اداریہ

عید کے بعد کیا ہونے والا ہے؟

جموں ہائی کورٹ نے گائے اوردوسرے بڑےجانوروں کا گوشت فروخت کرنے پر پابندی کا فیصلہ پیدا ہونے والی امکانی صورتحال کا اندازہ کئے بغیر سنایا جس کی بہ ظاہر کوئی ضرورت نہ تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے خلاف لوگوں کے اندر سخت رد عمل دیکھا گیا ۔ ردعمل مسلم آبادی میں ہی نظر نہیں آیا بلکہ کئی ایسے علاقوں میں بھی دیکھا گیا جہاں مقامی پنڈت اور سکھ برادری نے بھی اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ سمجھنا بہت مشکل ہورہاہے کہ موجودہ مرحلے پر اس نوعیت کے فیصلے کی کیوں ضرورت پیش آئی ؟ کورٹ نے اس کی وضاحت نہیں کی ہے۔کشمیر میں گائو کشی اور مجموعی طور بڑا گوشت ذبح کرنے کی پابندی دہائیوں سے لگی ہوئی تھی۔ یہ پابندی مہاراجے کے زمانے سے چلی آرہی ہے۔ اُس دور میں اس قانون کو بڑی سختی سے لاگو کیا جارہاتھا ۔ کئی موقعوں پر اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں بھی دی گئیں ۔ بعد میں جب ڈوگرہ راج کا خاتمہ ہوا اور ریاست میں جمہوری حکومت قائم ہوئی تو یہ قانون اپنی جگہ برقرار ر ہا۔ اس قانون کو بدلنے کی کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی ۔ اس حوالے سے مسلم اور غیر مسلموں کے درمیان ایک خاموش سمجھوتہ طے پایا تھا ۔ دونوں فرقوں نے ایک دوسرے کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے بہتر لائحہ عمل اختیار کیا ۔ غیر مسلم آبادیوں میں بڑے گوشت کے استعمال سے لوگ پرہیز کرتے رہے ۔ ضرورت کے وقت بڑی خاموشی اور پردہ پوشی سے ایسے جانوروں کو ذبح کیا گیا ۔ بلکہ اس کا تجارت کرنے والے لوگ بند اور تاریک کمروں میں اس گوشت کو فروخت کرتے رہے ۔حالانکہ اس کے باوجود کورٹ نے بلاوجہ اس پر پابندی کاقانون کی نافذ کرنے اور پولیس کو اس کا بڑی سختی سے اطلاق کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو لوگ کل تک بڑا گوشت کھانا اپنی کسر شان کے خلاف سمجھتے تھے وہ بھی سڑکوں پر آکراحتجاج کرتے ہوئے نظر آئے ۔ کورٹ کی اس طرح کے معاملے پر از خود کاروائی کرنا مسلم پرسنل لاء میں مداخلت اور مذہبی جذبات بھڑکانے کے مترادف قرار دیا گیا۔ یہ عوامی دلچسپی یا عوامی بہبود کا ایسا معاملہ نہیں ہے جس پر کورٹ کا ازخود عمل کرنا لازمی بن جاتا ہے ۔ حکومت اب ایک طرف اس مسئلے میں الجھ گیا کہ ریاست میں بڑے گوشت کے خرید و فروخت پر عدالت کی پابندی کے مسئلے سے کس طرف نپٹا جا سکے۔ دوسری طرف ویشو ہند پریشد کی طرف سے سخت دھمکی آگئی کہ اگر ریاست کی اسمبلی میں سپیکر نے اس سے متعلق بل بحث کےلئے منظور کی تو وہ ریاست کی اقتصادی بحران پیدا کریں گے۔ یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ حکومت میں شریک پارٹیاں بی جے پی اور پی ڈی پی اس مسئلے کو لے کر کافی مشکلات میں ہیں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مسئلہ یعنی گائے اور اس سے جڑے دوسروں جانور ہی ان دونوں پارٹیوں کو اقتدار سے الگ کر سکتا ہے۔ کیونکہ اگر گائے کی ذبحہ اور اس کے گوشت کی خرید و فروخت کی اجازت دی گئی تو بی جے پی کے لئے یہ پروبلم سے کم نہیں ہے اور اگر اس پر پابندی بر قرار رکھی گئی تو یہاں پی ڈی پی کے لئے پروبلم بن گئی۔یہاں پر دو ہی فیصلے ہیں پابندی ہٹانے کا یا پابندی برقرار رکھنے اور اس پر سختی سے عمل کرنے کااس کے بیچ میں اور کوئی فیصلہ ہی نہیں ہو سکتا ہے۔ مگر یہاں پر ایک عام سی بات ہے کہ یہاں کی حکومت کی باگ ڈور ناگپور میں ہے۔ یہ کس حد تک صحیح اور کس حد تک غلط ہے اس کا اندازہ عوام خود بخو کر سکتا ہے۔ یہ یہاں اب عام بات سی بن گئی کہ یہاں کی حکومت کا ناگپور میں ریموٹ کنٹرول ہے ۔ اس سےمراد یہی ہے کہ حکومت پر ہندو بنیاد پرستوں کا قبضہ ہے اور آر ایس ایس کا ایجنڈا زبردستی نافذ کیا جارہاہے ۔ بڑے جانوروں کی ذبحہ اور خرید و فروخت پر پابندی سے اس قسم کی سوچ میں اضافہ ہوگیا ۔ یہ ایسا ایشو ہے جو ریاست میں امن وامان درہم برہم کرنے اور بڑے پیمانے پر خون بہانے کا باعث بن سکتا ہے۔ اب اگر چہ عید پر بڑے جانوروں کی خوب قربانی کی جانےوالی ہے تو اس کے ردعمل میں بی جے پی اور ویشو ہند پریشد کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ عید کے بعد دیکھا جائے گا۔