مضامین

غداری کا مقدمہ صحیح یا غلط

سہیل انجم
بھارت او رپاکستان کے درمیان جب بھی کوئی میچ ہوتا ہے تو ہندوستان میں ایک لکیر کھینچ جاتی ہے۔ جس کی ایک طرف ہندوستانی ٹیم کے حامی ہوتے ہیں تو دوسری طرف پاکستانی ٹیم کے۔جن کی پسندیدہ ٹیم جیتتی ہے وہ خوشی مناتے ہیں اور مخالفین کو چڑاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ معاملہ کافی گرم ہو جاتا ہے او رزبردست کشیدگی تک پیدا ہو جاتی ہے جس کے سبب نوبت تشدد اور فساد تک پہنچ جاتی ہے۔ لیکن رفتہ رفتہ حالات معمول پر آجاتے ہیں۔ کیونکہ بہر حال وہ کھیل ہوتا ہے جنگ نہیں۔ جنگوں کے بعد بھی تو دو ملکوں کے مابین معمول کے حالات پیدا ہو ہی جاتے ہیں۔ کھیل کو کھیل کے طور پر لینا چاہیے جنگ کے طور پر نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اگر کسی ملک کا کوئی شہری کسی دوسرے ملک کی ٹیم کا حامی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے ملک کا باغی یا غدار ہے۔ کوئی بھی شخص دوسرے ملک کی ٹیم کا حامی یا شیدائی ہونے کے باوجود محب وطن ہو سکتا ہے اور لوگ ہوتے بھی ہیں۔ کسی شخص کے خلاف کوئی کارروائی اس بنیاد پر نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنے ملک کے کھلاڑیوں کے بجائے دوسرے ملک کے کھلاڑیوں کا طرفدار ہے۔
لیکن ہندوستان او رپاکستان کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ جب بھی ان دونوں ملکوں میں کھیل ہوتا ہے تو نا سمجھ اور ناعاقبت اندیش عناصر اسے جنگ میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ وہ جوش و جذبات میں آکر حالات خراب کرنے کا سبب بنتے ہیں اور پاکستان حامی بہت سے شائقین پاکستان کی جیت پر ضرورت سے زیادہ خوشی مناتے یا جوش و جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن بہر حال اس کے پس پردہ ان کا مقصد ملک کی مخالفت کرنا نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ پاکستانی ٹیم کی حمایت کر کے اپنے ملک سے غداری کرتے ہیں۔ انھی لوگوں سے اگر یہ دریافت کیا جائے کہ دونوں ملکوں کے مابین حقیقی جنگ ہونے کی صورت میں وہ کس کی طرفداری کریں گے تو یقینی طور پر وہ ہندوستان کے حق میں آواز اٹھائیں گے۔ لیکن جس طرح پاکستانی ٹیم کے طرفدار بعض شائقین غلط طریقے سے ماحول خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح پاکستانی ٹیم کے مخالفین بھی اس معاملے کو دوسرا رنگ دینے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔
گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں جب ہندوستان او رپاکستان کے مابین کرکٹ میچ ہو رہا تھا تو اس وقت بھی یہی روایتی صورت حال دیکھنے کو ملی۔ میچ کے اختتام پر جب پاکستان کی جیت ہوئی تو میرٹھ کی ایک پرائیوٹ یونیورسٹی سوامی وویکانند سبھارتی یونیورسٹی میں کچھ کشمیری طلبہ نے اطلاعات کے مطابق پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا دیے۔ بس کیا تھا۔ جیسے ایک آگ لگ گئی۔ ان کی مخالفت میں دوسرے لوگ آگئے اور بتایا جاتا ہے کہ ان میں ٹکرائوبھی ہوا۔ اگر چہ اس خبر کی آزادانہ تحقیق نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ جب کچھ طلبہ نے کشمیری طلبہ کے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے کی مخالفت کی تو انھوں نے توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ میز کرسیاں توڑیں اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے۔ کشمیری طلبہ کا کہنا ہے کہ دوسرے طلبہ نے ان کے ہوسٹل پر حملہ کیا اور انھوں نے کھڑکیوں کے شیشے توڑے۔ اس کے بعد کیا کیاتھا۔ انتظامیہ حرکت میں آگیا اور اس نے 66کشمیری طلبہ کو یونیورسٹی سے معطل کر کے ان کو جبراً ہوسٹل سے نکال دیا۔ کشمیری طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ زبردست زیادتی کی گئی۔ کیونکہ بعض طلبہ اس موقع پر رو رو کر کہہ رہے تھے کہ ان کے پاس پیسے نہیں ہیں وہ کیسے جائیں گے۔ اب ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک میرٹھ واپس نہیں جائیں گے جب تک کہ ان کے تحفظ کا پورا بند و بست نہ کر دیا جائے۔
اسی درمیان میرٹھ کی پولیس نے معاملے کو اور الجھا دیا۔ رپورٹوں کے مطابق اس نے یونیورسٹی انتظامیہ کے ایما پر مذکورہ طلبہ پر بغاوت یا غداری کا مقدمہ قائم کر دیا۔ میرٹھ کے ایس ایس پی اونکار سنگھ کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے جو تحریری شکایت کی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ایک مخصوص فرقہ کے طلبہ نے ہند پاک میچ کے دوران پاکستان کی جیت پر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے جو ملک دشمن اور باغیانہ قدم ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس اس معاملے کی غیر جانبدارانہ انداز میں جانچ کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ بغاوت کا مقدمہ بی جے پی اور ہندو تنظیموں کے دبائو میں قائم کیا گیا۔ انھوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو وہ تحریک چلائیں گے۔ البتہ بعد میں اتر پردیش کی حکومت نے غداری کا مقدمہ واپس لے لیا۔
اس معاملے پر جموں و کشمیر کی اسمبلی میں ہنگامہ ہوا۔ وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے اپنے ایک بیان میں اس قدم کی مخالفت کی او رکہا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انھوں نے اس معاملے پر اتر پردیش کی حکومت سے بات کی ہے او رکہا کہ اس کارروائی سے طلبہ کی زندگی برباد ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے مذکورہ طلبہ کے بارے میں کہا کہ وہ گمراہ ہو گئے ہیں۔ انھوں نے ان طلبہ سے اپنا احتساب کرنے کی بھی درخواست کی کیونکہ بقول ان کے ان میں سے بعض طلبہ وزیر اعظم کی جانب سے ملنے والے وظیفہ کی مدد سے اپنی تعلیم پوری کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ کم از کم دو سو کشمیری طلبہ اس یونیورسٹی میں الگ الگ کورسز کر رہے ہیں۔
یہاں طلبہ کو بھی سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ جب غیر کشمیری افراد کے ذریعے پاکستانی ٹیم کے حق میں نعرے لگانے سے ماحول خراب ہو جاتا ہے تو کشمیری طلبہ کو تو سختی سے اس سے بچنا چاہیے تھا۔ ان کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ وہ میدان میں نہیں ہیں بلکہ یونیورسٹی میں ہیں جہاں وہ میچ دیکھنے نہیں بلکہ تعلیم حاصل کرنے گئے ہیں۔ ان کو ایسی کسی بھی حرکت سے بچنا چاہیے جن سے ان کے کیرئر پر اثر پڑے اور ان کی تعلیم کو نقصان پہنچے۔ ان کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے ایسے اقدامات سے ملک کے اندر خلفشار تو پیدا ہی ہوگا دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھائیں گے۔ پاکستان کی جانب سے فوری طور پر رد عمل سامنے آگیا۔ وہاں کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر کشمیری طلبہ پاکستان آکر اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہیں تو ہم اورہمارے تعلیمی ادارے کھلے دل کے ساتھ ان کا استقبال کریں گے۔ اب اس بیان کا کیا مفہوم نکلتا ہے آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
جہاں اس معاملے میں کشمیری طلبہ کا قصور ہے وہیں یونیورسٹی انتظامیہ بھی قصوروار ہے۔ اس کو اتنا سخت قدم نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ کیا اس سے قبل ایسے واقعات نہیں ہوئے ہیں لیکن کسی بھی تعلیمی ادارے نے ایسی کڑی کارروائی نہیں کی۔ پہلے تو ان طلبہ کو معطل کر دیا گیا اور بعد کو ان کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کر دیا گیا۔ گویا ان کے لیے یونیورسٹی کا دروازہ تو بند ہوا ہی تھا انھیں مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑتا۔
اس بارے میں ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں غداری کا جو قانون ہے وہ بہت سخت ہے بلکہ انھوں نے اسے وحشی قانون قرار دیا ہے۔ نیشنل لا یونیورسٹی دہلی میں ایسو سی ایٹ پروفیسر مرنال ستیش نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے حق میں یا کسی بھی ٹیم کے حق میں نعرہ لگانا بغاوت یا غداری کے زمرے میں نہیں آتا۔ ان کشمیری طلبہ نے نہ تو حکومت ہند کا تختہ پلٹنے کی کوشش کی او رنہ ہی ملک کے اتحاد و یکجہتی کے خلاف کوئی کام کیا ہے۔ کسی بھی یونیورسٹی یا کالج کے پاس ایسے ضابطے ہوتے ہیں جو ایسے معاملات سے نمٹ سکیں۔ لیکن یہ بھی ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کو عدالت میں چیلنج بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ سڈیشن کا قانون انگریزوں کا بنایا ہوا ہے جو مہاتما گاندھی جیسے لیڈرو ںکو جیل میں رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ گاندھی جی اس قانون کو کالعدم کرانے کے حق میں تھے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ قانون اب بھی ملک میں موجود ہے۔ یہ قانون ریاست کے ہاتھ میں ایک ہتھیار ہے اور اس کا غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ اگر کسی کے خلاف اس قانون کے تحت مقدمہ کر دیا جائے تو اسے جلد ضمانت نہیں ملتی۔ اس قانون کے تحت سزا بھی بہت سخت ہے۔ بہر حال اب یہ مقدمہ ختم ہو گیا ہے لیکن اس قدم نے ایک سوال ضرور چھوڑ دیا ہے کہ کیا کشمیری طلبہ کا پاکستانی ٹیم کے حق میں نعرہ بازی کرنا اتنا بڑا جرم تھا کہ ان کو معطل کر دیا جاتا اور ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بھی قائم کر دیا جاتا۔