نقطہ نظر

عام آدمی کا نیا جنم

عام آدمی کا نیا جنم

کلدیپ نائر
اس بات کا تجزیہ کرنا یقینابہت اہم ہے حکمران بی جے پی آخر دہلی کے انتخابات میں کیونکر ملیامیٹ ہو گئی لیکن اس سے بھی اہم یہ جاننا ہے کہ آخر عام آدمی پارٹی (عاپ) نے 70 نشستوں کے ایوان کی 67 نشستیں جیت لینے کا دھماکا کیسے کر دیا؟ بی جے پی‘ جس نے دسمبر 2013ء میں ہونے والے اسمبلی کے انتخابات میں 32نشستیں حاصل کی تھیں‘ اب صرف تین سیٹیں لے سکی۔
آخر یہ ’عاپ‘ ہے کون؟ یہ ایک سیکولر، مرکز سے بائیں جانب کا رجحان رکھنے والی پارٹی ہے جو کانگریس کی بآسانی متبادل بن سکتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے متحرک لوگوں کے ایک گروپ نے جو زندگی کے مختلف میدانوں سے تعلق رکھتے تھے‘ انھوں نے مہاتما گاندھی کے پیروکار انا ہزارے کی تحریک میں شمولیت اختیار کر لی جو ملک میں ’لوک پال‘ یعنی محتسب کی تعیناتی کا مطالبہ کر رہے تھے تا کہ اعلیٰ سطح پر ہونے والی بدعنوانی اور کرپشن کا سدباب کیا جا سکے۔ یہ تحریک دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر میں پھیل گئی کیونکہ اس تحریک میں معاشرے کے تمام طبقوں کے نمایندے شامل تھے۔
تاہم حکومت نے وعدہ کرنے کے باوجود ’لوک پال‘ کے تقرر سے کس طرح پہلو تہی کی‘ یہ ایک الگ کہانی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس تحریک نے اس وقت معاشرے کے بے شمار مثالیت پسندوں کو اپنی طرف کھینچ لیا اور اروند کجریوال بھی ان میں سے ایک تھا۔ وہ بھی ان بہت سے لوگوں میں شامل تھا جو ایک صاف شفاف جمہوری حکومت کی تمنا رکھتے تھے۔ اگرچہ اس تحریک کو مختلف ہتھکنڈوں سے دبا دیا گیا لیکن عوام کے دل سے مثالیت پسندی کی تمنا کو نہ نکالا جا سکا۔ یہ وہ وقت تھا جب عام آدمی پارٹی (عاپ) نے جنم لیا اور اس نے اپنی تمام توجہ اسی مسئلے پر مرکوز کر دی۔ پھر اس پارٹی نے انتخاب لڑا اور مختصر عرصے کے لیے اقتدار میں بھی آ گئی۔
لیکن اب کی مرتبہ آخر ’عاپ‘ نے اتنی زیادہ توجہ کیوں اور کیسے کھینچی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام دونوں بڑی سیاسی جماعتوں‘ کانگریس اور بی جے پی سے تنگ آ چکے ہیں اگرچہ ’عاپ‘ کو عوام کی بے رخی کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود وہ اپنے عزم پر قائم رہی تاآنکہ عوام کی نگاہیں دوبارہ اس پر لگ گئیں اور انھوں نے اسے بے مثال اکثریت کے ساتھ دوبارہ اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھا دیا۔
اب سارا معاملہ کجریوال اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ کس طرح اپنے معیاری فکر انگیز خیالات کو عمل میں ڈھالتے ہیں۔ دہلی کے انتخابات میں رائے دھندگان نے اپنی ساری امیدیں ’عاپ‘ سے وابستہ کر لیں کیونکہ ان کو یقین تھا کہ یہ پارٹی اپنے وعدے پورے کر سکتی ہے۔ دو بڑی پارٹیاں امید نہیں جگاتیں بلکہ اب تو ایسا لگنے لگا ہے جیسے وہ ماضی کے کھنڈر بن گئی ہیں۔
عوام طویل مدت سے کسی متبادل قیادت کی راہ دیکھ رہے ہیں اور دہلی الیکشن نے اس موقع کو اجاگر کر دیا ہے۔ لیکن یہ سوچنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ اخلاقی اقدار کی سیاست، جس کا خواب عوام نے تحریک آزادی کے دوران دیکھا تھا، واپس آ سکتی ہے یا نہیں۔ ’عاپ‘ کے لیڈر اس بات کا احساس کریں یا نہ کریں مگر اب وہ توجہ اور امید کا مرکز بن گئے ہیں۔ 2019ء میں ہونیوالے لوک سبھا کے آیندہ انتخابات میں ’عاپ‘ بڑی کامیابی حاصل کر سکتی ہے لیکن یہ ایک مختلف مرحلہ ہو گا اور ’عاپ‘ کو انھی اقدار پر توجہ مرکوز رکھنی ہو گی جس پر ہمارے آئین کا بنیادی ڈھانچہ استوار ہے۔
یہ درست ہے کہ دہلی کا انتخاب وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف کوئی ریفرنڈم نہیں تھا لیکن یہ بی جے پی ہی تھی جس نے بڑی بڑی تصویریں اور پبلسٹی کا مواد جاری کر کے اسے ایسا ظاہر کیا تھا۔ کروڑہا روپے ان اشتہاروں پر خرچ کیے گئے جو پارٹی نے اخبارات میں شایع کروائے اور دہلی کے بازاوں میں بڑے بڑے ہورڈنگز آویزاں کیے جن پر پارٹی کی امیدوار کرن بیدی کے ساتھ مودی کی تصاویر تھیں۔
لیکن یہ سوچنا بھی درست نہیں ہو گا کہ کرن بیدی کو وزارت اعلیٰ کا امید وار بنانا بی جے پی کی شکست کا موجب بنا۔ ممکن ہے اس سے تھوڑا سا فرق پڑا ہو لیکن ووٹ بی جے پی اور اس کے ہندواتوا کے نظریے کے خلاف پڑے۔ پارٹی اب بھی اس حقیقت کا سامنا نہیں کرنا چاہتی کہ مودی کا سحر اب ختم ہو گیا ہے۔ بی جے پی اپنے اسی مذہبی برتری کے تصور میں پھنسی ہوئی ہے۔ پچھلی مرتبہ جب ووٹر اس کی طرف آئے تو اس کے نظریے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے تعمیر و ترقی اور عوام کی معاشی بہتری کے وعدے کی وجہ سے آئے تھے۔ اب مودی کی حکومت کو مرکز میں دس مہینے گزر گئے ہیں لیکن سڑکوں‘ بازاروں پر چلنے پھرنے والے عام آدمی کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑا۔
بی جے پی اور کانگریس (جس نے کہ دہلی الیکشن میں ایک سیٹ بھی نہیں جیتی) دونوں کو اپنے اندر جھانک کر دیکھنا چاہیے اور اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنا چاہیے۔ اگر بی جے پی اپنی شکست کی وجوہات کا جائزہ لینا چاہتی ہے تو اسے پتہ چل جانا چاہیے کہ ایک ایسے معاشرے میں جو اجتماعیت کی سوچ کا حامل ہو ہندوتوا کا نظریہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ گرجا گھروں پر حملوں کے بارے میں شبہ کیا جاتا ہے کہ اس میں اسی پارٹی میں شامل انتہا پسندوں کا ہاتھ ہے۔ ’گھر واپسی‘ اور مہاتما گاندھی کو قتل کرنے والے نتھورام گوڈسے کی تشہیر اس ملک میں مفید ثابت نہیں ہو سکتی جو اپنے سیکولر ہونے پر فخر کرتا ہو۔
کانگریس اپنی خاندانی سیاست میں پھنسی ہوئی ہے جس کے اب دوبارہ اقتدار میں آنے کی امید نہیں۔ یہ پارٹی ایک تحریک تھی اور اس میں اس تحریک کو کامیاب کرنے کی تمام صلاحیتیں موجود تھیں لیکن آج یہ عوام سے دور جا چکی ہے۔ راہول گاندھی نے قدرے تاخیر کے ساتھ ریلیوں سے خطاب کرنے اور کچھ تقریریں کرنے کی کوشش کی لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ راہول کو چاہیے تھا کہ وہ میڈیا کو استعمال کرتا لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ وہ پریس کانفرنس کرنے یا انٹرویو دینے سے نفرت کرتا ہے۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں کی شکست اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ از سر نو اپنی پالیسیوں کا جائزہ لیں۔
اگر وہ دیانت داری سے اپنی خامیوں کا جائزہ لیں تو ان کو پتہ چل جائے گا کہ وہ زمینی حقائق سے دور ہو چکی ہیں۔ بے شک وہ بائیں بازو کی پوزیشن اختیار نہ کریں لیکن انھیں غربت اور بے روز گاری کا کوئی حل ضرور تلاش کرنا ہو گا۔ مودی نے سرمایہ کاری کی ہمت افزائی کا جو خواب دکھایا تھا اس کی ابھی تک کوئی تعبیر نہیں نکلی۔ ہم اس حقیقت سے ہر گز نظریں نہیں چرا سکتے کہ ہمارے ملک کی ایک تہائی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ بی جے پی کی سرپرست آر ایس ایس یہ بات بڑے فخر سے کہتی ہے کہ ہندو حکومت کئی عشروں کے بعد ملک میں واپس آئی ہے لیکن یہ کوئی حل نہیں بلکہ یہ تو الٹا ایک حل طلب معاملہ ہے۔ جہاں تک تعمیر و ترقی کا تعلق ہے تو اس میں معاشرے کے تمام عناصر کو شامل اور شریک ہونا چاہیے لیکن ایسے لگتا ہے جیسے اقلیتوں کو دیدہ و دانستہ طور پر باہر رکھا جا رہا ہے۔
مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ بھارت رنگ برنگے پھولوں کے گلدستے کی مانند ہے۔ وہ معاشرے کی رنگا رنگی کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ ملک کا آئین اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ قانون کے روبرو سب برابر ہیں خواہ وہ ہندو ہوں‘ مسلمان ہوں‘ سکھ ہوں یا عیسائی۔ لیکن یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ ہم اس بنیادی اصول سے انحراف کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ جس قدر جلد ہم اپنی اس بنیادی ضرورت کی طرف رجوع کر لیں تو ایک جمہوری سیکولر اور سوشلسٹ طرز حکومت کی طرف ہمارا سفر قدرے آسان ہو جائے گا۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)