اداریہ

عا م انسان کہاں اور کس سے فریاد کرے

لوگ عید کی خریداری میں لگے ہوئے ہیں ۔ وادی کے اطراف و اکناف میں قائم مختلف بازاراچھی طرح سے سجائے گئے ہیں ۔کہیں بچوں کے ملبوسات اور کہیں دیگر گھریلو ضروریات کی خریداری میں لوگ محوہیں ۔ ایک طرف رمضان کا متبرک مہینہ جو ہمیں صبرو تحمل ، جذبہ ایثار ، رحم دلی ، شفقت اور تقویٰ شعاری کے انمول انسانی اقدار کی مشق کراتا ہے اور دوسری طرف ضمیر فروش افرادانسانی اقدار کی دھجیاں اڑاتے ہوئے معصوم لوگوں کو دھوکہ دہی ، فریب اور جعلسازی کے لباس میں دو د و ہاتھوں لوٹ رہے ہیں ۔ اب جبکہ یہ متبرک مہینہ ہم سے جُدا ہواہے یقینی طور پر ہمارے ضمیر اس قدر بیدار ہونے چاہئے تھے کہ ہم گذشتہ برسوں سرزد ہوئے اُن تمام غلط کاموں سے توبہ کرتے اور آئندہ کا لائحہ عمل کچھ اس طرح مرتب کرتے جس سے واقعی ایسا لگتا کہ یہ متبرک مہینہ ہم سے راضی ہوا ہے اورواقعی ہم ماہ مبارک کی عظیم برکات سے فیضیاب ہوئے لیکن جس طرف بھی دیکھا جائے ہرطرف وہی پُرانی شکایتیں ۔بازاروں میں گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی نے ایک ایسا ماحول کھڑا کر رکھا ہے جس سے عام لوگ سکتے میں آگئے ہیں۔غذائی اجناس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ دُکانداروں اور تاجروں کی من مانیوں کے آگے عام آدمی سرخم کئے ہوئے یہ تمام مصائب چپ چاپ کے سہہ جاتے ہیں آخر ایسا کیوں۔ کیا انتظامیہ نے اپنی ذمہ داریوں سے کنارہ کشی اختیار کی ہے یا یوں کہا جائے کہ ابھی تک انتظامیہ خواب خرگوش سے بیدارہی نہیں ہوئی ۔کبھی کبھی میڈیا میں چیکنگ سکارڈ کے حوالے سے کئی طرح کی خبریں اگر چہ پڑھنے کو ملتی ہیں لیکن ایک عام آدمی اسے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف تصور کرتا ہے ۔المیہ تو ہے کہ ماہ مبارک کے شروع میں سرکردہ تاجر انجمنوں کی طرف سے بڑے بڑے اعلانات کئے گئے کہ مختلف اشیاء پر لوگوں کو کچھ رعایت دی جائے گی لیکن زمینی سطح پر یہ ایک مذاق ثابت ہو ا۔ اب سوا ل پیدا ہوتا ہے کہ اگر انتظامیہ بھی اس اہم مسئلے کی طرف کان دھرنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتی ۔ دکاندار اور تاجر برادری اپنے ضمیر کی آواز کو نہیں سُن پاتے تو آخر ایک عام انسان جو مہنگائی کے بوجھ تلے دب چکا ہے کہاں جائے اور کس سے فریاد کرے ۔