خبریں

عید الفطر کے موقعے پر چھوٹ کے نام پر لوٹ

عیدالفطر کے مو قعہ پر بازاروں میں مختلف اشیائے ضروریہ فروخت کرنے والے دکانداروں ، ہول سیل ڈیلروں نے چھوٹ کے نام پر لوٹ کا بازار گرم کر رکھ دیاہے حقوق صارفین کے تحفظ کا دم بھرنے والے محکمہ امور صارفین اور دیگر سرکاری ایجنسیاں گہری نیند میں ہیں۔سی این ایس کے مطابق عیدالفطرکے یو م عر فہ پر کلاتھ مرچنٹوں، ریڈی میڈ مبلوسات کے کاروبارے سے جڑے دکاندار نے کاروباری اصولوں کی مٹی پلید کرتے وئے لوگوں کو لوٹنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھ رہے ہیں اور وہ چھوٹ کے نام کافی مال کمارہے ہیں شہر سرینگر اور وادی کے دیگرقصبہ جات سے شکایت موصول ہورہی ہیں کہ مختلف قسم کی اشیائے خوردنی اور دیگر چیز مُنہ مانگے اور اونچے داموں فروخت کئے جا رہے ہیں۔اس دوران کسی بھی جگہ یا بازار میں کسی بھی سرکاری محکمہ کا کوئی چیکنگ سکارڈ نظر نہیں اآرہا ہے اور لوگوں کو ہر جگہ دو دو ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے بیکری فروشوں اور نانوائیوں نے اپنے سودا سلب میں من مانی قیمتیں مقرر کی ہیں کیونکہ شہر کے مختلف بیکری دکانوں پر بیکری اور مٹھائیوں کے الگ الگ دام مقرر کئے گئے ہیں۔ سی این ایس سٹی رپورٹر کے مطابق ریڈیو کشمیر سرینگر سے بٹہ مالو تک چھاپڑی فروش نے مختلف قسم کی چیزیں فروخت کرنے میں منہ مانگے دام وصول کر رہے ہیں۔ جبکہ دکانداروں کے لوٹ کھسوٹ اور من مانیوں کا یہ عالم رہا کہ کپڑے ، ریڈی میڈ ملبوسات اور جوتے وغیرہ کے کاروبار سے وابستہ دکانداروں نے بھی من مانی طور ان چیزوں کی قیمتیں بڑھادی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جگہ جگہ اشیائے خوردنی فروخت کرنے والے دکانداروں اور ہول سیل ڈیلروں میں انسانیت کا کوئی جذبہ نہیں ہے جبکہ بیکری فروشوں اور قصائیوں کی دکانوں پر لوگوں کو من مانی دام وصول کئے جا رہے ہیں۔ ادھر سمبل ، کپوارہ ، کنگن ، اننت ناگ ، بڈگام ، بارہمولہ ، سوپور ، پٹن ، پلوامہ ، گاندربل ، بانڈی پورہ ، صفا پوراور حاجن کے لوگوں نے سی این ایس نامہ نگار کو بتایا کہ اگر چہ ان علاقوں میں ناجائز منافع خوروں کے خلاف کاروائی ضلع وتحصیل انتظامیہ کو سونپی جاتی ہے تاہم نہ تو محکمہ امور صارفین قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں اور نہ ہی دیگر ایجنسیاں نظر نہیں آ رہی ہیں جس کے نتیجے میں ہر جگہ دکانداروں نے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کررکھا ہے ۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ عیدالفطرکے پیش نظر بازاروں میں لوٹ کھسوٹ من مانیوں اور دھوکہ دہی کرنا متعلقہ محکموں کی اولین ذمہ داری ہے تاکہ اشیائے خوردنوش کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھا جائے اور لوگوں کو مناسب قیمتوں پر اپنی من پسند چیزں دستیاب ہو۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر چہ محکمہ امور صارفین نے قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کیلئے اور گراں بازاری کا قلع قمع کرنے کیلئے شہر سرینگر میں کئی چیکنگ سکارڈ متحرک بھی کئے جاتے ہیں تاہم چند دکانوں سے جرمانہ وصول کرنے کے بعد اسکی ضرورت سے زیادہ اخبارات میں تشہیر کی جاتی ہے ۔ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ خلاف ورزی کے مرتکب دکانداروں سبزی فروشوں اور دودھ فروشوں ، قصباوں اور مرغ فروشوں کے ساتھ ساتھ نانوائیوں اور بیکری والوں کو سخت کاروائی کی زد میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ انسانی ہمدری اور کاروباری اصولوں کا ملیا میٹ نہ ہو۔