نقطہ نظر

طالبانائزیشن کو شکست

کلدیپ نائر

مجھے اس بات پر تعجب ہے کہ نئی دہلی حکومت امریکی اور نیٹو فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے بارے میں سنجیدگی سے غور خوض نہیں کر رہی کہ جب وہاں چند ہزار فوجی باقی رہ جائیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے انخلاء کے بعد کی پالیسی وضع کرنے کی خاطر کابل کا دورہ کیا ہے لیکن اس ساری صورت حال میں بھارت کہیں نظر نہیں آتا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان عوام بھارت کے بارے میں خیرسگالی کے بہت اچھے جذبات رکھتے ہیں کیونکہ بھارت نے وہاں اسپتال اور اسکول قائم کیے ہیں اور سڑکیں تعمیر کرنے میں ان کی مدد کی ہے۔ اس کے باوجود اسلام آباد حکومت افغانستان کو اپنی ’’تزویراتی گہرائی‘‘ سمجھتی ہے۔نئی دہلی نے اسلام آباد حکومت کو قائل کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے کہ وہ کابل کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرے لیکن پاکستان نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔
یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب کالعدم سوویت یونین نے اپنا نظریہ نافذ کرنے کے لیے افغانستان میں اپنی فوجیں اتار دیں جب کہ افغانستان اسلامی نظریات پر کاربند تھا۔ امریکا نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں بنیاد پرستوں کی تربیت شروع کر دی تا کہ وہ سوویت یونین کا افغانستان میں مقابلہ کریں۔ اس مقصد کے لیے انھیں خفیہ طور پر افغانستان میں پہنچانے کا انتظام کیا گیا اس بات سے قطع نظر کہ اس کے طویل مدتی مضمرات کس قدر خطرات ثابت ہو سکتے ہیں۔ جب سوویت یونین افواج نے افغانستان سے واپس جانا شروع کر دیا تو امریکا کی اس علاقے سے ساری دلچسپی ختم ہو گئی اور وہ بھی اپنے ہتھیار اور گولہ بارود وہیں چھوڑ کر واپس چلا گیا۔ بنیاد پرستوں نے ان ہتھیاروں اور گولہ بارود کی مدد سے اپنے پْر تشدد نظریے کو نافذ کرنے کی کوشش کی۔
اسلام آباد کے ذہن میں غالباً یہ خیال تھا کہ وہ ان مسلح اور تربیت یافتہ طالبان کو بعد میں بھارت کے خلاف استعمال کرے گا۔ مجھے یاد ہے کہ جب کابل میں میری احمد شاہ مسعود گروپ کے ایک لیڈر سے ملاقات ہوئی جو طالبان کا مخالف اور بھارت کا طرفدار تھا اس نے مجھے بتایا کہ کابل تک رسائی براستہ اسلام آ باد ہی ممکن ہے اور اگر بھارت سنجیدگی سے بنیاد پرستوں کو روکنا چاہتا ہے تو اسے پاکستان کے ساتھ سلسلہ جنبانی اختیار کرنا ہو گا۔
یہ افسوس کی بات ہے کہ بھارت نے گلبدین حکمت یار کے ساتھ رابطے کی کوئی کوشش نہ کی جن پر کہ اس وقت پاکستان کو اعتماد تھا۔ یہ درست ہے کہ وہ بھی شاید کوئی خاص دلچسپی نہ دکھاتے لیکن اگر ہماری نظریں دس سال بعد کے منظر نامہ پر ہوتیں توآج صورت حال مختلف ہوتی لیکن اب یہ سب تاریخ بن چکا ہے۔ دونوں ملکوں کو، بلکہ بھارت کو بالخصوص، ایسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے کہ افغانستان سے اتحادی فوجوں کے انخلا کے بعد وہ طالبان کا بہتر طریقے سے مقابلہ کر سکیں۔
پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا پیدا ہونا بہت تشویشناک امر ہے کیونکہ وہ جہاں چاہیں اور جب چاہیں حملہ کر سکتے ہیں اور اپنی اس صلاحیت کا انھوں نے ایک سے زیادہ بار مظاہرہ بھی کیا ہے۔ حال ہی میں کراچی ایئر پورٹ پر حملہ ایک مثال ہے۔ بہر حال کراچی کا واقعہ بنفسہ بیماری نہیں بلکہ بیماری کی علامت ہے جب کہ بیماری ہے بنیاد پرستی جو پاکستان میں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے ایک آسان راستہ اختیار کر لیا تھا۔ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کر کے ان کی تمناوں کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے۔ انتہا پسندی کے فروغ کی وجہ سے پاکستان میں اب پرانے گلوکاروں اور سازندوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہی۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ وہ بیچارے اپنی روٹی روز گار کمانے کے لیے بھارت کے چکر لگاتے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو، اگرچہ اپنے طور پر خاصے آزاد خیال تھے، لیکن ملک میں بنیاد پرستی کا راستہ بھی انھوں نے ہی استوار کیا تھا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے سر ظفراللہ خان کی ہتک کے بارے میں ایک لمحے کے لیے بھی نہ سوچا کہ وہ ایسے لیڈر تھے‘ جنھوں نے اقوام متحدہ میں کشمیر کے بارے میں بھارت کے موقف کو شکست دی۔ حقیقت میں جو شکایت وزیر اعظم جواہر لعل نہرو خود اقوام متحدہ میں لے کر گئے تھے کہ پاکستان کشمیر میں جارحیت کر رہا ہے۔ ظفر اللہ نے اس قضیے پر ایسے دلائل دیے کہ پانسہ بھارت کے خلاف پلٹ گیا۔
ماضی‘ خواہ کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو‘ لیکن اب پاکستان اور بھارت کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ دونوں مل کر طالبان کو شکست دیں۔ نئی دہلی کو یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اگر طالبان کو افغانستان میں شکست نہ دی جا سکی تو وہ اٹاری (امرتسر) کے بارڈر پر پہنچ جائیں گے۔ دونوں ملکوں یعنی پاکستان اور بھارت کے لیے اپنی حکمت عملی کے بارے میں کھلے عام بات کرنا یقیناً باعث خجالت ہو گا۔ اس مقصد کے لیے انھیں ’’بیک چینل‘‘ کا اہتمام کرنا پڑے گا جیسا کہ وہ کشمیر کے معاملے میں کرتے رہے ہیں۔
طالبان کا پہلے افغانستان اور پھر پاکستان میں بالادستی حاصل کر لینا اس قدر خطرناک ہو سکتا ہے کہ اس کو روکنے کے لیے بھارت کو پاکستان کے ساتھ دوستی کے لیے معمول سے ہٹ کر کوئی بھی طریقہ اختیار کرنا پڑے تو اسے کرنا چاہیے اور افغانستان کے بارے میں پاکستان کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔ چونکہ کشمیر کے مسئلے پر ابھی تک دونوں ملکوں میں سنجیدگی سے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکے، لہٰذا انھیں اس معاملے کو فی الحال الگ رکھنا چاہیے اور دونوں آرمی چیفس کو میز پر بیٹھ کر ایک طویل مدتی حکمت عملی طے کرنی چاہیے جس سے افغانستان کو آزاد اور خود مختار رہنے میں مدد مل سکے۔
بیشک اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اسلام آباد کو اپنی پالیسی میں تبدیلی پیدا کرنی پڑے گی اور افغانستان کو اپنی تزویراتی گہرائی سمجھنے کے تصور سے باہر نکلنا پڑے گا یہ بات خود پاکستان کے اپنے مفاد میں ہو گی کیونکہ اگر وہاں طالبان کا عمل دخل بڑھ گیا تو پاکستان خود بھی ایک آزاد خیال اسلامی ریاست نہ رہ سکے گا۔
بھارت کو چاہیے کہ وہ طالبان کے خلاف پالیسی بنانے کے لیے امریکا کو بھی اپنے ساتھ شامل کرے۔ اگر انھیں افغانستان اور پاکستان دونوں جگہ شکست ہو جاتی ہے تو اس خطرے کے مزید پھیلنے کے امکانات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
یہ افسوس کی بات ہے کہ بھارت نوشتہ دیوار بھی نہیں پڑھ رہا۔ وزیر اعظم نریندر مودی جن کے بارے میں ایک عام تاثر ہے کہ وہ ایک مضبوط حکمران ہیں انھیں نواز شریف کے ساتھ اس معاملے پر سنجیدگی سے بات کرنی چاہیے۔ دہلی میں جب ان کی ملاقات ہوئی تو انھیں اس معاملے پر رضا مند ہو جانا چاہیے تھا۔ نواز شریف نے مودی کے نام اپنے خط میں ایسا کہا بھی تھا۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)