خبریں

عمر عبداللہ نا شائستہ الفاظ استعمال نہ کریں

بانہال میں دفعہ 370سے متعلق وزیر اعلی کے بیان پر شدید چوٹ کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر ایل کے ایڈوانی نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے بارے میں بی جے پی کے موقف کے تناظر میں ’’دھوکہ دہی ‘‘ جیسے جارہانہ الفاظ استعمال کرنا انتہائی نا مناسب ہیں ۔ایل کے ایڈوانی نے کانگریس کو اس قانون کے تحت ریاست کو خصوصی حیثیت دینے کی سب بڑی مخالف جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنڈت جواہر لال نہرو سمیت کانگریس کے کئی رہنما بھی اس قانون کے بڑے مخالف تھے۔ایک سماجی ویب سائٹ پر وزیر اعلی عمر عبداللہ کی طرف سے حال ہی میں دفعہ 370سے متعلق کے بیان پر شدید چوٹ کرتے ہوئے ایل کے ایڈوانی نے کہا کہ وزیر اعلی عمر عبداللہ کو جموں و کشمیر کے بارے میں بی جی پی کے موقف پر اتفاق نہ کرنے کا حق حاصل ہے تاہم میں ان کو یہ نصیت کررہا ہوں کہ وہ اس ضمن میں ’’دھوکہ دہی‘‘ اور’’ دھوکہ کے الفاط استعمال نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی کو یہ بات واضح کرنی چاہئے کہ ان کی پارٹی ہمیشہ 370کے خلاف تھی انہوں نے کہا کہ آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو سمیت کانگریس کے کئی سرکردہ رہنما جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے کے حق میں نہیں تھے اور وہ اس قانون کے مخالف تھے۔سردار پٹیل کی سوانح عمری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بھی دفعہ 370کے سخت خلاف تھے لیکن انہوں نے اپنے خیالات اس پس منظر میں محفوظ رکھیں کیونکہ وہ پنڈت جواہر لال نہرو کو کافی احترام کرتے تھے ۔ ایل کے ایڈوانی نے اس معاملے پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ جموں و کشمیر کے بی جے پی کے موقف کے تناظر میں دھوکہ دہی جیسے الفاط استعمال کرنا انتہائی نا مناسب ہے ۔واضح رہے ایل کے ایڈوانی نے حال ہی میں دفعہ 370کی کالعدم کی بات کہی تھی جس کے بعد وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بانہال میں وزیر اعظم اور یوپی اے چیرپرسن کی موجودگی میں ایڈوانی کا نام لئے بغیرکہا تھا کہ اس قانون کی باتیں کرنے والوں کو ہماری لاشوں پر گذرنا پڑے گا ۔