نقطہ نظر

صاف چُھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

صاف چُھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

کلدیپ نائر
میں لندن سے شایع ہونے والے اخبار ’’’دی ٹائمز‘‘ کا نامہ نگار تھا جب کہ نویل میکس ویل اسی اخبار کا جنوبی افریقہ کے لیے نمایندہ تھا۔ وہ بھی میری طرح نئی دہلی سے بیٹھ کر ہی اپنی خبریں اور مکتوب اخبار کو بھجواتا تھا۔ اور ہم اکثر بھارت کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات پر بات چیت کرتے رہتے تھے، بالخصوص چین کے بارے میں۔اور اگر یہ کہا جائے کہ نویل بھارت دشمن تھا تو اس سے پوری بات واضح نہیں ہوتی۔ ہمارے ملک کے لیے اس کی نفرت اس کے ہر ڈسپیچ (مراسلے) میں نمایاں ہوتی۔ مثال کے طور پر اس نے بھارت کے 1957ء میں ہونے والے دوسرے عام انتخابات کے بعد لکھا کہ یہ اس ملک کے لیے آخری عام انتخابات ہیں کیونکہ جمہوریت بھارت کی دانش سے لگا نہیں کھاتی۔ میں نے اس کی ایسی کوئی تحریر نہیں دیکھی جس میں اس نے اپنے کسی تجزیے کو غلط قرار دیا ہو۔ اسے دیکھ کر مجھے وہ سنگدل برطانوی حکمران یاد آ جاتے جو اپنے ملک کو امیر بنانے کے لیے برصغیر کا انتہائی بے دردی سے استحصال اور لوٹ مار کر رہے تھے اور ہمیں بدستور اپنی نو آبادی رکھنے کی خاطر بدترین ظلم و تشدد روارکھے ہوئے تھے۔ میکس ویل اور میں دونوں بھارت کی ترقی کا چین کے ساتھ موازنہ کرتے اور وہ جمہوری طرز حکومت کے بجائے چین کی مطلق العنان حکمرانی کی تعریف کرتا تھا۔ وہ ایمانداری سے یہ سمجھتا تھا کہ چین پر بھارت نے پہلے حملہ کیا تھا اور اسی وجہ سے اس نے اپنی کتاب کا عنوان ’’انڈیاز وار آن چائنا‘‘ رکھا۔ اس کتاب کی افادیت یہ تھی کہ اس میں ہنڈرسن بروکس کی چین کے خلاف 1962 کی جنگ میں بھارت کی شکست کی وجوہات کے بارے میں مرتب کی جانے والی رپورٹ کے بعض حصے بھی شامل تھے۔
ہینڈرسن کو حکومت نے بھارت کی شکست کی وجوہات تلاش کرنے کا کام سرکاری طور پر تفویض کیا تھا۔ اس نے مبینہ طور پر الزام نئی دہلی پر رکھا، بالخصوص وزیر اعظم جواہر لعل نہرو پر جنہوں نے بھارت کو چین کے خلاف جنگ میں دھکیل دیا تھا حالانکہ جن بھارتی فوجیوں کو کشمیر سے ہٹا کر چینیوں کے مقابل بھیجا گیا ان بیچاروں کے پاس جوتے تک نہیں تھے۔میں اس وقت وزیر داخلہ لال بہادر شاستری کا پریس سیکریٹری تھا اور مجھے ان کی خفگی کا علم تھا جو انھیں چین کے وزیراعظم چو این لائی کو نہرو پر فوقیت دینے کی کوششوں کی وجہ سے لاحق تھی۔ حالانکہ نہرو نے ہی چو این لائی کو عالمی شخصیات سے متعارف کروایا تھا اور اسے بنڈنگ میں ہونے والی اولین ناوابستہ ممالک کی کانفرنس میں لے کر گئے تھے۔ اور یہ کہ نہرو شکست کے بعد پہلے جیسے نہیں رہے تھے اور وہ جلدی ہی فوت ہو گئے کیونکہ وہ ذاتی طور پر ایسے محسوس کرتے تھے جیسے کہ ان کے ساتھ دغا ہو گئی تھی۔ اگرچہ سردار پٹیل نے انھیں ایک خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ چین پر کبھی اعتبار نہ کرنا کیونکہ ایک نہ ایک دن یہ بھارت پر حملہ کر دے گا۔ لیکن نہرو ایک سوشلسٹ ملک کے بے حد گرویدہ تھے اور انھیں آخر وقت تک یہ قلق رہا کہ وہ بھارت میں ویسی تبدیلی نہیں لاسکے۔میکس ویل نے ہینڈرسن بروکس کی رپورٹ کے بعض حصے شایع کر دیے۔ میرا خیال ہے کہ اس نے ایسا کانگریس مخالف قوتوں کو تقویت دینے کے لیے کیا تھا اور یہ کہ نہرو نے ملک کو جنگ کے لیے تیار نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ چین کے منصوبے کو سمجھ سکے جو کہ اب ایک کھلا راز ہے۔ میں نے چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل پی این تھاپر سے ایک طویل انٹرویو کیا تھا۔ اس نے تحریری طور پر یہ بتایا تھا کہ اگر بھارت اور چین کی جنگ ہو گئی تو بھارت شکست کھا جائے گا۔
تھاپر نے ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی تھی جس میں فرسودہ ہتھیاروں کو تبدیل کرنے اور فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی تجاویز دی تھیں۔ نہرو نے بعد ازاں تھاپر کو بتایا کہ ان کی تجاویز نہرو کے سامنے کبھی پیش ہی نہیں کی گئیں۔نئی دہلی نے متنازعہ علاقے میں اپنی فوج بھیج دی تا کہ اس پر اس کا قبضہ ثابت ہو سکے۔ مجھے یاد ہے کہ سابق سیکریٹری داخلہ بی این جھا نے مجھے کہا تھا کہ ڈائریکٹر آف انٹیلی جنس جی این ملک کا یہ خیال کس قدر زبردست ہے کہ وہاں پر پولیس کی چوکیاں قائم کر دی جائیں۔ خواہ یہ چوکیاں چینی فوج کے عقب میں ہی کیوں نہ قائم ہوں تا کہ زیادہ سے زیادہ علاقے پر ہمارا قبضہ قائم ہو جائے۔ لیکن اس بے چارے کو یہ احساس ہی نہیں تھا کہ اس قسم کی الگ تھلگ چوکیاں قائم کرنے کا کیا فائدہ جہاں تک ان کو رسد بھی نہ پہنچائی جا سکے۔ اور جونہی چینی فوج اپنی صفیں سیدھی کر کے پیش قدمی کریگی تو یہ چوکیاں بآسانی لڑھک جائیں گی۔ ہم اپنے پولیس والوں کو بلاوجہ موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ کام فوج کا ہے۔ لیکن چونکہ فوج نے لاجسٹکس سپورٹ کے بغیر وہاں جانے سے انکار کر دیا تھا لہٰذا وہاں ہم نے پولیس والے بھیج دیے۔یہ چوکیاں ٹیڑھے میٹرھے انداز سے اکتالیس مقامات پر قائم کی گئی تھیں۔ کچھ پولیس والے ایک چوکی میں تھے اور کچھ دوسری میں۔ یہ ایسے تھا جیسے چینی حملہ آوروں کے سامنے چند جزیرے قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ چین کا حملہ بہت بھرپور تھا اور ہماری طرف سے بچاؤ کی بے ڈھنگی کوششیں اب سب لوگ دیکھ سکتے ہیں۔ حکومت نے ہماری شکست کی خبروں کو چھپانے کی کوشش کی جو مسلسل موصول ہو رہی تھیں۔
حکومت اب بھی اس کو کو نیفا میں آٹھ ستمبر کو ہونے والی چینی پیش قدمی کی طرح کا واقعہ سمجھ رہی تھی جسے کہ سرکاری طور پر یوں بیان کیا گیا تھا کہ چینی فوجیں اچانک ہی ہماری ایک چوکی کے پاس نمودار ہو گئیں۔مجھے یاد ہے کہ پہلی دفعہ میں نے ہند چینی سرحدی جھگڑے کی خبر 1957 کے اوائل میں سنی جب میں مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ وابستہ تھا۔ میں ایک سینئر افسر کے ساتھ یہ شکوہ کر رہا تھا کہ مشرقی پاکستان کی سرحد پر خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ اس نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا لیکن اس کا ایک جملہ بہت چونکا دینے والا تھا۔ اس نے کہا ’’کہ صرف پاکستان ہی کیوں‘ آپ کو بہت جلد چین کی طرف سے بھی مشکل شروع ہو جائے گی‘‘۔ اس نے زیادہ وضاحت تو نہیں کی لیکن میرے پے در پے سوالات کے جواب میں اس نے بتایا کہ چین کے سنکیانگ کے راستے ایک سڑک بنانے کی مبہم سی خبریں ضرور آ رہی ہیں جس کے بارے میں وزارت امور خارجہ کو کئی مرتبہ بتایا گیا ہے۔ مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ حکومت بروکس رپورٹ کو خفیہ کیوں رکھ رہی ہے۔ وزارت دفاع کا موقف ہے کہ اس کا افشا عوام کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔
1962ء میں اختیار کی جانے والی حکمت عملی اور ہتھیار موجودہ زمانے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس نے اس رپورٹ کی اشاعت کا کہنابھی تھا مگر کانگریس کی حکومت اس غلط سوچ میں مبتلا ہے کہ اس سے نہرو کا تاثر خراب ہو گا، نیز حکمران پارٹی کی ساکھ کو بھی ضعف پہنچے گا۔ لیکن اب جب کہ اس رپورٹ کے اقتباسات پہلے ہی انٹرنیٹ پر آ چکے ہیں لہٰذا حکومت کی طرف سے اس کو بدستور خفیہ رکھنے کی کوشش خاصی احمقانہ لگتی ہے نیز یہ غیر جمہوری رویہ بھی ہے جو معلومات تک رسائی کے حق کے منافی ہے۔ نئی دہلی کو اس اصطبل کا تالہ بند کرنے کی خوشی ہے جس کے جانور پہلے ہی فرار ہو چکے ہیں۔میں نے اپنے طور پر یہ رپورٹ عوام تک پہنچانے کی ناکام کوششیں کیں۔ پہلے میں نے وزارت دفاع سے رابطہ کیا جہاں سے صاف انکار ہو گیا۔ بالآخر میں نے معلومات تک رسائی کے حق (آر ٹی آئی) کے ذریعے یہ رپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کی اس سے یہ معاملہ اوپر چوٹی تک پہنچا۔ لیکن میرے موقف کو مسترد کر دیا گیا۔ میں نے ہائی کورٹ میں اپیل کر دی جہاں پر اب تک اس کی سماعت نہیں ہو سکی۔ بہت سالوں کے بعد گزشتہ برس اس کا مختصر سا ذکر آیا جس میں جج نے ریمارک دیا کہ کیا تم ملک کے تمام رازوں کو عوام کے لیے آشکار کرنا چاہتے ہو۔ کاش کہ اس معاملے پر کوئی فیصلہ آ جاتا، لیکن بدقسمتی سے کوئی فیصلہ نہیں آ سکا۔ معاملہ وہیں کا وہیں ہے اور حکومت حیلہ سازی کرتے ہوئے اس موقف پر قائم ہے کہ عوام کو اس واقعہ کے بارے میں 52 سال بعد بھی جان لینے کا حق حاصل نہیں ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)