اِسلا میات

عیدلا ضحی اور قر با نی کی رو ح

عیدلا ضحی اور قر با نی کی رو ح

شیخ ہلال علو ی

اسلا م میں ہر عمل اور کا م کے پیچھے اعلیٰ و پا کیزہ مقصدوا ضح اور صاف طور سے نظر آ تا ہے
طہا رت کے مسا ئل سے لے کر سیاست جیسے پیچیدہ اور نا زک شعبے تک کے لئے یہا ں ہدا یا ت اور رہنما ئی کا انتظام ملتا ہیں۔
کیو نکہ اسلا م دینِ فطرت اور اِلٰہی ضابطہ حیا ت ہے ٗ اس لئے پر ور دگا ر ِعا لم نے جو فا طر و سمٰوات ِ ولا رض ہیں انسا نی فطرت کا پوری طرح سے لحا ظ رکھا ہے ۔انسانی فطرت کا جب ہم بنظر ِ غا ئر مطا لعہ کر تے ہے ٗ تو یہ حقیقت سا منے آ جا تی ہے کہ ہر وہ کا م جو فطرت ِ انسانی سے مطا بقت رکھتا ہے اُس کی بجا آ وری کے لئے اِﷲ تعٰا لی کی طرف سے حکم ہوا ہے کہ اُن امو ر کو اسی جذبے اور رو ح کے سا تھ انجا م دیا جا ئیں جیسے شریعت ِ اِلٰہیہ تقا ضا کر تی ہے۔اس لئے کہ مسلما ن کے لئے غیر فطری اعما ل و طریقے ٗ غیر اَخلا قی اطوا ر و عا دا ت ٗ سفلی جذبات اور بے مقصد زند گی اُس کے اَنجا م (اُخرو ی فلا ح )کے لئے ہلا کت و بر با دی ہے۔بحر حال تا ریخ ِ انسا نی کا کوئی بھی دور یا زمانہ قربا نی کے تصور سے خا لی نہیں رہا ہے۔یعنی قربا نی کا تصو ر ہر زما نے میںکسی نہ کسی شکل میں مو جو د رہا ہے ٗ قربا نی در اصل اَپنے عقیدے سے والہا نہ و ابستگی اور خو د سُپر دگی کا نا م ہے یعنی قر با نی ٗ انسا نی جو ش و جذبا ت کے عملی اِظہا ر اور حد درجہ محبت کا اِظہا ر ہے۔ جس سے بڑ ھکرغا لباً کو ئی اور صو رت انسا نی تاریخ میں نہیں ملتی ہے ۔ لیکن دینِ اِسلام کا جہاں تک تعلق ہے اِس کا ہر حکم اور ہر عمل ایک بلند اور نہا یت پا کیز ہ مقصد کے تحت ہے ٗ چو نکہ مسلم اُمت ایک منفرد پہچا ن رکھنے کے سا تھ ساتھ ایک مخصو ص تہذیب و تمدن کے علمبر دا ر ہے ٗ اس لئے قر با نی جیسا عظیم عمل بھی پا کیزہ اور منا سب طریقے اور اَﷲ کی عظمت و کبریا ئی اور اس کی شان کے کلما ت کوذہن نشین کرتے ہوئے انجا م دیا جا تا ہے۔ ٗلہٰذ ا قر با نی کا عمل یہاں ایک بلند اور عظیم مقصد کو تا زہ کرتا ہے۔چو نکہ ایک سچے اور مخلص مسلما ن کی پو ری زندگی اَﷲ ربُ العزت کی رضا جو ئی اور اس کی خو شنو دی حا صل کرنے میں گذرنی چا ہئے ۔ چنانچہ قرآ نِ مقدس میں اَﷲتبا رک تعٰا لی اپنے حبیب رسولِ رحمت ﷺ سے ارشا د فرما تا ہیں کہ:۔
’’قُلْ اِنَّ صُلا تیِ وَ نُسُکیِ وَ مُحْیا یَ وَ مُما تیِ لِلٰہِ رُبِ لعا لمیں‘‘
’’کہہ دیجئے کہ میری نما ز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری مو ت سب کچھ اَﷲربُ لعا مین کے لئے ہیں‘‘۔یعنی کو ئی بھی کام خدا وندِ کریم کی اطا عت و فرما نبر دا ری سے خا لی نہیں ہو نا چا ہئے اور جو کا م بھی اَﷲکی اطاعت و فرمانبر دا ری اور تقویٰ سے خا لی ہو ٗ دربارِ ایز دی میں اس عمل کی کو ئی وقعت اور حیثیت نہیں ہے ۔گو کہ مسلما ن خو شی و مسرت کا اظہا ر کر رہے ہو تو وہا ں بھی وہ حدو د ِ الٰہی کے پابند رہیٗ کیو نکہ یہ ان کے شا یا نِ شا ن نہیں ہے کہ وہ دنیا کی رنگینیو ں اور رعنا ئیو ں میں کھو جائے اور غیر اَخلا قی افعا ل کا مظا ہر ہ کریں۔ اسلا م ہمیں اظہا ر ِ خو شی و مسرت کے طریقے بھی سکھا تا ہیںمگر ان بیہو دہ حرکا ت اور طریقو ں پر قد غن لگا تا ہیں جو دنیا کے دیگر اقوا م اپنے تہواروں میں کر تے ہیں کیو نکہ اسلا م کی بنیادیں طہا رتِ نفس اور پا کیز گی عمل پر استوا ر ہیں
تو مذکو رہ آ یت ِ قرا ٓن ہما رے لئے (Guideline)ہے جو ہما ری زندگی کے لئے وا ضح خطو ط اور نقو ش فرا ہم کر تا ہیں۔تو معلو م ہوا کہ قربا نی کی اصل رو ح اپنی نفسا نی خوا ہشا ت اور اپنی پسند و نا پسند کو قربا ن کر دینے کا نا م ہیں۔چو نکہ ا برا ہیمی تہذیب کے ما ننے والے ہر سال عید ُ ا لا ضحی کے مو قعے پر جا نو رو ں کی جو قربا نی کر تے ہیںوہ اصل میں حضرت ِ اِبرا ہیم علیہ السّلا م کی اُس عظیم سُنت کی یا د میں کیا جا تا ہے ٗ جس کا آ پؑ کو خدا وند ِ کریم کی طرف سے ایک تمثیلی خو اب کے زریعہ حکم ملا تھا ٗ کہ حضرت ِ اسمٰعیل ؑ کو لے کر مکہ کے پا س پہنچ جائے اور اپنے بیٹے اِسمٰعیل ؑ کو اَ ﷲ کی را ہ میں قر بان کریں۔حضرت ِ اِبرا ہیم ؑ مکہ کے پا س پہنچ کر اِپنے اِکلو تے بیٹے کو خُدا کی راہ میں قر با ن گا ہ پر چڑھا چکے تھے اور اپنے لختِ جگر کے گلے پر چھری رکھ چکے تھے کہ با ر گا ہِ قدس سے نِدا آ ئی ٗ ’’ قُدْ صد قت الرو یاء ‘‘کہ اے اِبرا ہیم ؑ تو نے اپنا خو اب سچا کر دِکھا یا۔ خُدا وند ِ کریم کو اپنے محبو ب اِبرا ہیم ؑ کا یہ عمل بے حد پسند آ یا ٗمحبت و شفقت ِ پدری قربان ہو چکی تھی ٗاسمٰعیل ؑ کو اَﷲ نے محفو ظ رکھا ٗ ان کی جگہ ایک دنبہ لا کر لٹا دیا گیا جو اَﷲ کے نام پر ذبح ہو چکا تھا ۔اَﷲ کو ان کی یہ قر با نی ایسی پسند آئی کہ قیا مت تک کے لئے اس کو ر ضا ئے اِلٰہی کا زریعہ بنا دیا گیا َ۔ اور اس طر ح مسلما ن ہر سال اِ س عظیم دن پر اُبو الا نبیا ء حضر ت اِبرا ہیم علیہِ السّلا م کی یا د میں سُنتِ اِبرا ہیمی پر عمل پیرا ہو تے ہو ئے جانوروں کی قربا نی کر کے سنتِ ابرا ہیمی کی یا د کو تا زہ کر تے ہے ۔ابو ُ لا نبیا ء حضرت ابرا ہیم ؑ جس کی پو ری زند گی تو حید اور قربانی سے تعبیر تھی ٗ محبت و شفقتِ پدری ایک فطر ی چیز ہے جو ہر باپ کے دل میں ہو تی ہے مگر تعقل و تفکر سے کا م لیتے ہو ئے جو حقیقت آ شکا ر ہو تی ہے وہ یہ ہے کہ اصل میں آپؑ نے اُسی محبت و شفقت ِ پدری کو اَﷲکے حکم کے آگے قربا ن کیا اور اسطرح اپنے آقا خدا وندِ کریم کے حکم کی تعمیل اور اُسے راضی کر کے اپنے لختِ جگر حضرت ِ اسمٰعیل ؑ کے گلے پر چھر ی رکھ دی جو جذبہ بندگی و اِطا عت خدا وندی اورمحبت و وفا داری کی انتہا ہے ۔
یہ دور اپنے اِبرا ہیم ؑ کی تلا ش میں ہیں
صنم کدہ ہے جہا ں لاَ اِلاَ ہَ اِلَلَّہ
خیر یہ نبیو ں کے معا ملے ہیں ٗ جن میں نہایت جذبہ بندگی اور حد درجہ محبت و وفا دا ری ہو تی ہیں۔ہر سال ابرا ہیمی تہذیب کے ما ننے والے ما ہ ِ ذالحج میں عید ُ ا لا ضحی کے عظیم مو قعے پر سنتِ ابرا ہیمی پر عمل پیرا ہو تے ہو ئے جانوروں کی قربا نی کر تے ہیں ۔لیکن کیا وا قعی ہم سنتِ ابرا ہیمی میں پو شیدہ مقصو د مطلو ب کو سمجھ چکے ہے ؟کیا وا قعی ہم اپنی نفسا نی خوا ہشات ٗ اپنی پسند و نا پسند ٗ اپنے اغرا ض و مقا صد ٗ اپنے مفا دا ت ٗ برے رسوم و طریقے ٗفا سقا نہ و غلط روش ٗغیر اسلا می عا دا ت و اطوار ٗ گرو ہی عصبیت اور ذا تی انا کو قربا ن کر چکے ہیں؟ جانورو ں کو تو ہم قربا ن کر تے ہیں لیکن اس میں پو شیدہ مقصود و مطلو ب کو سمجھنے سے ہم قا صر نظر آرہے ہیں ۔ قربا نی کی صحیح تصویر یہی ہے کہ ہم ہر اس طریقے اور رویے سے گریز کریں جو الٰہی تعلیما ت کے مطا بق نہ ہو اسی پر اَﷲ کی نصرت کا وعدہ ہے ٗ یہ جا نو ر کی قربا نی سے لے کر اپنے نفس کی قربا نی تک محیط ہے ۔ ہم رسم تو ادا کر تے ہیں لیکن حقیقت ہما ری نگا ہو ں سے اوجھل ہوچکی ہے ۔ وا قعی حکیمُ لاسلام دا نا ئے را ز ڈاکٹر علا مہ اقبا ل ؒ نے صحیح کہا ہے کہ :۔
نما ز و روزو قربا نی و حج
یہ سب با قی ہیں تو با قی نہیں ہے
قربا نی کا فلسفہ اور حقیقت یہی ہے کہ ہم صحیح معنو ں میں شریعت ِ اِلٰہیہ کی پیروی کریں ۔ ہم اَﷲعزو جل اور اسکے حبیب رسولِ رحمتﷺ کی غلا می اختیا ر کریں۔ قربا نی کی روح یہی ہے کہ ہم ہر اُس غیر اسلا می طریقے کو ترک کریں جو اَﷲاور اس کے رسول ﷺ کی نارا ضگی کا سبب بنا ہوا ہے ٗا س کا مقصود یہی ہے کہ ہم ہر اس معبو د سے آ زا دی حا صل کریں جو انسانی ذہنو ں کے ترا شے ہو ئے ہیں۔
ہر کہ پیما ں با ہُو لمو جو د بست
گر دنش اَز بند ہر معبود رست
دیکھا جا ئے تو آ ج مسلما ن اسی روح سے محرو م نظر آ رہے ہیں ٗ وہ خیر ِ اُمت کے منصب سے گر چکے ہے ٗ وہ اپنا بنیا دی فریضہ فرامو ش کرچکے ہے ٗآج مسلما ن غیرو ں پر اپنا اثر ڈالنے کی صلا حیت کھو چکے ہے اور اس کے مقا بلے میں اثر قبول کر نے کی عا دت لے چکے ہے ٗ کتا بِ الٰہی سے ہما را تعلق بہت حد تک کمزور پڑ چکا ہے ٗیہ مقدس کتا ب جو ہمیں امامت کے عظیم منصب پر بٹھا نے کے لئے خدائے مقدس نے بھیجا تھا مگر اسے چھو ڑکر ہم مغلو بیت کی حالت میں آ چکے ہیں۔
یہ امت آج چھو ٹی چھو ٹی امتو ں میں بٹ چکی ہیں ٗاسلا م کے مفا دات سے ہمیں اپنے مفا دا ت عزیز ہیں ٗ یہ امت جس سے اَﷲ نے دنیا کی اما مت کے لئے منتخب کیا تھا یہی آ ج غلا می کی زندگی بسر کر رہی ہے ٗ اس کے مقا بلے میں جب ہم اپنے تا بنا ک ما ضی پر نظر ڈالتے ہے تو ہم حیرا ن رہ جا تے ہیں کہ کس طرح وہ ایک قلیل مدت میں پو ری دنیا پر چھا گئے ٗ اس کی وجہ صا ف ہے وہ یہ کہ خیرالقرون کے مسلما ن نہ صرف رو حِ شریعت کو سمجھ چکے تھے بلکہ اس پر سختی سے عمل پیرا تھے ٗلیکن ہم اصل مقصو د کو فرامو ش کر چکے ہے ٗ اسی لئے مسلم اُمت صدیوں سے حقیقی عید کے لئے ترس رہی ہے ۔
گنوا دی ہم نے میر ا ث جو اَسلا ف سے پااسی لئے مسلم اُمت آج حقیقی عید سے یکسر محرو م ہے ۔وہ حقیقی عید جو ہما رے اسلا ف کو حاصل تھی ٗ تب ہی مسلم اُمت اسے فیضیا ب ہو سکتی ہے جب ہم احکا میہ شریعہ کی روح کو مکمل طو ر سمجھیں اور کتا بِ الٰہی سے اپنے تعلق مضبو ط کریں۔
سبب کچھ اور ہے تو جسے خو د سمجھتا ہے
زوال بندہ مومن کا بے زری سے نہیں
اگر جہا ں میں مرا جو ہر آ شکا ر ہوا
قلند ری سے ہوا ہے تو نگر ی سے نہیں
لہٰذا ضرو رت اس با ت کی ہے کہ ہم آج اس عظیم دن پر قربا نی کی حقیقت اور اسکے اصل مقصد کو سمجھیںاور سمجھ کر اس مقصد کے خوا ہا ں اور اس کے لئے کو شا ں ہو جا ئیں ۔ تب ہی ہم حقیقی عید سے فیضیا ب ہونگے۔
سر شکِ چشمِ مسلم میں ہے نیسا ں کا اثر پیدا
خلیل ا ﷲ کے دریا میں ہو ں گے پھر گُہر پیدا