اداریہ

عام آدمی کا سوچ کیا تھا؟

پی ڈی پی اور بی جے پی نے بالآخر کیا وہی جس کی ریاست کے عوام کی توقع ہی نہیں تھی۔ عام لوگوں کے ارمان ارمان ہی رہ گئے۔ عوامی حلقوں میں یہ بات گشت کر رہی تھی کہ اس بار بی جے پی پی ڈی پی مخلوط سرکار شاید کوئی خاص بجٹ پیش کرنے والی ہے۔ جس سے ریاست کے عام لوگوں کے ارمان پورے ہو جائیں گے مگر ہوا اس کے برعکس۔22 مارچ کو ریاستی خزانہ کے وزیر حسیب درابو نے اسمبلی میں بجٹ پیش کیا۔ مگر بجٹ پیش کرنے کے بعد ریاست کے عام آدمی کی قیاس آرائیاں ختم ہو گئی۔ عام آدمی کا سوچ یہاں تک تھا کہ اب جبکہ پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ الائنس کر کے عوام کو ایک دھوکہ تو دیا مگر شاید اس دھوکے کو سنبھالنے کے لئے پی ڈی پی عام آدمی کی بہبود کے لئے بجٹ میں کچھ ایسا پیش کرے گی جس سے پی ڈی پی عام آدمی کے دل جینے میں کامیاب ہو گی مگر ہوا پھر بھی اس کے برعکس، عام آدمی کے نظر میں بجٹ کچھ ایسا ہے جس سے ہر حلقے کا خیال رکھنے کو تو کہا گیا مگر ہے حقیقت میں خیالی۔عام آدمی کے نظر میں بجٹ کچھ اس طرح پیش کیا گیا جس سے لگتا ہے کہ یہ بجٹ نہیں بلکہ ایک سکیم ہے جس طرح اکثر وقت پر موبائیل کمپنیاں ایسے سکیموں کا استعمال کرتے ہیں۔ جس سے صارفین کو ہر سکیم میں کچھ نہ کچھ خاص نظر آتا ہے۔ مگر حقیقی معنوں میں صارف کیلئے سبھی سکیمیں ایک جیسی ہیں ہاں فائدہ اگر ہے تو کمپنی کو ۔ اسی طرح سے عام آدمی کی رائے ہے کہ حقیقت میں بجٹ تو پیش کیا گیا جس سے عام عادمی کو لگا کہ ہر طبقے کا بجٹ میں خیال رکھا گیا اور ہر طبقہ اس بجٹ سے مستفید ہوں گے مگر ہے یہ حقیقت سے کوسوں دور۔ عام آدمی کی نظر میں جس طرح اکثر کمپنیاں صارف کے سامنے اسکیمیں متعارف کر کے اپنے فائدے کا خیال رکھتی اسی طرح سرکار نے بجٹ میں سکیموں کو متعارف کیا جس سے اگر فائدہ ہے تو کئی گنے چنے طبقوں کے ساتھ ساتھ برسراقتدار جماعتوں کو۔