہزار سے لے کر پنتیس ہزار کی تنخواہ مقرر کی گئی ۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی ڈی ڈی سی ممبران نے جموں میں جمع ہوکر سخت احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ان کے ساتھ دھوکہ کررہی ہے ۔ یاد رہے کہ جموں کشمیر کا خصوصی درجہ ختم ہونے کے بعد یہ اس طرح کے پہلے انتخابات تھے ۔ انتخابات میں کہیں کم اور کہیں بھاری ووٹنگ ہوئی ۔ اپوزیشن اتحاد گپکار الائنس نے ان انتخابات میں بی جے پی کے خلاف منظم ہوکر حصہ لیا ۔ جموں کے بہت سے علاقوں میں بی جے پی کو اکثریت ملی جبکہ کشمیر میں الائنس کے زیادہ امیدوار کامیاب ہوئے ۔ منتخب ممبران شکایت کررہے ہیں کہ ان کے لئے جو تنخواہ مقرر کی گئی وہ بہت ہی کم ہے ۔ اس تنخواہ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انہوں نے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کی دھمکی دی ۔ اپنی دھمکی پر وہ واقعی عمل کریں گے اس حوالے سے وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے ۔