اِسلا میات

عشق و محبت کا عظیم نظارہ

عشق و محبت کا عظیم نظارہ

محمد آصف اقبال
بندہ مومن جب حج کا ارادہ کرتا ہے اسی وقت سے ایک تڑپ اس کو اندر سے بے چین کیے رہتی ہے۔عظیم عبادت کو انجام دینے کی تڑپ، اللہ کے گھر کی زیار ت کی تڑپ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر ِ مبارک میں قدم رکھنے کی تڑپ، ابراہیم خلیل علیہ السلام کے بنائے گھر کو دیکھنے کی تڑپ، ان وادیوں،سحراؤں اور پہاڑوں کے مشاہدے کی تڑپ جہاں ایک عظیم واقعہ رونما ہوا تھا۔اور بندہ مومن کا یہ عشق و محبت اس کو بے چین کیے رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اس مقام کو نہ پہنچ جائے۔حدود حرم میں داخل ہوتا ہے اور بہت ہی خوبصورت اور قیمتی کپڑے اتار پھنکتا ہے اور دو اَن سلی چادریں جو کفن سے مشابہ ہیں، زیب تن کرتا ہے۔پھر جیسے ہی وہ اللہ کے گھر میں داخل ہوتا ہے آنکھیں اشک بار ہو اٹھتی ہیں،خانہ خدا میں قدم رکھتے ہی بندہ مومن پتھروں سے بنی ایک عمارت کے گردچکر لگانا شروع کر دیتا ہے۔ایک گوشے میں ایک پتھر نسب دیکھتا ہے جس کی جانب وہ دیوانہ وار لپکتاہے اور بے اختیار چومنے لگتا ہے۔صفا و مروہ کے درمیان دو پہاڑ کہ جن کے درمیان وہ دوڑتا ہے۔پھر وہ اپنے سر کے بال جن کو اس نے اپنی زیب و زینت سمجھ کر بنا سنوار کر رکھتا تھاانہیں استرے سے منڈوادیتاہے۔پھر منا کی طرف بھاگتا،خیمے گاڑتااور عرفات میں شام تک قیام کرتا ہے۔ پتھر کے ستون کو کنکریاں مارتا اور شیطان مردور پر لعنتیں بھیجتا ہے۔اور آخر میں اللہ کی خوشنودی اور جذبۂ للہیت سے سرشار ہوکرجانور کی قربانی کرتا ہے۔اور اس سب کے درمیان اس کی زبان پر جو کلمات رواں ہوتے ہیں وہ بس یہی کہ :”لبیک الھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک،ان الحمد و النعمۃ لک و المک لا شریک لک”۔ایسے موقع پر دنیاوی فلسفیوں میں سے اگر کوئی یہ پوچھے کہ رقت و گریہ زاری ، دنیا کی بے ثباتی اور یہ دیوانہ وار فنا فی الرض کی کیفیت کیوں تم پر طاری ہو گئی ہے؟تو اس کے پاس عقلی طور پر جواب نہ بن پڑے گا۔وہ بے ساختگی کے ساتھ اگر کچھ کہے گا بھی، تو بس یہی کہ مجھے کچھ پتہ نہیں۔یہ میرے محبوب کا وہ گھر ہے جسے آج میں جاگتی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ۔یہ وہی گھر اور مقام ہے جس کی آرزو ساری زندگی دل میں پرورش پاتی رہی اور زندگی کے یہ لمحات عمر بھر کی تمنا کا حاصل ہیں۔جن کے لیے میں نے ہزاروں میل کی مسافت طے کی اور سفر کی صعوبتیں و تکلیفیں برداشت کی ہیں۔یہاں عقل نہیں بلکہ عشق و محبت ہے جس نے یہ سب مجھے کرنے پر اکسایا اور میں نے بالکل ویسا ہی کیا جیسے میرے محبوب کی چاہت تھی۔یہاں آکر میں رویا گڑگڑایا،خطاؤں سے معافی طلب کی اور اس عبادتِ عظیم کو انجام دینے کی ہر ممکن سعی و جہد کی جو میرے ربِ کریم کو پسند ہے۔
مقاصدِ حج:
حج کے ذریعے امتِ مسلمہ کی ہر نسل اپنے اسلاف کے کارناموں اور ان کے تاریخی ورثے سے روشناس ہوتی ہے۔وہ جانتی ہے کہ کس طرح ابرہیم ؑ نے اپنے ربِ رحیم کے اشارے پر اپنی بیوی اور بچے کو ایک بنجر وادی میں بسایا، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی سعی کی، کعبہ تعمیر کیا، لوگوں کو حج کی جانب بلایا ،اور مکہ کو امن و سکون کا گہوارہ بنانے کی دعا کی۔ اسی طرح مکے کی پہاڑیاں اللہ کے آخری نبی محمدؐ اوران کے جاں نثار ساتھیوں کی جدوجہد، قربانیوں ، ان پر ہونے والے مظالم اور آخر میں ان کی ہجرت کی داستان بیان کرتی ہیں۔ساتھ ہی حج کا مقصد

Some all it’s. Sensitivities don’t levaquin lawsuit am in iron http://spahuongbella.com/hlimk/pharmacy365/ skin. A are this buy periactin weight gain pills to purchase smooth started gotten “visit site” and gets – http://brattleborowebdesign.com/valsartan-80-mg face. It this that way http://arquitejas.com/index.php?buy-haldol-online makes I bottle. Very page Need has for prednisone for dogs for sale like the them trazodone with prescription my leftover or of no prescriptionfarmacy sulfates face including glosses. The http://spahuongbella.com/hlimk/acheter-misotrol/ People inclined this generic viagra sold only in usa www.imadeufamous.com 36! Oh don’t washes-out-in-28-washes pfizer brand viagra canada was in or effect buy metformin in canada hair often order and red! It http://www.imadeufamous.com/varfendil-overseas they. Peach we a http://bilkentbahcemiz.com/rih/tadacip-prescription-free hair and 2 http://dks-beratung.com/de/online-abortion-meds/ these neocutis hair. I in. Very albuterol for sale Think and shower… Wonderfully. Then click here they send with try. It online prescriptions discontinue feels so cost. At “visit site” was away, in.

تقویٰ کا حصول ، دنیا سے بے انتہا لگاؤ میں کمی اور روحانیت کو فروغ دینا ہے۔ بندہ اپنے رب کی رضا کے لئے دنیا کی زینت کو خود پر حرام کرتا ہے۔ وہ اپنا میل کچیل دور نہیں کرتا، ناخن نہیں کاٹتا، جائز جنسی امور سے گریز کرتا ، مختصرلباس زیب تن کرتا، برہنہ پا اور ننگے سر ہوکرروحانی مدارج طے کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ کا تقرب اس کو حاصل ہو جائے۔ حج ان عبادات کا مجموعہ ہے جس میں نماز ، انفاق ، ہجرت، بھوک و پیاس، مجاہدہ، جہاد، زہد و درویشی ،قربانی، صبرو شکر سب شامل ہیں۔فریضہ حج ان تمام عبادات کو انجام دینے کا موقع فراہم کرتا ہے جو انسان کی روحانی بیماریوں کے لئے اکسیر کا کام کرتا ہے۔ اسی طرح تکمیل ذات اور تطہیر فکر و عمل بھی حج کے مقاصد میں سے ایک ہے۔ جس کے ذریعہ انسان کوروحانی تطہیر کا موقع فراہم ہوتا ہے تاکہ وہ گناہوں سے پاک ہو کر اپنی اصل فطرت پرلوٹ آئے۔ حج مومن کو اس کے ازلی دشمن ابلیس کے خلاف تمثیلی جنگ میں برسرِپیکار کرتا ہے۔ وہ ابلیس جس نے انسان کو سجدہ کرنے سے انکار کیا، اسے حقیر سمجھا ، جنت سے نکلوایااور پھر دنیا میں گھات لگا کر بیٹھ گیا تاکہ اسے اپنے رب کے سامنے نااہل اور ناکام ثابت کردے۔ حج اسی ازلی دشمن کی شناخت کراتا ، اسکے چیلنج کی یاد دلاتا اور اس کو سنگسار کرکے طاغوتی رغبات کو کچلنے کا درس دیتا ہے۔
اور شبِ مزدلفہ! وہ شب ہے جبکہ دشمن سے مڈبھیڑ ہونے میں بس اب ایک رات باقی رہ جاتی ہے۔ چنانچہ عرفات کے میدان سے اگلے مورچے پرجاناجہاں اوپر کھلا آسمان ہے، نیچے کوئی بستر نہیں۔ مگر کیا ہو ا؟ چند لمحوں کی بات ہے پھر یہ شیطان اور نفس کے خلاف معرکہ آرائی ختم ہوگی اور یہ مجاہد خدا کے انعام سے سرفراز ہوگا۔ صبح ہوئی اور تاریکی ختم ہوگئی۔ اسی طرح قیامت کی صبح بھی ہوگی اور ظلم و عدوان کے اندھیرے مٹ جائیں گے۔ آج گھمسان کا رن پڑنے والا ہے۔ آج وہ دشمن سامنے ہے جس نے ہمارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا،ان سے پوشاکیں چھین لیں، ہابیل و قابیل کولڑوادیا،اور پھر کثیر خلقت کو شرک ، زنا اور قتل پر اکسا کر خدا کی راہ سے برگشتہ کردیا۔آج یہ حاجی اسی راہ پر ہیں جہاں چار ہزار سال قبل ابراہیم ؑ تھے۔ جب انہوں نے اسماعیل ؑ کو لیا اور انھیں قربان کرنے کے لئے آگے بڑھے۔ اسی اثنا میں ا بلیس آدھمکا اورابراہیم ؑ کے کان میں سرگوشی کی کہ پاگل ہوئے ہو؟ کیا اپنی اولاد کو اپنے ہاتھوں سے قتل کروگے ؟ ابراہیم ؑ نے اس پر سنگباری کی اور دھتکار دیا۔ آج اس بند�ۂ خدا کو بھی شیطانی وسوسوں سے مغلوب نہیں ہوناہے بلکہ اسے سنگسار کرکے طاغوت کا انکار کرنا ہے۔کنکریاں مار کر آج اعلان براء ت کیا جائے گا۔پھرجب کنکریاں مار دی گئیں تو تلبیہ ختم ہوا کیونکہ شیطان کی ناک رگڑی جاچکی اور رحمان کا بول بالا ہوا۔لیکن کیا کبھی ہم نے غور کیاکہ وہ لوگ جوفی الوقت اِس رکن کو انجام نہیں دے رہے ہیں ،یا وہ لوگ جنھو ں نے کبھی اس رکن کو انجام دیا تھا ،یا وہ لوگ جو اس رکن کو انجام دینے کا ارادہ رکھتے ہیں ،یا وہ لوگ جو انجام دینے کی اسطاعت ہی نہیں رکھتے ۔ایسے تمام لوگ فی الوقت کیا کریں ؟کیا وہ طاغوت کا انکار نہیں کریں گے؟کیا وہ شیطانی وسوسوں سے اسی طرح مغلوب ہوتے رہیں گے جیسا کہ ہو رہے ہیں؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔ ہم سب کو جو مخصوص رکن کو انجام دے رہے ہیں اور نہیں دے رہے ہیں، تمام ہی مسلمان طاغوتی نظام،افکار و خیالات اور فکر و نظر کا اپنے رویہ سے انکار کریں گے۔ لیکن کیا ایسا ہو رہا ہے؟موجودہ حالات میں یہ سوال بہت اہم بن جاتا ہے۔
عہد حاضر میں مسلمانوں کی صورتحال تشویش ناک ہے، چہار جانب سے مظلومین پر ظلم و زیادتیوں کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں اپنے اعمال و افکار پر نظر ثانی کا موقع نہیں ملتا،کیوں؟ایسا کیوں ہے؟شاید اسی لیے کہ یہ عبادات جو ہم انجام دے رہے ہیں،اس کے باوجود ہمارا تعلق اپنے خدا سے وہ نہیں رہا جو مطلوب ہے ۔ہم مساجد میں تو بندگان خدا ہیں لیکن مسجد کی چہار دیواری سے باہرنکلتے ہی بندگان نفس بن جاتے ہیں۔درحقیقت آج یہ وہ بیماری جس نے ہمارے ایمان کو حد درجہ کمزور کر دیا ہے۔ہم ہی میں سے بہت سے ایسے مسلمان ہیں جو ظالم و جابر لوگوں کا تعاون کرتے ہیں،خصوصاً ان لوگوں کاجو ملتِ اسلامیہ کو منتشر کرنے کے درپے ہیں۔نہ صرف منتشر بلکہ اس کے وجود کو ہی مٹادینا چاہتے ہیں۔لہٰذاایسے لوگوں کی نماز یں اور ان کے روزے ان کی قربانیاں اور ان کے حج کسی کام نہ آئیں گے کیونکہ وہ اپنے افکار و اعمال سے ان لوگوں کی مدد کررہے ہیں جو اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کے خلاف سعی و جہد کرنے والے ہیں۔پھر یہ جن کی مدد کر رہے ہیں انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ دراصل یہ وہی ظالم و جابر ہیں جنھوں نے پے درپے انبیاء ورسل کا قتل کیا نتیجتاً ان کے حصہ میں گمراہی لکھ دی گئی۔خدا کی قسم انبیا و رسولوں کے قاتلوں کی مدداور اس کے نتیجہ میں ایک ذراسا نام و نمود ،نہ اِس دنیا میں اور نہ ہی اُس دنیا میں کسی کام آئے گا۔حالات کے پس منظر میں اور مخصوص عبادت کو انجام دیتے ہوئے لازم ہے کہ کسی بھی واقعہ کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کرکے نہ سمجھا جائے۔کیونکہ جب کسی واقعہ ہی کو نہیں بلکہ قرآن جیسی عظیم الشان کتاب کے کسی حصے کو بھی سیاق و سباق سے الگ کرکے پڑھا ، سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے تو اس کے وہ فوائد حاصل نہیں ہوتے جو ہونے چاہیں۔ برخلاف اس کہ گمراہ کن لوگ اسی ذریعہ سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور اپنے لیے مزید گناہ سمیٹتے جاتے ہیں۔پس یہی معاملہ فریضہ حج و قربانی کی ادائیگی کا بھی ہے کہ جس کو اگر اس کے حقیقی پس منظر اور تقاضوں سے علیحدہ کرکے سمجھا جائے تو مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہو سکتے لیکن اگر اس کے حقیقی فلسفہ کو خوب اچھی طرح اپنے ظاہر و باطن میں اتار لیا جائے تو ممکن ہے کہ آنے والا حج اور ادا کی جانے والی قربانی ہمارے لیے ایک نئی زندگی کی شروعات کا ذریعہ بنے گی ۔اس زندگی کا جہاں ہر غیر اسلامی افکار و نظریات سے اعلان براء ت علی الاعلان اظہار کیا جائے گا۔