اِسلا میات

غربت کا حل خود مسلمانوں کے پاس موجود

عبد المعید ازہری
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور ایک عظیم انقلاب کا نام ہے۔ یہ دنیا کا وہ نظام ہے جس نے تاریخ کو حیرت میں ڈال دیا۔نفرتوں کے ویرانوں میں محبتوں کی بہاریں اور ظلم و جبر کے مقابل صبر و استقامت کے ساتھ عدل انصاف کا قیام اسلام ہی کا خاصہ ہے۔یہ اسلام ہی کی خصوصیت ہے کہ جس ایک بدوقوم کو پوری دنیا کا رہنما بنا دیا۔آج مسلمان غربت کا شکار ہے ۔کسمپرسی اور پسماندگی کی زندگی جینے پر مجبور ہے ۔مسلمان خود بھی اس حالت زار کا ذمہ دار ہے کیونکہ اس کے پا س اس ذلت سے نجات پانے کا ذریعہ موجود ہے ۔اس غربت اور مفلسی کا حل خود مسلمانوں کے پاس موجود ہے البتہ وہ خود اس پر عمل کر کے اپنے حالات درست کرنے کی کوشش نہ کریں تو یہ اور بات ہے ۔ مذہب اسلام نے مسلمانوں کی حالت زار کو درست کر نے کے لئے زکوٰۃ ، صدقات وخیرات جیسے نظام دئے ہیں ۔ یہ نظام سوائے مذہب اسلام کے کہیں اور موجود نہیں۔ یہ ایسا نظام ہے جس پر اگر دیانتدری سے عمل کیا جا ئے تو مسلمان خود اپنی ہی نہیں بلکہ دوسروں کی ضرورتوں کو پورا کر نے کے لائق ہو سکتا ہے ۔
زکوٰۃ اسلام کے فرائض میں سے ایک اہم فریضہ ہے جس کی اپنی اہمیت اور فضیلت ہے ، زکوٰۃ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کی کتا ب میں حکم دیا ہے ۔ قرآن نے زکوٰۃ کی فرضیت کو بڑے واضح اور صریح انداز میں بیان کیا ہے ۔ واضح رہے زکوٰۃ سب پر فرض نہیں صرف مالک نصاب اور صاحب حیثیت پر فرض ہے ۔ یعنی اپنی ضروریات اور اخراجات سے زائد مال میں سے غریبوں اور حاجت مندوں کا حصہ معین کر کے اسے ادا کرنا۔ یہیں پر یہ بھی واضح رہے کہ زکوٰۃ غریبوں پر احسان نہیں بلکہ خود اپنے اوپر احسان ہے کیوں کہ اگر زکوٰۃ ادا نہ کی اور وہ مال خود کھا لیا تو اس کا نقصان دنیا وآخرت میں اسے خود اٹھا نا پڑے گا۔ کیونکہ زکوٰۃ صاحب مال کی دولت میں ضرورت مندوں کا حصہ اور حق ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے سارے بندوں کا رزق معین کر رکھا ہے اور سب کے رزق کے الگ الگ اسباب وذرائع وضع کئے ہیں۔ اور اس کے لئے مختلف مقامات بھی منتخب کئے ہیں۔ ایک ضرورت مند کا رزق کسی کی دولت میں زکوٰۃ کی صورت میں اللہ نے معین کر رکھا ہے تو اس ضرورت مند کو اس کے رزق سے محروم کرنا گناہ اور خود کی محرومی ہے ۔ کیونکہ یہ تو صاحب مال کی خوش نصیبی ہے کہ وہ کچھ لوگوں کے رزق کا ذریعہ بن رہا ہے اور یہ انتخاب خود رب کریم نے فرمایا ہے ۔
زکوٰۃ کا معنیٰ تزکیہ یعنی پاکی ہے کسی چیز کو پاک صاف کرنا اسی سے تزکیہ نفس کا جملہ استعمال کیا جا تا ہے یعنی نفس کو تمام تر آلودگیوں سے پاک صاف کرنا ۔ زکوٰۃ صرف انسان کے مال ہی کو نہیں بلکہ نفس کو بھی پاک صاف کر تا ہے ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی سے مال کسی آفت ناگہانی سے محفوظ ہو جا تا ہے ۔ کیونکہ اب وہ رزق حلال جائز اور حق مال ہو گیا اور مال کی حفاظت کا یقین صاحب مال کو ذہنی پریشانیوں سے بھی نجات دلا تا ہے ۔ جب تجارت و محنت سے حاصل شدہ مال میں سے غیروں کے رزق تقسیم کر دئے جا تے ہیں تو روح اور نفس کو مزید تازگی حاصل ہو تی ہے ۔ اور اس کی صفائی ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے کئی جگہ زکوٰۃ کی فرضیت اور اہمیت کو بار بار یاد دلایا اور اسے نماز جیسے اہم فریضے کے ساتھ جوڑ کر ذہنوں پر زور دیا کہ جیسے نماز کی فرضیت ہے ویسے ہی صاحب نصاب کے لئے زکوٰۃ کی اہمیت ہے ۔ قرآنی آیات کے ساتھ رسول گرامی ﷺ کے ارشادات میں بھی زکوٰۃ کی اہمیت اور اس کی فضیلت کا ذکر ملتا ہے ۔ بلکہ اس کی ادائیگی پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ ایک سے زائد موقعوں پر زکوٰۃ کے نظام کو سختی اور پابندی کے ساتھ نافذ کرنے کی روایتیں ملتی ہیں ۔ رسول گرامی وقارﷺ کی ذات اور ان کے ارشادات ان کے ذریعے نافذ احکامات کی اہمیت اور اس پر عمل کی پابندی صحابہ کرام سے زیادہ کون کر سکتا ہے ۔ صحابہ کرام کو پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات پر اتنا بھروسہ تھا کہ اگر اس وقت عام انسان کے لئے عجیب و غریب بات بھی نبی کی ذات سے منسوب ہو کر پہنچتی تو بغیر کسی حیل وحجت کے وہ تسلیم کر لیا کر تے تھے جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں مشہور ہے کہ جب ان سے کہا گیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص رات کے کسی پہر میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ وہاں سے ساتوں آسمان کا سفر طے کر کے رب سے ملاقات اور بات کرے پھر اس کے بعد ساتوں آسمانوں پر یکے بعد دیگرے اتر کر بارہا رب سے ملاقات کر کے اسی پہر واپس بھی آ جا ئے حضرت ابو بکر صدیق نے دریافت کیا کہ یہ بات کون کہہ رہا ہے جب انہیں بتا یا گیا کہ یہ عجیب بات تمہارے نبی حضرت محمد ﷺ کہہ رہے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ اگر وہ کہہ رہے ہیں تو سچ کہہ رہے ہیں ۔ وہیں سے ان کا لقب صدیق اکبر ہو گیا۔ اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ صحابہ کو اپنے نبی کے ذریعے نافذ کئے گئے ہر احکامات پر کتنا اعتماد تھا ۔ انہیں کے دور خلافت میں کچھ لوگوں نے زکوٰۃ سے انکار کر دیا اور اس کی ادائیگی بند کر دی تھی تو حضرت ابو بکر صدیق نے فرمایا خدا کی قسم اگر کوئی شخص نبی کے زمانے میں ایک اونٹ کے نکیل کی رسی بھی زکوٰۃ کے طور پر ادا کر رہا تھا تو اس سے وصول کی جا ئے گی ۔ یہاں تک کہ اس زکوٰۃ کے نفاذ کے لئے با قاعدہ جنگ ہو ئی کیونکہ انہیں اس زکوٰۃ کی اہمیت کا اندا زہ تھا اور اس سے بھی زیادہ انہیں یقین اس بات کا تھا کہ اگر نبی نے کسی نظام کو قائم کیا ہے تو یقیناوہ ضروری اور ہمارے لئے نفع بخش ہو گا۔اور زکوٰۃ کا نظام تو کوئی معمولی نعمت نہیں بلکہ اس میں تو مسلمانوں کی تنگ دستی کا ایسا حل موجود ہے جو دنیا کے کسی بھی سیاسی ، مذہبی ، معاشرتی نظام میں موجود نہیں ہے ۔
اگر ہم ہندوستا ن میں موجود مسلمانوں کی بات کریں تو ایک اندازے کے مطابق یہاں تقریباً 20؍کروڑ مسلمان ہیں اور ان میں سے دس فیصد کم و بیش صاحب حیثیت اور مالک نصاب ہیں اگر وہ اپنی زکوٰۃ کی صحیح ادائیگی کریں اور اسے صحیح جگہ اور مستحق لوگوں تک پہنچائیں تو کم سے کم دس فیصد یا اس سے زائد لوگوں کی کفالت ہوگی پھر دوسرے تیسرے سال صاحب نصا ب میں اضافہ ہوگا اور ضرورت مندوں کی کفالت میں بھی البتہ ضرورت مندوں کی تعداد میں کمی واقع ہو گی اور دیکھتے ہی دیکھتے صدی کی دوسری دہائی مسلمانوں کی بالا دستی فرحت و شادمانی کا مزدہ لے کر آ ئے گی سب کچھ ہمارے پاس ہو سکتا ہے اسکول ، کالج ، یونیورسٹی ، اسپتال اور دیگر ہر وہ ذرائع جو ہمیں کامیاب سے کامیاب تر کر سکتے ہیں ۔ پھر تاریخ کے افق پر ایسا سورج طلوع ہو نے میں دیر نہیں ہو گی جس کی روشنی میں ساری قومیں اس قوم مسلم کے نقش قدم پر چلیں گی جیسا کہ اب تک دوسری قوموں نے ہماری تاریخ سے تجربہ حاصل کیا اور آج ترقی یافتہ قوم بن کر ہمیں پر حکمرانی کر تی ہوئی نظر آ ر ہی ہیں ۔
یہ نظام سننے میں جتنا آسان اور فائدے مند لگتا ہے اس پر عمل اتنا ہی مشکل ہے لیکن یہ مشکلیں انہیں کے لئے ہیں جو اسلامی رواداری اور انسانی ہمدردی سے دور ہو گئے ہیں۔ مساوات اور اخوت پر سے ایمان اٹھ چکا ہے ۔ مزاج پرسی کی روایتوں کو فراموش کر دیا ہے ۔ اس نظام کے نفاذ کے لئے بس خالص اور پختہ ایمان کی ضرورت ہے اور اخلاق و کردار کی بلندی کی ضرورت ہے جو ہمیں ہماری تاریخ سے ملتا ہے ۔