خبریں

عوامی امنگوں کے منافی حل نا قابل قبول

عوامی امنگوں کے منافی حل نا قابل قبول

حریت کانفرنس(گ) کے چیرمین سید علی گیلانی نے عوامی امنگوں کے منافی حل کو نا قابل قبول قرار دیتے ہوئے ٹریک ٹو ڈپلومیسی پر مامور سابق سفارتکار ایس کے لامبا کے اظہار خیال کو غیر حقیقت پسندانہ، ضد اور ہٹ دھرمی سے تعبیر کیا۔ چیرمین سید علی گیلانی نے وزیر اعظم ہند کے خصوصی نمائندہ ایس کے لامبا کے کشمیر پر دئے گئے بیان کو غیر حقیقت پسندانہ اور بھارت کی روایتی ضد اور ہٹ دھرمی سے عبارت قرار دیتے ہوئے کہا ہے

کہ کشمیری قوم تنازعہ کشمیر کے کسی بھی ایسے حل کو قبول نہیں کرے گی جو ان کی امنگوں، آرزوئوں اور قربانیوں کے منافی ہو اور جس کے نتیجے میں انہیں بھارت کے جبری قبضے کو تسلیم کرنا پڑتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے مابین کوئی دو فریقہ یا سرحدی تنازعہ نہیں ہے، جس کو آپسی بندر بانٹ کے ذریعے سے حل کر سکتے ہیں۔ یہ 13 ملین لوگوں کے استصواب رائے کا مسئلہ ہے اور دنیا کی کوئی بھی طاقت انہیں ان کے بنیادی اور پیدائشی حق سے محروم نہیں کرسکتی ہے۔ حریت (گ) چیرمین نے مسٹر لامبا کی اس بات کو ایک خوبصورت مذاق کے مترادف قرار دیا جس میں انہوں نے طاقت سے کشمیر حل کو خارج ازامکان جتایا ہے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ یہ بھارت کی حکومت ہے جو اس بین الاقوامی نوعیت کے تنازعے کو اپنی ملٹری طاقت کے ذریعے سے حل کرانا چاہتی ہے اور ہم اس سے یہ باور کراتے ہیں کہ طاقت کے ذریعے وہ ایک قوم کو سرینڈر کرانے پر مجبور کر سکتی ہے اور نہ وہ زورزبردستی کے ذریعے کشمیر پر زیادہ دیر تک قابض رہ سکتی ہے۔ لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد میں تبدیل کرنے کی مسٹر لامبا کی تجویز کو ایک سفارتکار کے بجائے ایک فوجی افسر کی بولی قرار دیتے ہوئے آزادی پسند راہنما نے کہا کہ جموں کشمیر، لداخ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا پورا علاقہ ایک وحدت ہے اور 47ء سے پہلے والی اس سالم ریاست کے سینے پر ایک خونی لکیر کھینچی گئی ہے اور یہاں کے لوگوں کو زبرستی ایک دوسرے سے جدا کیا گیا ہے۔ کشمیری قوم کو یہ جبری تقسیم ہوتی تو پھر 67 سالہ جدوجہد کا مقصد آخر کیا تھا اور یہ قوم لاکھوں انسانی زندگیو ں کی قربانی کیونکر دیتی؟ سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت کے علاوہ خدانخواستہ پاکستان بھی خونی لکیر کو مستقل سرحد پر بنانے پر راضی ہو جاتا ہے۔