اداریہ

عوام جائیں تو کہاں؟

عوام جائیں تو کہاں؟
ریاست جموں وکشمیر میں حالیہ پارلیمانی چناؤ میں پی ڈی پی اور بی جے پی نے اگر چہ زبردست کامیابی حاصل کی ہے وہی بر سر اقتدار جماعتیں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو اس چناؤ میں زبردست دھچکا لگاہے۔ دونوں پارٹیوں نے ریاست کے چھ سیٹوں میں سے کسی ایک پر بھی کامیابی حاصل نہیں اس کے برعکس اپوزیشن جماعتوں پی ڈی پی اور بی جے پی نے چھ سیٹوں میں سے تین تین سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس طرح سے پارلیمانی چناؤ میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے گٹھ جوڑ کو ناکام بنایا گیا۔ اب اگر چہ ریاست میں آنے والے چند مہینوں میں اسمبلی چناؤ بھی ہونے والے ہیں اور برسر اقتدار جماعتیں نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے اگر چہ فیصلہ کر ہی لیا کہ دونوں پارٹیاں آنے والے اسمبلی انتخابات الگ الگ لڑیں گے۔ دونوں پارٹیاں اسمبلی چناؤ میں ووٹروں کو لبھانے کیلئے ہر طرح کے حربے آزمائیں گے اور دوبارہ اقتدار پر براجمان ہونے کی ضرورت کوشش کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ ایک کابینی فیصلہ میں سرکاری ملازمین کی عمر کی بالائی حد کو بڑھایا گیا یہ بھی ایک کوشش ضرور ہے مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسی کوشش اب برسراقتدار جماعتوں کو کوئی فائدہ دے گا ،آنے والے مہینوں کا انتظار ہے۔ ویسے جس طرح پارلیمانی انتخابات میں دونوں پارٹیوں نے شکست کھائی اور چھ سیٹوں میں سے کسی ایک پر بھی کامیابی حاصل نہیں کی۔ ایک خدشہ ہے آنے والے اسمبلی انتخابات کیلئے جس طرح سے پی ڈی پی اور بی جے پی نے تین تین نشستوں پر جیت درج کر کے لوک سبھا الیکشن میں برابربرابر رہی اور اب نظریں�آنے و الے اسمبلی انتخابات پر ہیں۔ ایک ہوا سی چل رہی ہے کہ آنے و الے اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی ریاست میں لیڈر کرے گی مگر ساتھ میں بی جے پی بھی بڑی پارٹی کے طور ابھر سکتی ہے اور اس کے بعد این سی اور پھر کانگریس بھی پیچھے دوڑے گا۔ یہ بھی ہوا چل رہی ہے کہ اس بار پی ڈی پی بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کر سکتی ہے۔ کئی حلقے اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ پی ڈی پی اصل میں بی جے پی کی ہی پیداوار ہے اور اس عندیہ پر شاید پی ڈی پی اور بی جے پی گٹھ جوڑ ممکن ہو سکتا ہے ،مگر یہ ہوا کس حد تک ممکن ہوگا آئندہ چند مہینوں کا انتظار کرنا ضروری ہے۔ ویسے اگر پی ڈی پی اور بی جے پی گٹھ جوڑ ممکن ہوا اسے پی ڈی پی کو اگر اس باراقتدار مل ہی جائے گا مگر پھر مستقبل کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور پھر شاید اس پارٹی کو آئندہ اقتدار کی توقع نہیں رکھنا ہے یا اس پارٹی کو پھر باضابطہ بی جے پی میں ہی ضم ہونا ہے، ویسے بظاہر تو بی جے پی ریاستی عوام کو خوفناک نظر آرہی ہے مگر حقیقت میں یہ پارٹی ریاستی پارٹیوں سے کچھ زیادہ خطرناک نہیں ہے۔ اب رہی بات ریاستی عوام کے لئے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام جائیں تو کہاں؟۔ عام لوگ کنفیویژن کے شکار ہیں، عوام کا یہی سوال ہے جائیں تو کہاں؟