خبریں

عوامی مفادات کیلئے کوئی بھی قربانی دئوں گی

عوامی مفادات کیلئے کوئی بھی قربانی دئوں گی

پی ڈی پی صدر اورسابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مسئلہ کشمیر کوایک سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئےکہا ہےکہ دنیا میںسب سے زیادہ فوج جموں وکشمیر میں تعینات ہے ۔ ۵؍اگست2019کے فیصلوں کے بعد سے مرکزی حکومت بے قرارہے ،اسی لئے بیرون ممالک کے سفارتکاروں کویہاں بھیج کریہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کشمیری عوام بھارت سے ناراض نہیں ہیں بلکہ وہ خوش ہیں۔پی ڈی پی صدرنے کہاکہ ہمیں پتھربازی نہیں کرنی ہے،ہمیں اپنی بات کہنی ہےاورہم یہ بات پاکستان سے نہیں بلکہ بھارت سے کہیں گے ۔2016کی ایجی ٹیشن کے دوران مرکزی سرکار کاایک وفد کشمیریوں کے دروازے پرآیا لیکن ہم نے دروازے بند رکھے ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ ہم نے حکمرانی کی ہے ،آج عوامی احساسات ومفادات کیلئے جیل بھی جاناپڑے توجائوں گی۔ بھاجپا پر پی ڈی پی کوتوڑنے کاالزام عائد کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہاکہ جوپارٹی سے نکلے ہیں،وہ مجھے کہتے تھے کہ بجلی ،پانی اورسڑک کی بات کریں،کوئی اوربات نہ کریں۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ جب میں نے اُن کی بات نہیں مانی تووہ ڈراورخوف کی وجہ سے پارٹی چھوڑکرچلے گئے ۔پی ڈی پی صدرنے پارٹی ورکروں سے جذباتی اندازمیں کہاکہ مجھے اکیلے نہیں چھوڑنا،میرا ساتھ دینا۔
شمالی کشمیر میں عوامی رابطہ مہم کوجاری رکھتے ہوئے پی ڈی پی کی صدراورسابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعرات کوڈاک بنگلہ بارہمولہ میں پارٹی کارکنوں کے ایک کنونشن سے خطاب کیا۔انہوں نے کہاکہ میں عوام کی بات کرئوں گی،چاہئے مجھے جیل ہی کیوں نہ جاناپڑے۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ عوام کے حقوق کیلئے قربانی دینی پڑی تومیں دئوں گی ،جیل جانا پڑے توجیل بھی جائوں گی ۔محبوبہ مفتی کاسوالیہ انداز میں کہناتھاکہ بانڈی پورہ میں ایک کمسن بچی کواغوا کرنے کی کوشش کی گئی ،کیا میں اسکی بات نہ کرئوں ،لائوے پورہ میں مارے گئے تین نوجوانوں میںسے ایک کے والد نے بیٹے کی نعش کودفن کرنے کیلئے قبر کھودکررکھی ہے ،اوراس پرکیس کیاگیا،کیا میں اُسکی بات نہ کرئوں۔انہوں نے کہاکہ جولوگ ہماری پارٹی سے نکلے ہیں یانکالے گئے ہیں ،وہ مجھے کہتے تھے کہ آپ چھینے گئے حقوق کی بات نہ کریں ،آپ زیادتیوں اورظلم کی بات نہ کریں ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے حکمرانی کی ہے ،آج عوامی احساسات ومفادات کی بات کرنے پرمجھے جیل بھی جاناپڑے تومیںجائوں گی ۔انہوں نے کہاکہ میں اُن لیڈروںکاکیاکرئوں گی ،جومجھے سچ اورحق بات کہنے سے روکتے تھے ۔محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ مجھے ویسے لیڈرنہیں چاہیں ،بلکہ مجھے وہ ورکر چاہیں ،جو میرے ساتھ کھڑے ہونے کیلئے تیارہوں ۔انہوں نے بھاجپا پر پی ڈی پی کوتوڑنے کاالزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ جوپارٹی سے نکلے ہیں ،وہ مجھے کہتے تھے کہ بجلی ،پانی اورسڑک کی بات کریں،کوئی اوربات نہ کریں۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ جب میں نے اُن کی بات نہیں مانی تووہ ڈراورخوف کی وجہ سے پارٹی چھوڑکرچلے گئے۔انہوں نے کہاکہ 5،اگست2019کے فیصلوں کے بعد سے مرکزی حکومت بے قرارہے ،اسی لئے بیرون ممالک کے سفارتکاروں کویہاں بھیج کریہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کشمیری عوام بھارت سے ناراض نہیں ہیں بلکہ وہ خوش ہیں ۔ محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ مرکزی سرکارنے غیرملکی سفیروں کویہاں بھیجا تاکہ وہ اپنے ملکوں کی حکومتوںسے کہہ سکیں کہ کشمیری بھارت سے ناراض نہیں ہیں بلکہ وہ خوش ہیں ۔ مرکزی سرکار کی بے اطمینانی اوربے قراری صاف نظرآرہی ہے،کیونکہ دلی کے حکمران جانتے ہیں کہ جموں وکشمیر کے عوام5؍ اگست2019کوکئے گئے یکطرفہ فیصلوں سے ناراض ہیں ،اوراب اس ناراضگی کودنیا سے چھپانے کیلئے نت نئے طریقے اپنائے جارہے ہیں،اورغیرملکی سفیروں کی کشمیرآمد اسی طریقے کارکی ایک کڑی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ماگام بڈگام میں موجودلوگوں سے کہلوایا گیاکہ ہمیں بجلی ،پانی ،سڑک اورروزگار چاہئے ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ اگر مرکزی حکمرانوں کویہ اطمینان ہے کہ کشمیری بھارت کیساتھ خوش ہیں تو لاکھوں کی تعدادمیں فوج یہاں کیوں تعینات رکھی گئی ہے ،یہاں زبان بندی کیوں کی گئی ہے ،یہاں اخبار والوں کوڈرایا دھمکایاکیوں جاتاہے،صحافیوںکوکیوں بلاوابھیجاجاتاہے ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ دنیا میںسب سے زیادہ فوج جموں وکشمیر میں تعینات ہے،لیکن بقول موصوفہ طاقت کے بل پر مرکزی سرکار کوکچھ حاصل نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ طاقت سے کچھ حاصل نہیں ہوتاہے ،بلکہ دلوںکوجیتنے سے ہی بہت کچھ حاصل ہوسکتاہے۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ عوام کودبانا اورڈرانا بڑی بات نہیں ہے بلکہ عوام کے دلوںکوجیتنا ہی بڑی بات ہے ۔سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے 5؍اگست 2019کے فیصلوں کوسراسرزیادتی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے بزرگوں،ہمارے نوجوانوں،بچوں اوربہن بیٹیوں کے سرسے چادرچھینی گئی ،ہمارے حقوق ختم کئے گئے ،ہمیں جائز حقوق سے محروم کیاگیا۔انہوںنے کہاکہ دفعہ370اور35A جموں وکشمیر اوریہاں کے باشندوں کے حقوق کوتحفظ فراہم کرتے تھے،لیکن اب ہم حقوق کے بغیر ہیں ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ جموں وکشمیر نے بھارت کیساتھ کچھ شرائط کے تحت الحاق کیاتھا،لیکن اب اُس الحاق اوراُس رشتے پر سوالیہ نشان لگ گیاہے ۔کیوں نہ کہوں کہ مسئلہ کشمیر ہے جبکہ یہ مسئلہ ہےاوراگریہ مسئلہ نہیں ہوتاتویہاں دس لاکھ فوجی تعینات ہیں۔مسئلہ کشمیر ایک حقیقت ہے اورجب تک بھارت اورپاکستان بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کوحل نہیں کریں گےتب تک یہ مسئلہ رہے گا۔