خبریں

عوامی مشکلات میں اضافہ

عوامی مشکلات میں اضافہ

اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے موجودہ جیالوجی ومائننگ پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ دوہرایا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں کنبوں کا روزگار متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میںنجی وسرکاری ترقیاتی کام رُکے پڑے ہیں۔ اپنی پارٹی کی طرف سے جموں وکشمیر میں شروع کئے گئے احتجاجی پروگر ام سے متعلق میڈیا کو جانکاری دیتے ہوئے الطاف بخاری نے لیفٹیننٹ گورنر سربراہی والی حکومت سے اپیل کی کہ موجودہ جیالوجی ومائننگ پالیسی کو واپس لیاجائے تاکہ مقامی لوگوں کوقدرتی وسائل پرموروثی حقوق کا تحفظ مل سکے ۔ سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا ہےکہ قریب پانچ لاکھ مقامی کنبہ جات جوکہ دہائیوں سے ریت وباجری اور پتھروں کی نکاسی، سپلائی، ٹرانسپورٹیشن اور تعمیری کاروبارسے منسلک ہیں ، کا کام موجودہ عوام مخالف جیالونی ومائننگ پالیسی کی وجہ سے بے حد متاثر ہوا ہے۔ عوام دوستانہ اقدامات لینے کی بجائے، موجودہ انتظامیہ جموں وکشمیر کے اندر نامعلوم وجوہات کی بنا پر عوام کی مشکلات میں اضافہ کرنے میں لگی ہے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ حکومت چھوٹے پیمانے پر کان کنی کے بدلے معمولی رائلٹی حاصل کرنے پر فخر کررہی ہے اور دوسری طرف وہ اپنے ترقیاتی منصوبوں کے لئے درکار تعمیراتی سامان کی خریداری میں بہت زیادہ قیمت ادا کر رہی ہے ۔ پانچ اگست 2019کے بعد خام مال کی نکاسی سے متعلق جانکاری حکم نامہ سے جموں وکشمیر میں کان کنی کا کاروبار بے حد متاثر ہوا ہے۔ الطاف بخاری نے کہا”ہم نتائج کی پرواہ کیے بغیر مفاد عامہ کے معاملات اٹھاتے رہیں گے، اس وقت انتظامیہ خاموش ہے لیکن میں جیالوجی اور مائننگ سیکٹر کے تمام اسٹیک ہولڈرزکو یقین دلاتا ہوں کہ اپنی پارٹی اِس جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچاکر اُنہیں حقوق دلا کر ہی رہے گی۔قابل ِ ذکر ہے کہ جموں وکشمیر اپنی پارٹی کی ضلع اکائیوں نے ہفتہ کے روز پوری یوٹی کے اندر مختلف مقامات پر اِس پالیسی کے خلاف پُر امن احتجاجی مظاہرے کئے جن کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بخاری نے بتایاکہ احتجاج جموں وکشمیر کے دونوں صوبوں میں کئے گئے سرینگر ضلع میں پانتھہ چوک اور ملورہ، گاندربل میں واتل باغ اور وحید پورہ، کولگام میں نیہامہ، کپواڑہ میں ٹی آر سی کپواڑہ بنہ، بارہمولہ میں شیر وانی کالونی، بانڈی پورہ میں نزدیک تعمیرات عامہ انسپکشن ہیڈ تا منی سیکریٹریٹ، شوپیان میں پڈپوان، اننت ناگ میں اسپورٹس اسٹیڈیم اننت سے ڈی سی دفتر تک جس کے بعد اشی جی پورہ میں ٹریکٹر ریلی اور پلوامہ میں سیمہ پورہ میں احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے۔ اسی طرح جموں صوبہ میں پریس کلب جموں، اکھنور میں فوارہ چوک، جموں رورل بی میں ارنیہ، دومانہ چوک، اودھم پور میں جیتھنی چوک، سانبہ میں قومی شاہراہ پر وجے پور ، کٹھوعہ میں ہیرانگر اور مچیاڑی بنی، راجوری میں کوٹرنکہ، پونچھ میں پریڈ گرائونڈ، کشتواڑ میں مین بازار، ریاسی میں دھرماڑی اور رام بن میں مین رام بن کے مقام پر جیالوجی ومائننگ پالیسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔