اداریہ

طاقت سے کچھ بھی ممکن!

گزشتہ مہینے یعنی 12 پریل کو ہندوارہ میں اُس وقت صورتحال بگڑ گئی جب مبینہ طور ایک فوجی اہلکار نے ایک کمسن طالبہ سے بدتمیزی کرنے کی کوشش کی ، وہاں موجود کئی نوجوانوں نے فوجی اہلکار کی نازیبا حرکت پر آواز اٹھائی اور حالت قابو سے باہر ہونے لگی، جب نوجوانوں نے نازیبا حرکت پر احتجاج کرنا شروع کیا تو احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے گولیاں چلی جس کے نتیجے میں موقعے پر ہی دو نوجوانوں کی موت واقع ہوئی۔ آنا فانا چاروں اور یہ خبر پھیل گئی، حالت مزید بگڑنے لگی۔ اس دوران احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور احتجاجیوں پر پھر سے گولیاں چلیں جس کے نتیجے میں مزید دو نوجوان اور ایک خاتون جان بحق ہوئی۔ اس دوران متاثرہ لڑکی کو حراست میں رکھا گیا اور متاثرہ لڑکی باہر کی حالت سے بے خبر تھی۔ لڑکی کو پانچ جانیں چلے جانے کی بالکل بھی خبر نہ تھی۔ ادھر متاثرہ لڑکی کو حراست میں رکھ کر اُس سے ایک بیان دلوانے کے لئے تیار کیا جا رہا تھا جو فوجی اہلکاروں کو بچانے کے حق میں بن جائیں، دوسری اور حکومت نے معاملے کی تحقیقات کرانے کا حکم بھی صادر کیا۔ متاثرہ لڑکی نے اس دوران ایک بیان دیا جو اُنہیں پہلے سے ہی دینے کے لئے تیار کیا گیا تھا، اس دوران چشم دید گواہوں کو لڑکی کا بیان راس نہ آیا اور متاثرہ لڑکی کو ہی برابھلا کہنے کی باتیں ہر طرح ہونے لگیں، تاہم متاثرہ لڑکی کی پریس کے سامنے بیان دینے سے ساری اصلیت عوام کے سامنے آئی اور عوام بھی اس بات سے باخبر ہوا کہ اصل حقیقت کیا ہے ویسے یہاں حقیقت کچھ بھی ہو لیکن طاقت کے سامنے کچھ بھی نہیں چلتا، ہاں جس کے پاس طاقت ہو وہی سچ ثابت ہو سکتا ہے، کمزور کتنا بھی سچ بولتا ہو اس کی سچائی اُس کی کمزوری کی وجہ سے سچ ثابت نہیں ہوتی۔ یہاں بھی متاثرہ لڑکی کی پریس کے سامنے بیان دینے سے ساری سچائی سامنے آگئی اور اس سے اس بات کی تصدیق بھی ہو جاتی ہے کہ طاقت سب کچھ ہے اور طاقت سے کچھ بھی کیا جاسکتا ہے۔