مضامین

عالمی یوم تحفظ حقوق انسانی سرینگر میں احتجاجی جلوس اور دھرنے

عالمی یوم تحفظ حقوق انسانی سرینگر میں احتجاجی جلوس اور دھرنے

گذشتہ روز یعنی 10 دسمبر کوانسانی حقوق کے عالمی دن پر سرینگر میںکئی تنظیموںاور لیڈروں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا جبکہ گمشدہ افراد کے لواحقین کی تنظیم اے پی ڈی پی کے بینر تلے پریس کالونی میں خاموش احتجاجی دھرنا تھا ۔اس دوران عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید کی قیادت میں پارٹی کی طرف سے ایک انوکھا احتجاجی جلوس نکالا گیا جس میں ایک گائے،گھوڑے،کتے اور بکری کو لیکر ان کے گلے میںتختیاں لٹکائی گئیں تھیں جن پر مختلف نعرے درج تھے اور یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ کس طرح جموں کشمیر میں انسانوں سے زیادہ کتوں اور دیگر حیوانوں کو زیادہ حقوق حاصل ہیں۔انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقعہ پر گمشدہ افراد کے لواحقین کی تنظیم ’’اے پی ڈی پی‘‘ کے اہتمام سے پریس کالونی میں ایک احتجاجی دھرنا دیا گیا جس میںلاپتہ افراد کے اقرباء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔انہوں نے اپنے ہاتھوں میں بینر پلے کارڈس اور اپنے گمشدہ عزیز و اقارب کی تصاویر اٹھارکھی تھیں۔ان میں شامل بعض عمر رسیدہ خواتین نے ایک مرتبہ پھر روتے بلکتے اپنے لخت جگروں کی بازیابی کی فریاد کی اور اس سلسلے میں ایک آزادنہ کمیشن کے قیام کا مطالبہ دہرایا۔دھرنے پر بیٹھے لواحقین کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں اور ابھی بھی وہ اپنے لخت جگروں کی واپسی کا انتظار کر رہے ہیں۔انہوں نے یہ مطالبہ دہرایا کہ ریاست میں لا پتہ ہوئے 10ہزار لوگوں کی باز یابی کیلئے غیر جانبدارانہ تحقیقات عمل میں لائی جائے۔اس موقعہ پراے پی ڈی پی کی چیرپرسن پروینہ آہنگر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ’’اے پی ڈی پی گذشتہ25برسوں سے لاپتہ افراد کوڈھونڈنے کیلئے احتجاجی دھرنے دے رہی ہے اورپنے اس مطالبے کو دہراتی ہے کہ لاپتہ کئے گئے افراد کو بازیاب کرنے کیلئے ایک آزاد کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ لاپتہ کئے گئے افراد کا مسئلہ انتہائی اہم ہے لہٰذا عالمی اداروں کو اس مسئلے کی طرف توجہ دینے چاہئے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کی خاطر ٹھوس اقدام اٹھانا چاہئے۔انہوں نے کہا’’ ہم وہ متاثرین ہیں جن کے لخت جگرغائب کردئے گئے ہیں اور ہم تب تک اپنے لاپتہ بچوں کو تلاش کرتے رہیں گے جب تک ہم زندہ ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’جن خواتین کے شوہر لاپتہ کئے گئے ہیں وہ نیم بیوہ بن گئیں ہیں اور انہیں کن کن مشکلات اور مصائب کا سامنا ہے وہ بیان نہیں کیا جاسکتا ہے ‘‘۔پروینہ آہنگر نے کہا ’’آج دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا جاتا ہے مگر یہاں بھارت انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہا ہے اور 10ہزار لاپتہ کئے گئے افراد کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہے۔اس موقعے پر اکثر شرکاء کی آنکھیں نم تھیں اور وہ بار بار اپنا یہ مطالبہ دہرا رہے تھے کہ اْن کے لاپتہ عزیز واقارب کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔کئی گھنٹوں تک خاموش احتجاجی دھرنے کے دوران دوران حراست لاپتہ کئے گئے مرد و زن نے اپنے لخت جگروں کی بازیابی کا مطالبہ کیااور بعد میں پرامن طور منتشر ہوئے۔ ادھر بشری حقوق کے عالمی دن پر انجینئر رشید کی سربراہی میں عوامی اتحاد پارٹی کے کارکنوں نے شیر کشمیر پارک سے احتجاجی جلوس نکالا جس میں جانوروں کو بھی شامل کیاگیا تھا۔رائے شماری کے حق میں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے نعرے لگاتے ہوئے احتجاج میں شامل کارکنوں نے شیر کشمیر پارک سے لال چوک کی جانب پیشقدمی کی۔جلوس میں گھوڑے،گائے،بکری اور کتے بھی شامل کیا گیا تھا جن کے گلے میں پلے کارڑ لٹکائے گئے تھے۔ گھوڑے کے گلے میں ایک تختی لٹکائی گئی تھی جس پر تحریر کیا گیا تھا’ میں راشٹرپتی بھون کا گھوڑا ہوں اور کشمیری عوام کے مقابلے میں محفوظ ہوں، گائے کے گلے میں لٹکی تختی پر تحریر کیا گیا تھا ’ ’میں سنگ پریوار کی گائے ہوں،میں کشمیریوں سے زیادہ محفوظ ہوں‘ جبکہ بکری کے گلے میں لٹکے پلے کارڑ پر یہ تحریر درج کی گئی تھی ’ میں گانڈھی جی کی بکری ہو اور وادی کے لوگوں سے محفوظ ہوں‘۔اسی طرح کتے کے گلے میں لٹکائی گئی تختی پر تحریر کیا گیا تھا’ جب تک مینیکا گاندھی ہے مجھے کس کا ڈر ہے‘۔یہ انوکھااحتجاجی جلوس جب کوٹھی باغ تھانے کے نزدیک پہنچا تو پولیس کی ایک بڑی جمعیت نے انکا راستہ روکا جس دوران پولیس اور مظاہرین میں سخت مزاحمت ہوئی۔پولیس نے جلوس کو روک کرانجینئر رشید کو ساتھیوں سمیت حراست میں لیاجبکہ احتجاج میں شامل جانوروں کو بھی پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔جس کے بعدعوامی اتحاد پارٹی کے کارکنوں نے اجتماعی گرفتاری پیش کی اور تھانے میں داخل ہوئے۔اس موقعہ پر انجینئر رشید نے کہا کہ کشمیر میں انسانوں سے زیادہ جانور محفوظ ہے۔ یہاں جانوروںکے حقوق کی بات تو کی جاتی ہے تاہم انسانی حقوق کو پائوں تلے روندا جا رہا ہے۔ انجینئر رشید نے کہا کہ وہ کوئی تماشا نہیں کرنا چاہتے ہیں البتہ چونکہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے اور یہاں کے مظلوم عوام کی دادرسی کرنے والا کوئی نہیں ہے لہٰذا انہوں نے عالمی برادری کو متوجہ کرنے اور اسکے ضمیر کو جھنجوڑنے کے لئے ایک منفرد طریقہ سوچا جسکے تحت حیوانوں کی نمائش کرکے یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ یہاں حیوانوں کے حقوق انسانوں سے بڑھکر ہیں۔ انجینئر رشید نے کہا کہ بھارت کے راشٹر پتا مہاتما گاندھی بکری کی بڑی عزت کرتے تھے لیکن کشمیریوں کی کوئی عزت و توقیر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ زینہ کوٹ میں مارے گئے طالب علم گوہر کے قاتل آزاد گھوم رہے ہیں لیکن اگر کوئی شخص کتے یا کسی اور جانور سے خوف کھاکر اسے معمولی گزند بھی پہنچاتا ہے تو اسکے خلاف فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ اس دوران سالویشن مومنٹ کی شعبہ خواتین سے وابستہ کارکنوں نے پریس کالونی میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ اس موقعہ پر تنظیم کی سیکرٹری نے کہا انسانی حقوق کوروندا جارہا ہے۔ فوج نے کشمیر میں قتل عام ، نوجوانوں کو پراسرار طور پر غائب ، عصمت ریزی اور دوسری قسم کی انسانی حقوق کی پامالیاں انجام دی ہیں تاہم اقوام متحدہ کوکشمیریوں کی آہ کھبی سنائی نہیں دی اور آج بھی لاکھوں کشمیری اپنے عزیزوں کی راہ دیکھ رہے ہیں اور انصاف کے منتظر ہیں۔ انہوں نے اقوام عالم کے انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کو بھارتی فوج کے ظلم وجبر سے بچانے کیلئے پہل کریں۔ محمد احسن انتو نے بھی کہا کہ آج جب دنیا میں انسانی حقوق کے علمبردار جہاں کہیں بھی انسانوں کے بنیادی حقوق چاہے وہ سیاسی نوعیت کے ہوں ، انسانی عزت آبرو یا زندگیوں سے متعلق ہوں کے بارے میںمختلف سطح پر پروگراموں کا اہتمام کرتے ہیں ہم یہاں ریاست جموں کشمیر کے طول و عرض میں فوج کی طرف سے جو انسانی حقوق کی پامالیاں ہورہی ہیں ، انصاف پسند عالمی اداروںسے اس کی توجہ مبذول کراتے ہیں۔ اس دوران ماس مومنٹ سربراہ فریدہ بہن جی کی قیادت میں آبی گذر سے احتجاجی جلوس نکالا گیا جس میں شامل شرکاء آزادی کے حق میں نعرے لگائے رہے تھے۔ جلوس میں شامل شرکاء نے جب نعرے لگاتے ہوئے لالچوک کی جانب پیش قدمی کی تو پولیس نے فریدہ بہن جی کو کارکنوں کے ہمراہ حراست میں لیا۔اس سے قبل فریدہ بہن جی نے کہا کہ امسال بھی جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے دوران لوگوں کو تختہ مشق بنایا۔