اداریہ

عمر طالب کی ہلاکت انکوائری کا حکم

عمر طالب کی ہلاکت  انکوائری کا حکم

رواں ماہ میں ہی نائد کھئے میں نماز جمعہ کے بعداحتجاجی لوگوں پر گولیاں چلائیں گئیں جس کے نتیجہ میں گیارویں جماعت کا طالب علم جاں بحق ہوا جبکہ اسکے کئی ساتھیوں سمیت سات افراد زخمی ہوئے۔طالب علم کی ہلاکت کے بعد علاقہ میں پرتشدد احتجاج کیا گیا۔ واقعہ کے بعد لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور نعرے بازی کی۔ فرحت احمد ڈار نامی طالب کی موت کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ نائد کھئے کتاب لانے جا رہا ہے جس دوران وہاں مظاہرے ہو رہے تھے اور مظاہرین اور پولیس کے درمیان پُرتشدد جھڑپیں ہو رہی تھیں کہ اس دوران فرحت بھی چل رہا ہے کہ فرحت پر راست فائرنگ کی گئی جس دوران وہ زخمی ہوئے تاہم اُنہیں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کے موت کی تصدیق ہوئی۔ فرحت کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور حال ہی میں میڑک امتحان پاس کرنے کے بعد گیارہویں جماعت کیلئے نائد کھے کوئی کتاب لانے جا رہا تھا۔ فرحت کے ہلاکت پر ڈسڑکٹ مجسٹریٹ بانڈی پورہ نے اس سلسلے میں انکوائری کے احکامات صادر کئے ہیں۔ اگر چہ حکومت نے فرحت کے ہلاکت کی انکوائری کے احکامات صادر کئے۔ لیکن عوامی حلقے سوال کر رہے ہیں کہ کیا حکومت کے انکوائری کرنے سے فرحت نامی یہ طالب علم زندہ ہو جائے گا اور اپنی تعلیم جاری رکھ سکے گا۔حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے اگر چہ انکوائری کے احکامات صادر کئے اور طالب علم کے اموات کی خبر رکھنے والے افراد سے کہا کہ وہ اپنے بیانات قلمبند کرائیں ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آج تک بہت سارے لوگوں نے کئی ایسے دوسرے کیسوں جیسے شوپیان سانحہ کے بارے میں بیانات قلمبند کرائیں لیکن نتائج سب کے سامنے ہیں۔