خبریں

عوام کی بہتری کیلئے سیاست کاری ہمارا شعار/ عمر عبداللہ

موجودہ حکومت اور پی ڈی پی کی قیادت والی سرکار کا مقابلہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاست کی کلہم ترقی ، امن کے قیام اور سیاسی استحکام کے لئے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے لامثال اقدامات پر ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کی قیادت نے دھوکہ دہی اور جھوٹ سے اپنی سیاست چمکائی۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی کارکردگی واضح ہے۔عمر عبداللہ نے کہا’اپنے دورِ اقتدار میں پی ڈی پی سارے مسئلے بھول گئی جب کہ ہم سیاسی مسائل کے سیاسی حل کے لئے کوشاں رہتے ہوئے ریاست کو تیز تر ترقی کی جانب گامزن کرتے رہے ۔‘انہوں نے پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید کی مسئلہ کشمیر کے حل کرنے کے لئے 40 اسمبلی نشستوں کی مانگ کو عوام کی توجہ حاصل کرنے کی ایک چال قرار دی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ’پی ڈی پی کے سرپرست نے ملک کے وزیر داخلہ اور ریاست کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کبھی بھی مسئلہ کشمیر کے حل کی بات نہیں کی۔‘انہوں نے لوگوں کو مفتی محمد سعید کی گاندر بل میں کی گئی تقریر یاد دلائی جس میں انہوں نے بندوق بردار نوجوانوں کو بندوقیں پھینکنے کے لئے کہاکیونکہ اب ان کا نمائندہ ( مفتی محمد سعید)ان کی طرف سے بات چیت کرنے کے لئے آگیا تھا۔’پھر کیا ہوا‘عمر عبداللہ نے سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ مفتی محمد سعید کے دورِ اقتدار میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی حکومت کی طرف سے شروع کئے گئے ملی ٹنٹ کمانڈورں اور حکومت کے مابین بات چیت کے عمل کو مکمل طور سبوتاژ کرنے کے علاوہ سرحد پار گئے نوجوانوں کی باز آباد کاری منصوبے کے تحت واپسی کی راہ بھی مسدود کی گئی۔وزیر اعلیٰ کا ان خیالات کا اظہار آج شوپیاں ضلع میں وچی اسمبلی حلقہ انتخاب کے رِبن خواجہ پورہ علاقہ میں 190 میٹر طویل ترکواں گام پُل کاافتتاح کرنے کے بعد ایک بھاری عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پل کی تعمیر پر 12.63کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے۔ اس موقعہ پر وزیر اعلیٰ نے 50میٹر طویل اور 3.5 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے رِبن پُل کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’ ’ ہیلنگ ٹچ ‘ جیسے نعرے بلند کرنا کافی آسان ہے مگر اس ضمن میں عملاً کچھ کرنا کارِدارد ہے جس سے پی ڈی پی کی قیادت ناواقف ہے، جو صرف جذبات کو ہوا دینے اور لوگوں کا دھوکہ دہی اور جھوٹے وعدے کر کے استحصال کرنا جانتے ہیں۔‘‘عمر عبداللہ نے وچی حلقہ انتخاب کو اسمبلی اجلاس میں ان کی نمائندہ (محبوبہ مفتی) کی جانب سے نظر انداز کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ’جب پی ڈی پی کی قیادت نے اسمبلی کی کارروائی میں غیر حاضر رہنا اپنا شعار بنالیا ہے وہ عوام کے مسائل کی جانب توجہ دے کر انہیں کیسے حل کر سکتے ہیں‘انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ 2014ء کے اسمبلی انتخاب میں پی ڈی پی کے ارکانِ اسمبلی کی مستقل بے دخلی کو یقینی بنا کر انہیں معقول جواب دیں۔انہوں نے کہاکہ’ پی ڈی پی کے ارکانِ قانون سازیہ اسمبلی کے اجلاس سے غیر حاضر رہنا پسند کرتے ہیں، پس انہیں مستقل طور اسمبلی سے باہر رکھیں۔‘عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاست کی کلہم ترقی ان کی حکومت کا خاصہ ہے اور ہر علاقہ کی تیز تر ترقی کے لئے فراخ دلی سے رقومات دستیاب رکھے گئے ۔انہوں نے کہا کہ ’ ترقیاتی کاموں کو یقینی بنا کر عوام کی ضروریات پر توجہ مرکوز کرنا علاقہ کے نمائندے کا کام ہے۔‘انہوں نے ضلع شوپیاں کے لئے مختص رقومات کے اعداد و شما ر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے ترقی کو ایک غیر سیاسی معاملہ بنا کر بغیر کسی امتیاز کے رقوم فراہم کئے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوان ضلع شوپیاں میں ترقیاتی کاموں کے لئے 260کروڑ روپے فراہم کئے گئے اور رواں مالی سال کے لئے بھی اتنی ہی رقم مختص کی گئی ہے۔انہوں نے اس موقعہ پر خواجہ پورہ مڈل سکول کا درجہ بڑھانے، وچی کے لئے پی ایچ ای سب ڈویژن ، ویٹرنر ی مرکز، وچی اور رِبن کے لئے دو طبی سب سینٹرقائم کرنے ،ترکواں گام اور چتر گام کے ہیلتھ سب سینٹرز کوبطور ابتدائی طبی مراکزتوسیع دینے اور علاقے میں 10میگاواٹ کی صلاحیت کاٹرانسفارمر نصب کرنے کا اعلان کیا۔وزیر اعلیٰ نے مقامی لوگوں کو ان کا پرتپاک استقبال کرنے پر شکریہ کا اظہار کیااور کہا کہ عوام کا تعاون ہی ان کی قوت ہے۔انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ ریاست میں امن کی قیام کیلئے ان کی مدد کر یں تاکہ ریاست اور اس کے عوام کے مفاد کے لئے تمام مسائل پُر امن طور حل کئے جاسکے۔انہوں نے لوگوں سے ریاست میں مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارہ مستحکم کرنے کی بھی اپیل کی۔ترکواں گام ۔لسی پورہ سڑک پر رمبہ آرہ نالہ پر 5×38 میٹرسپین ٹرسڈ پُل کی تکمیل سے پلوامہ ، کولگام اور شوپیاں کے تین اضلاع کے مابین سڑک رابط کی توسیع ہوگی۔اس کے علاوہ پُل کی تعمیر سے لسی پورہ انڈسٹریل ایسٹیٹ کی توسیع ترکواں گام تک ہوگی اور لسی پورہ ،پلوامہ اور کولگام اضلاع کے میوہ اُگانے والے علاقوں کا رابطہ شوپیاں ضلع کے ساتھ قائم ہوگا۔ٹونگری نالہ پر تعمیر ہونے والے 2×25میٹرسپین پلیٹ گرڈرپُل سے کولگام اور شوپیاں اضلاع کے مابین رابطہ قائم ہوگا اور اس پر تخمیناً 3.25کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔وزیر برائے سماجی بہبود سکینہ ایتو ،قانون ساز اور نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر برائے کشمیر ناصر اسلم وانی ، ارکانِ قانون کونسل شوکت احمد اور عبدالمجید نے بھی اجتماع سے خطاب کیا۔