خبریں

عمر عبداللہ نے ہلاکتوں کی وجہ محبوبہ مفتی کی نااہلی بتایا

عمر عبداللہ نے ہلاکتوں کی وجہ محبوبہ مفتی کی نااہلی بتایا

گذشتہ نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو بحیثیت وزیر اعلیٰ گذشتہ 5ماہ سے جاری بے چینی کی ذمہ داری قبول کر لینی چاہئے کیونکہ اپوزیشن میں رہ کر موصوفہ نے 2010میں مجھے اور 2008 میں غلام نبی آزاد کو حالات کیلئے ذمہ دار ٹھہرانے کیلئے کوئی کثر باقی نہیں رکھی ۔ 2010میں موصوفہ نے نیشنل کانفرنس کو حالات کیلئے ذمہ دار ٹھہرانے اور حکومت کو برخواست کرنے کیلئے سرینگر سے لیکر نئی دلی تک اپنی مہم چلائی اور موصوفہ آئے روز سڑکوں پر مگرمچھ کے آنسو بہانے نکلا کرتی تھی۔ پارٹی ہیڈکوارٹر پر سرینگر کے 8حلقہ انتخابات کے ڈیلی گیٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم نے محبوبہ مفتی کی طرح معصوموں کے خون پر سیاست نہیں کی، ہم نے محبوبہ مفتی سے استعفیٰ نہیں مانگا، ہم نے بس حالات کو ٹھیک کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا، لیکن بدقسمتی سے محبوبہ مفتی نے بحیثیت وزیر اعلیٰ ذمہ دار ی نبھانے کے بجائے خراب حالات کیلئے اُن بچوں، خواتین، بزرگوں اور نوجوانوں کو قصور وار ٹھہرایا جو خراب حالات کے شکار تھے۔ عمر عبداللہ نے کہا محبوبہ مفتی نے نازک مراحل پر غیر ذمہ دارانہ اور غیر دانشمندانہ بیانات جاری کرکے جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف حالات کو مزید خراب کردیا۔ موصوفہ نے 95فیصدی اور 5فیصد ی کی بچگانہ منطق پیش کرکے عام لوگوں پر طاقت کے بے تحاشہ استعمال کو جواز بخشا۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو ایسے مظالم سہنے پڑے ، جن کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ 15ہزار مرد و زن ، بچوں اور بزرگوں کو زخمی کیا گیا، 10ہزار سے زائد شہریوں کو گرفتار کیا گیا، سینکڑوں پر پی ایس اے کا اطلاق عمل میں لایا گیا، درجنوں کو نابینا اور ہزاروں کو اپاہج بنایا گیا، فصلوں کو نذر آتش کیا گیا، بجلی ٹرانسفامروں کو گولوں سے تباہ کیا گیا، پکے ہوئے میوہ کو ضائع کیا گیا، میوباغات میں درختوں کو اُکھاڑ دیا گیا، نمازوں خصوصاً عید نمازپر قدغن لگائی گئی۔ کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے اور محبوبہ مفتی خاموش تماشائی بنی بیٹھی تھی۔ اس کے برعکس اپوزیشن جماعتوں نے ہر ایک دروازہ کھٹکھٹایا ،ملک کے صدر، وزیر اعظم اور دیگر لیڈران کو حالات سدھارنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی اپیل کی اور انہیں مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کیلئے زور دیا، پیلٹ، بلٹ اور دیگر مظالم روکنے کیلئے منت سماجت کی لیکن محبوبہ مفتی نے، 5فیصد لوگ حالات خراب کررہے ہیں اور 95فیصد پُرامن ہیں، کا غیر ذمہ دارانہ اور غیر دانشمندانہ بیان جاری کرکے مرکزی سرکار کو کوئی بھی ٹھوس اقدام نہ اٹھانے کا بہانہ فراہم کیا۔ محبوبہ مفتی نے مرکزی سرکار کو مفاہمت اور مصالحت پر راضی کرنے کے بجائے کشمیریوں کو گھروں تک محدود کرنے کیلئے 3لاکھ فورسز اہلکار طلب کئے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ آج محبوبہ مفتی نئی دلی رقوم حاصل کرنے کیلئے جاتی ہیں جبکہ اقتدار لیتے وقت عوام سے کہا گیا تھا کہ نئی دلی کشکول لیکر نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم کے ساتھ گذشتہ5ماہ میں ہلاک ہوئے شہریوں، زخمیوں اور گرفتار نوجوانوں کے بارے میں بات نہیں کی۔ محبوبہ مفتی کو چاہئے تھا کہ وہ وزیر اعظم کے ساتھ پیلٹ متاثرین، زخمیوں اور اپاہج بنے نوجوانوں کا معاملہ اٹھاتی اور اُن کے علاج و معالجہ اور مستقبل کیلئے کوئی پیکیج طلب کرتی۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے عوام کے ساتھ بلند بانگ دعوے کئے اور افسپا کی منسوخی ، اعتماد سازی، بجلی گھروں کی واپسی، 24گھنٹے بجلی کی فراہمی، بھر پور اور سستا راشن جیسے بڑے بڑے وعدے کئے لیکن 2سال کا وقت گزرنے کے باوجود بھی ایک بھی وعدہ پورا نہ ہوسکا۔ افسپا کی منسوخی کے بجائے مزید فوج اور فورسز لائے گئے، اعتماد سازی کے بجائے پہلے سے ہی قائم اعتماد سازی کی فضا کو درہم برہم کردیا گیا، 24گھنٹے بجلی کے بجائے بجلی نایاب کی گئی اور فیس میں اضافہ کیا گیا، سستا اور بھر پور راشن کے بجائے راشن کوٹا میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی حکومت کہتی ہیں کہ وادی کشمیر کیلئے مختص فنڈس جموں اور لداخ منتقل کئے جائیں گے کیونکہ 5ماہ سے کوئی رقوم خرچ نہیں ہوسکے۔اگر یہ رقوم خرچ نہیں ہوسکے ہیں تو ان رقوم سے وادی کے لوگوں کیلئے بجلی اور راشن کیوں نہیں خریدا جارہا ہے۔ نئی دلی کو حدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نئی دلی نے ہمیشہ کشمیریوں کے بھروسے اور اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ وقت وقت پر مرکزی سرکاروں نے کشمیریوں کے ساتھ وعدے کرکے وقت گزاری کی ۔ کشمیریوں کے ساتھ sky is the limitتک کا وعدہ کیا گیا لیکن اس کے برعکس خصوصی پوزیشن کو مزید زک پہنچانے کیلئے سازشیں رچائیں گئیں۔اس موقعے پر پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران مبارک گل، شمیمہ فردوس، عرفان احمد شاہ، علی محمد ڈار، پیر آفاق احمد، محمد سعید آخون، تنویر صادق، جنید عظیم متو، سلمان علی ساگر، ایڈوکیٹ شوکت احمدمیر، غلام نبی بٹ کے علاوہ بلاک صدور صاحبان بھی موجود تھے۔تقریب کے اختتام پر عمر عبداللہ نے ضلع سرینگر کے پارٹی عہدیداران میں پارٹی شناختی کارڈ تقسیم کئے۔