مضامین

عرفہ کے روز بازاروں میں زبردست گہما گہمی

عید الفطر کی آ مد پر جمعرا ت کو وادی کے اطراف و اکناف کے بازاروں میں ایک مرتبہ پھر زبردست گہما گہمی دیکھنے کو ملی جس دوران لوگوں کی بڑی تعداد نے بیکری کے ساتھ ساتھ ملبوسات اور دیگر سازوسامان کی خریدوفروخت کی جبکہ اس دوران شہر و دیہات میں قائم مختلف اے ٹی ایم مشینوں سے ریکارڈ توڑ رقومات نکالی گئی ۔ٹریفک کے متبادل انتظامات کے باوجود اور زبردست ٹریفک جام کی وجہ سے مسافروں کے گھنٹوں ضائع ہوگئے ۔
عیدالفطر کے یوم عرفہ کے مو قع پر کل شہر سرینگر اور وادی کے صدر وتحصیل مقامات پر لاکھوں لوگوں نے مختلف بازاروں کا رُخ کیا جس کے دوران لوگ عید کی ضروریات خریدنے لگے۔شہر سرینگر میں آج ہر طرح کے بنک کھلے رہے اور ان بنکوں میں گاہکوں کا کافی رش دیکھنے کو ملا جبکہ بنکوں کے اے ٹی ایموں پر لوگوں کی لمبی قطاریں نظر آئیں جہاں سے لوگ رقومات حاصل کرنے کے بعد مختلف بازاروں کا رُخ کررہے تھے ۔ شہر کے امیرا کدل ، لالچوک ،ککربازار، مائسمہ ، جہانگیر چوک ، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ ، گونی کھن میں کافی گہما گہمی کا عالم تھا جبکہ شہر میں قائم قصابوں اور مرغ فروشوں کے دکانوں پرکافی رش تھا۔ اس دوران آج مٹھائی اور بیکری فروشوں کے دکانوں پرلوگوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں جبکہ صراف بازار جہانگیر چوک میں خواتین کی ایک بڑی تعداد زیوارات خریدنے میں مصروف رہیں ریڈی میڈ گارمنٹس اور دیگر ہول سیل کریانہ دکانوں پر لوگوں نے ریکارڈ توڑ خریداری کی۔ شہر میں قائم تحائف کی دکانوں پر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے اپنوں کے لئے عید کارڈس اور قیمتی تحفے خریدنے کا رش نظر آیا جبکہ پھولوں اور عطر فروشوں کے دکانوں پر مرد وزن خریداری کرتے نظر آئے۔ بھاری پیمانے پر کی جارہی خریدوفروخت کی آڑ میں تمام دکانداروں جن میں بیکری فروش ، مرغ فروش، سبزی فروش، ملبوسات فروخت کرنے والے و دوسرے دکانداروں نے چھوٹ کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھاتھا ۔ پورے شہر سرینگر میں وادی کے اطراف واکناف سے عید الفطر کیلئے بھاری بھیڑ اُمڈ آئی اور پورے دن شہر سرینگر کے بیشتر بازاروں میں لوگوں کا اژدھام دیکھنے کو ملا جو دن بھر خرید وفروخت میں مصروف رہے ۔ شہر کے تمام مصروف ترین بازاروں میں عید کی تیاریوں کے سلسلے میں کی جارہی خرید وفروخت اور لوگوں کے بھاری رش کی وجہ سے ان بازاروں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی ۔ صبح سے لوگوں جن میں مرد، خواتین ، نوجوان لڑکے ، لڑکیاں اور بچے شہر سرینگر کے بازاروں میں نمودار ہوئے اور اپنی من پسند چیزوں کی خریداری میں مصروف رہے۔ شہر کے تمام مصروف ترین بازاروں قمرواری ، بٹہ مالو ، لالچوک ، ہری سنگھ ہائی سٹریٹ ، بڈشاہ چوک، مائسمہ، ڈلگیٹ ، صورہ ، پورے شہر خاص جس میں نوہٹہ ، حول ، خانیارکے علاوہ حضرتبل و دوسرے بازاروں میں بھی عید کے سلسلے میں زبردست رش دیکھنے کو ملا اور لوگ عید الفطر کی تیاریوں میں زبردست مصروف دیکھے گئے ۔ شہر سرینگر کے ان تمام مصروف ترین بازاروں میں بھاری بھیڑ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چلنے پھرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا لوگوں کو کرنا پڑا جبکہ جگہ جگہ ٹریفک جام بھی دیکھنے کو ملاکیونکہ ٹریفک کو صحیح سمت نہ دینے کے نتیجے میں ٹریفک جام سے لوگوں کے گھنٹوں ضائع ہوگئے اور بعض مقامات پر لوگوں نے از خود ٹریفک کو پٹری پر لایا جبکہ بعض بیٹوں پر ٹریفک پولیس اہلکار بے بس نظر آئے۔ اس صورتحال کی وجہ سے مسافر گاڑیوں و دوسری چھوٹی بڑی گاڑیوں کو اپنے اپنے منزل مقصودتک پہنچنے کیلئے خاصی دیری کا سامنا کرنا پڑا۔ لگ بھگ تمام دکانوں جن میں بیکری والے ، ملبوسات ، کپڑے ، تحفے تحائف ، کراکری ، جوتے ، کاسمیٹکس و دوسری دکانوں پر خریداروں کا بھاری رش دیکھنے کو ملا اور دکانداروں نے بھی بھاری خرید وفروخت کی جبکہ ڈلگیٹ سے لیکر بٹہ مالو تک مارکیٹ سجانے والے ریڈی والوں و چھاپڑی فروشوں کے پاس بھی لوگوں نے مختلف قسم کی چیزوں کی خریدوفروخت کی۔ شہر سرینگر کی تمام بیکری دکانوں جن میں کئی معروف بیکری دکانیں شامل ہیں پر لوگوں کی ایک بھاری تعداد نے مختلف اقسام کی دو کروڑ روپے سے زائد کی بیکری فروخت کی گئی ۔ شام تک شہر سرینگر کے کئی بیکری دکانوں پر لوگوں کی من پسند بیکری ختم ہوئی تھی۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ عید الفطر کے سلسلے میں شہر سرینگر میں بھاری پیمانے پر کی جارہی خریداری کی آڑ میں دکانداروں کو لوٹ کھسوٹ کرنے کا اچھا خاصا موقعہ ملا اور سرکاری نرخناموں کو بالائے طاق رکھ کر مرغ فروشوں، سبزی فروشوں اور بیکری فروشوں نے منہ مانگی قیمتوں پر لوگوں کو چیزیں فروخت کیں ۔ جبکہ لوگوں نے بھی اس کی پرواہ کئے بغیر دھڑا دھڑ طریقے سے اپنی جیبوں کو ہلکا کرنے کیلئے بھاری خریداری کی۔ وادی کے دوسرے قصبہ جات میں زبردست چہل پہل اور گہما گہمی ہے اور لوگوں خاص کر چھوٹے بچوں میں خاصا جوش وخروش رہا ۔ عید الفطر کے سلسلے میں رات گئے تک شہر سرینگر کے کئی علاقوں میں دکانیں کھلی رہیں اور لوگ دیر گئے تک خریداری میں مصروف رہے ۔ دوسری چیزوں کے علاوہ شہر سرینگر کے بازاروں میں کھلونوں کی بھی خاصی بکری ہوئی اور پٹاخے بھی بڑی تعداد میں فروخت ہوئے ۔ وادی کے دوسرے قصبہ جات میں بھی عید الفطر کے سلسلے میں بھاری رش دیکھنے کو ملا اور لوگ عید کی تیاریوں میں مصروف ہوکر بھاری پیمانے پر خریداری کرتے رہے۔ شہر سرینگر کے تمام دکانوں جن میں ملبوسات ، کپڑے ، بیکری ، پٹڑی والے اور مرغ فروشوں کی دکانوں میں دن بھر خاص بھیڑ رہی ۔تمام بنک شاخوں پر لوگوں کی بھاری بھیڑ دیکھی گئی اور لوگ دن بھر پیسے نکالنے میں مشغول رہے جبکہ شہر سرینگر کے اے ٹی ایموں سے و 6 کروڑ سے زائد کی رقم نکالی گئی جبکہ شام گئے تک ان اے ٹی ایموں پر پیسے نکالنے کیلئے لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملی ۔ لوگوں نے دکانداروں پر الزام لگایا کہ چھوٹ کے نام پر لوٹ کھسوٹ مچائی گئی اور چھوٹ کے نام پر لوگوں کو لوٹا گیا ۔ ادھر وادی کے مختلف قصبوں میں زبردست گہما گہمی دیکھنے کو ملی جس کے دوران لوگوں نے جم کر خریداری کی ۔ اطلاعات کے مطابق بارہمولہ ، سوپور ، ہندوارہ ، کپوارہ ، بڈگام ، بارہمولہ ، شوپیان، اننت ناگ ، بانڈی پورہ کے علاوہ دیگر قصبوں میں بھی زبردست گہما گہمی رہی جس کے نتیجے میں ان اضلاع میں بیکری اور مرغ فروشوں کے دکانوں پر کافی رش دیکھنے کو ملا ۔(سی این ایس)