مضامین

صحافی اور صحافت

کئی دنوں سے میاں بیوی کے درمیان سردجنگ چل رہی تھی کوئی فریق بھی معاملہ سلجھانے کے لئے تیار نہ تھا کرونا وائرس کے باوجود صحافی کی مصروفیات تھیں کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں آج یہاں پروگرام تو کل وہاںپریس کانفرنس،وزیر ومشیروںکی آمد سیاستدانوں کی محاذ آرائی سے پیداہونے والی صورت ِ حال پر گرما گرم رپورٹوںکی تیاری،کبھی یہ تقریب توکبھی افتتاح ۔صحافی کی اہلیہ کہیں لے جانے کا کہتیں تو وہ کرونا کا بہانہ کرکے ٹال جاتے وہ اس روز کافی دنوں کے بعدایک زیر کی پریس کانفرنس کے دوران انہوںنے سوچا آج مشاعرہ نہیں پڑھنا اپنے گھروالوںکو وقت دینا چاہیے لیکن قسمت خراب واپسی پر موٹرسائیکل پنکچر ہوگیا کئی فرلانگ موٹرسائیکل کو پیدل گھسیٹا ، تھک ہار کر گھر واپس آئے اتنی مشقت کے بعدجو کھایا پیا تھا سب ہضم ہوگیا منہ ہاتھ دھویا صحافی صاحب کھانا کھانے بیٹھ گئے نہ جانے کیا بات تھی کہ انہیں کھانے کا مزانہیں آرہا تھا انہوں نے جھجکتے جھجکتے بس اتنا ہی تھا آج کھانا اچھا نہیں ہے، مجھے تو کوئی ذائقہ نہیں آرہا ہے بیوی جو نہ جانے کب کی بھری بیٹھی تھی اسے شرارت سوجھی وہ چپکے سے اٹھی اور کوویڈ ہیلپ لائن کو فون کردیا تھوڑی ہی دیرمیں ایمبولنس آگئی صحافی حیران پریشان تھے کہ یہ کیا ہوگیا لیکن بیوی کے چہرے پر ایک فاتحانہ چمک تھی اس نے پیرا میڈیکل سٹاف کو کہا ان کو کھانے کا ذائقہ نہیں آ رہا ہے ان کا کچھ علاج کریں ایمبولنس صحافی کو کوویڈ ہسپتال لے گئی اور انہیں 15روز کے لئے قرنطین کر دیا۔ دوسروںکی خبریں دینے والا آج خود خبربن گیا تھا اس طرح بیوی نے ان سے کئی دنوںکی سردجنگ کا بدلہ لیا تھا ہسپتال جاکر ایک ڈاکٹر مخصوص لباس میں ا ن کے سامنے آکھڑاہوا اس نے کئی سوال کرڈالے پھر صحافی سے پوچھا آج آپ کس کس سے ملے ہیں یہ سن کر ان کے چہرے پر ایک مخصوص چمک آگئی انہوں نے بڑے پر سکون لہجے میں کہا آج میرے سسرالی عزیز میرے ساتھ بیٹھے کئی گھنٹے لڈو کھیلتے رہے ہیں ۔
’’کون کون ملنے آیا تھاتھا؟ ڈاکٹرنے استفسارکیا صحافی نے جھجکتے ہوئے بتایا جی بیوی، ساس ،سسر میرے دو سالے ، تین سالیاں اورہاںیادآیارشتے کروانے والی خالہ نسرین میرے تین ہم زلفوں کے ساتھ ایک رشتے بارے مشاورت کے لئے آئے تھے ہم بڑی دیر بیٹھے خوش گپیوںمیں مصروف رہے۔ڈاکٹر پیڈ پرلکھتاچلاگیا۔ اب یہ سارے لوگ بھی کوویڈ ہسپتال کے مختلف بیڈ پر لیتے ہوئے صحافی کو کوس رہے تھے ادھر صحافی کی اہلیہ سوچ رہی ہیں کہ کاش میں نے انہیں اچار دے دیا ہوتا۔ ان سب کو تصورکی آنکھ سے قرنطین دیکھ کر صحافی زیر ِ لب مسکراکر بڑبڑائے ان لوگوںکو اب اندازہ ہوگیا ہوگا کہ’’ ایک صحافی سے پنگا لینا کتنا خطرناک ثابت ہوسکتاہے‘‘ لیکن جناب یہ سب کہانیاں ہیں ذرا غورتوفرمائیں ہمارے آس پاس کتنے فیصد صحافی ایسے ہوں گے جن سے پنگا لینا خطرناک ہوسکتاہے99%صحافی ایسے ہیں جن سے کوئی نہیں ڈرتا صرف ون پرسنٹ کو بااثرشخصیات،بیوورکریٹ،سیاستدان حتیٰ کہ حکومتیں نوازتی بھی ہیں ان سے ڈرتی بھی ہیں اور بلیک میل بھی ہوتی ہیں لیکن معاشرے میں ہر صحافی کو بلیک میلر اور لفافہ سمجھا جاتاہے یہی ہر صحافی کے ساتھ المیہ ہے بظاہر تو ایسے لگتا ہے صحافتی اداروں سے وابستہ نوجوان اپنی نیند پوری کر نے کے بعد گھر سے نکلتے ہیں اڑوسی پڑوسی نے دیکھتے ہی بڑی عزت کے ساتھ سلام کیا اور بولا ‘‘واہ بھئی واہ جب دل چاہے جائو، جب دل چاہے لوگوں کو بلیک میل کرو صحافیوںکے بڑے مزے ہیں؟ لیکن قبرکا حال مردہ جانتاہے خوشنماء عینک، جمے ہوئے بال اور جینس کی پینٹ اور برانڈڈ شرٹ زیب تن کئے صحافی گاڑی کی طرف دیکھا تو یاد آیا ایندھن نہیں ہے، مگر شکرہے کے والد کی پرانی موٹر سائیکل گھر پر ہی ہے اس پر دفتر چل دیا۔ وہاں مالکان کی جلی کٹی ،خبروںکاایک انبار، مسلسل کئی تنخواہ نہ ملنے کی پریشانیاں،ذاتی مسائل ۔۔ پھربھی دیکھنے والے یہ کہتے پھرتے ہیں یہ صحافیوںکے بڑے مزے ہیں؟ وہ تواللّٰہ کا شکر ہے کہ ہردونمبربندہ صحافیوں سے خوفزدہ رہتا ہے کہ کہیں ان کے کالے کرتوت منظر ِ عام پرنہ آجائیں۔ سیاستدان ،کونسلر چیئرمین اس لئے عزت کرتے ہیں کہ ہماری کارکردگی فوٹو کیساتھ اخبارات میں بڑے اہتمام سے چھپے یا کسی ٹی وی چینل پر دیکھ کر لوگ واہ واہ کرتے پھریں یاپھربیوروکریٹ اور کرپٹ افسر اس لئے ڈرتے ہیں کہ ہماری کرپشن کی ہنڈیا چوراہے پر نہ پھوڑ دی جائے اس لئے صحافی کی معاشرے میں بہت عزت ہے محلے میں دوستوں میں، رشتے داروں میں، شہر کے تمام تھانوںمیں،تاجروں میں، مذہبی،سیاسی وسماجی لوگوں میں۔ شاید اسی لئے صحافیوںکے بڑے مزے ہیں؟
عام تاثرہے پریس کانفرنس ہویا افتتاحی تقریبات،وزیروں مشیروں کی دعوتیں صحافی روز کھابے کھاتے ہیں اس حوالے سے ان کی پانچویں گھی میں ہوتی ہیں لیکن اس تصویرکا دوسرا پہلو بھی ہے دفاترمیں کام کرنے والے تو پیسے اکھٹے کرکے چائے کااہتمام کرتے ہیں کئی کئی ماہ تنخواہ نہ ملنے کے باعث اب تلک نہ جانے کتنے صحافی خودکشی کرچکے ہیں ایسے صحافیوںکے لئے کسی حکومت یا ان کے اپنے میڈیا ہائوسزمالکان نے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آج تک کچھ نہیں کیا جبری چھانٹی،میڈیاہائوسز کی بندش سے سینکڑوںصحافیوں کوبیروزگارکرنا یا معمولی مشاہرے پر ملازم رکھنا اور تین تین ماہ تنخواہ نہ دینا۔۔ اب بھی آپ کہیں گے کہ صحافیوںکے بڑے مزے ہیں؟ ۔
سحری ہو یا افطار،عید بقر عید، اتوار یا اور کوئی تہوار، شہر میں پھیلا ہو کوئی فساد یا ہو کوئی ہڑتال، اپنے رب کے بھروسے اور گھروالوں کی دعاؤں کے آسرے جان ہتھیلی پر رکھ کر وہ رپوٹنگ کے لئے جاتاہے یاپھرڈیوٹی کے لئے اپنے اخباریا کسی چینل کے دفتر ۔یہ بات طے ہے کہ عام آدمی صحافیوںکی بہت عزت کرتاہے کیونکہ صحافی ہے عام آدمی کی آواز، سسکتے اورکچلے طبقات کا ترجمان،ظالم کے سامنے ننگی تلوار اورہرقسم کے حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے والا جو ہروقت آن ڈیوٹی،ہروقت مستعد اور معاشرے کے ناسوروں کے خلاف عمل ِ پیہم۔پھربھی کہاجاتاہے صحافیوںکے بڑے مزے ہیں؟
عوامی مسائل اجاگر کرنے ہوں یا حکومتی پالیسیوں کو حقیقی منظرکشی ،کرپشن کو سامنے لاناہو یا پھر مختلف مافیاز کو بے نقاب کرنا ہوصحافی ہر محاذپر ہر میدان میں تن تنہا برسرِ پیکار رہتا ہے کبھی چھٹی نہیں کرتاظالموں،لٹیروں،معاشرے کے ناسوروں،ملاوٹ مافیا،منشیات فروشوں،قبضہ گروپوں کے خلاف ڈٹ جاتاہے اس کے باوجود اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ صحافیوںکے بڑے مزے ہیں؟ تو ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کہ آپ ٹھیک کہتے ہیں۔
شاید بیشتر لوگ بہترنہیں جانتے کہ صحافیوں کو جاگیرداروں، وڈیروں کی نجی عقوبت خانوں،تھانوں،جیلوں ،کچہریوں میں ہونے والی ناانصافیوں کو سامنے لانے کے لئے کن کن مصائب کا شکارہوناپڑتاہے بعض اوقات صحافی خبرکی تلاش میں خودخبربن جاتے ہیںپھربھی صحافیوںکے بڑے مزے ہیں؟ تو یہ کیسے مزے ہیں وہی جانتاہے جس پر بیت رہی ہوتی ہے۔حزب ِ اختلاف ہویا حزب ِ اقتدار ڈاکٹر، انجینئر، سیکیورٹی فورسز ہو یا عام آدمی، سب کا اس ملک کی ترقی میں اہم کردار ہے، اگر میڈیا پر خبر نشر نا ہو یااخبارات کی زینت نہ بنے تو یہ سب بیکار ، کوئی بااثر سے بااثرشخص میڈیا کے بغیر پوری دنیا کیا اپنے ہی ملک میں اتنی تشہیرنہیںکرسکتا جتنی صحافی کرسکتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ اکثر لوگ دل سے صحافی کو اچھانہیں سمجھتے ان کی عزت کرنا اپنی مجبوری سمجھتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی آپ کا خیال ہے کہ صحافیوںکے بڑے مزے ہیں؟ مگر!یہ کوئی نہیں جانتا بیشترصحافی اپنے شوق کے باعث اس پیشے سے وابستہ ہوتے ہیں وہ اکثروبیشتر معاشی مشکلات کا شکاررہتے ہیں اسی لئے وہ اپنی بیٹی کو اس کے پسندیدہ کھلونے نہیں دلا سکتے، بیوی کو شاپنگ نہیں کرا سکتے، دوستوںیا رشتے داروں کے ساتھ وقت نہیں بتا سکتے، نا ملنے کی وجہ نہیں بتا سکتے۔ وقت پر دوستوں کا وہ قرض نہیں چکا سکتے، تنگدستی کے مارے اپنی بیوی سے نظر نہیں ملا سکتے، بچوں کے لئے ڈاکٹرکا تجویزکردہ دودھ، بوڑھے والدین کیلئے دوا نہیں لا سکتے ،کئی کئی مہینے گھرکا کرایہ، یوٹیلٹی بل ادا نا کر سکتے، حسب ِ ضرورت گھر میں راشن نہیں لا سکتے لیکن کہنے والوںکی زبان کون پکڑسکتاہے کہ صحافیوںکے بڑے مزے ہیں؟
شہر میں کروناکی وبا ء پھیل گئی ، ہر طرف ویرانی چھائی تھی، گھر میں رہنے کو کہا جا رہا تھا لوگ باہر نکلنے ڈرتے تھے مگر تنگ دستی کے باوجود تمام ناکہ بندیوں کو عبور کر تا صحافی دفتر کو جا رہا تھا یااسے کسی خبرکی تلاش تھی یا کسی کاروباری ادارے سے اپنے اخبار کے لئے اشتہار ملنے کی امیدتھی اب بتائیں کیا صحافیوںکے بڑے مزے ہیں؟
شہر میں راشن تقسیم کرنے والوں کی کوئی کمی نہ تھی مگر صحافی معاشرے میں عزت اور سفید پوشی کے بوجھ تلے دبا جا رہا تھا، ضرورت مند ہونے کے باوجود ہاتھ نہیں پھیلا سکتااسے کئی مہینوں سے تنخواہ نہیں ملی تھی، اپنے رب کے حضور گڑگڑا رہا تھا، اک مافیا سے شاید وہ انصاف چاہ رہا تھا، اپنے آنسو کو پونچھتے ہوئے بقایاجات کی امید لئے اک اور دن دفتر جا رہا تھایا اس کے ریجنل اخبار میں چھپنے سرکاری اشتہارکی Paymintملنے کی آس تھی مگر پھر بھی دنیا کہتی ہے! صحافیوںکے بڑے مزے ہیں؟
لیکن کسی کو احساس تک نہیںصحافی کے کتنے دشمن ہوتے ہیں شاید ان گنت۔۔کسی بھی ادارے کے بارے میں سچ لکھو تو ادارہ دشمن۔اگر صحافی عوام کو اپنی ذمہ داریاں کااحساس دلائے تو عوام دشمن۔اگر صحافی پولیس کی تعریف لکھے تو ٹاوٹ، انکے بارے میں سچ لکھے تو جھوٹے مقدمات۔اسی طرح حکومت کی پالیسیوںکو اجاگرکرے تو لفافہ صحافی۔ حکومت پر تنقید کرے تو بلیک میلر۔صحافی مافیا کو بے نقاب کرے سرمایہ دار کی دشمنی ۔صحافی مافیاز کی کرتوتیں منظر ِعام پر لائے قاتلانہ حملے اگر آنکھیں بند کر لے بھتہ خور کے طعنے۔صحافی جرائم بے نقاب کرے تو ٹارگٹ بنے، جرائم پر آنکھیں بند کرے تو عوام دشمن۔ صرف عوام کو حقیقت اور سچائی پر مبنی خبر پہنچانے کی خاطر اپنے ہزاروں دشمن پیدا کرنے والا صحافی آخر انسان ہے کرے بھی تو کیا کرے ؟ ریاست کی اس چوتھے ستون کو جتنی مشکلات کا سامناہے کسی کو اس کا انداہ بھی نہیں ہوسکتا۔چھوٹے شہروںمیں رہنے والے صحافیوںکی حالت اور حالات انتہائی ہولناک ہیں ان کے پاس زیادہ ایجوکیشن ہے نہ انہیں کوئی تنخواہ ملتی ہے وہ فری لانسر دن رات خبریں اکٹھی کرتے ہیں سوچا جائے دنیا میں کوئی ایسا پیشہ بھی ہے جس کی کوئی اجرت یا معاوضہ بھی نہ ملے یقینا وہ علاقائی صحافی ہیں جو درحقیقت عامل صحافی ہیں ورکنگ جرنلسٹ جن کو کوئی رحم کھاکرکوئی اشتہار دے دے تو اس کے ہم عصرہی ناقطہ بندکردیتے ہیں پروفیشنل جیلسی کے مارے کسی کو ترقی کرنا دیکھ ہی نہیں سکتے۔کچھ لوگوںکا کہناہے اس کے ذمہ داربھی صحافی ہیں جنہوںنے ملائوںکی طرح اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنائی ہوئی ہیں یہ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے بھی دریغ نہیں کرتے یعنی شہرشہر دو دو تین تین چار چار پریس کلب جو تعمیری کام کرنے کی بجائے ہمیشہ ایک دوسرے کے متحارب ہی رہتے ہیں کچھ کا نصب العین ہی شہرکی انتظامیہ کے شانہ بشانہ چلناہے اب تو ایک اور خطرناک رحجان دیکھنے میں آرہاہے کچھ صحافی پولیس افسران کے ساتھ تصاویر بنا کراتراتے پھرتے ہیں کچھ ان کی تقرری یا سالگرہ پر مبارکباد کے بینراورایڈ بھی چھاپنے سے دریغ نہیں کرتے حالانکہ ایک صحافی کے منصب کے شایان ِ شان نہیں بلکہ اب اسے قیامت کی نشانیوں سے تعبیرہی کیا جاسکتاہے۔حالانکہ صحافیوں نے آزادی ٔ صحافت کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں صحافت بلاشبہ دنیا کا خطرناک ترین پیشہ ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا میںہرسال 50سے زائد صحافی پیشہ وارانہ خدمات انجام دیتے ہوئے قتل کردئیے جاتے ہیں لوگ سمجھتے ہیں آسان ہے صحافی بننا یاصحافیوںکے بڑے مزے ہیں
ایم سرورصدیقی