اداریہ

عوام یقین کریں تو کس پر؟

ریاست میں اسمبلی انتخابات کا اب اگر چہ پہلا مرحلہ مکمل بھی ہو چکا ہے اور دوسرے مرحلے کیلئے ریاست کے ساتھ ساتھ وادی کے تمام اضلاع میں چنائو ریلیوں کا اہتمام تیزی سے ہو رہا ہے اور امیدوار اپنے حق میںووٹروں کو لبھانے کیلئے ہر طرح کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ہر کوئی امیدوار اب اس کوشش میں کہ دوسرے حریفوں کو کسی نہ کسی طریقے سے ہرایا جائے چاہیے اس کے لئے ان کو کتنا ہی جھوٹ کیوں نہ کہنا پڑے۔آج کی اس سیاست کا دوسرا نام اگر جھوٹ رکھا جائے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ اس کے بغیر نہ آج کی سیاست چل سکتی ہے اور نہ سیاستدانوں کوجھوٹ کا سہارا لینے کے بغیر چین و قرار آتا ہے۔ کیونکہ انہیں نہ حقیقت اپنانے پر یقین ہے اور نہ عوام کے سامنے کئے گئے وعدوں کو اپنانے کی نیت ہوتی ہے۔ اس لئے عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے نت نئے حربے آزماتے ہیں۔ ریاست کی پرانی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کا اب اگر چہ غروب نظر آرہا ہے اس کی خاص وجہ بھی یہی دکھائی دے رہی ہے اس جماعت کے لیڈران اکثر وقت پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے نظر آئے تھے ۔ جب یہ جماعت اقتدار میں آتی  تو عوام کو بھول جاتی ہے جو عوام اس جماعت کو اقتدار دینے میں اہم رول ادا کرتاہے۔ اسی طرح سے ریاست میں دوسری جماعتوں خاص کر کانگریس، پی ڈی پی، بی جے پی اور دوسری یک نفری پارٹیوں کا بھی یہی حال ہے۔ اس وقت الیکشن کے موقعے پر عوام کو لبھانے کی کوششوں میں لگے ہوتے ہیں، مگر عوام بے بس اور بے سہارا ہے ۔ عوام یقین کریں تو کس پر؟۔ یہاں کی سبھی مین سٹریم کے ساتھ ساتھ دوسری چھوٹی بڑی جماعتوں کے اندر کا منشور خالص استحصال ہوتا ہے اور باہر جو وعدے عوام کے سامنے کرتے ہیں وہ سب کے سب کھوکھلے ہوتے ہیں۔ آج کل اگر چہ ایک دوسرے پارٹیوں پر الزامات کے بوچھاڑ ہوتے ہیں  لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ آج کا نیشنل کانفرنس کا روٹھا ساتھی کل پی ڈی پی میں وزیر ہوگا اور آج کا کانگریس کے باغی بھی کل پی ڈی پی میں کابینہ درجے کے وزیر ہوںگا۔ اوریہی حقیقت ہے کہ سبھی پارٹیوں کے لیڈران کا مقصد اقتدارہے۔