اداریہ

غریب طلباء جائیں تو جائیں کہاں؟

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہماری ریاست ملک کی دوسری ریاستوں کی طرح ہر کسی میدان میں آگے بڑھ رہی ہے چاہئے وہ کھیل کا میدان ہو ، تعلیم کا شعبہ ہو یا انفارمیشن ٹیکنالوجی ہو غرض ہر کسی محاذ پر ہم کچھ کر دکھانے کی دوڑ میں لگے ہیں جو واقعی ایک حوصلہ افزا علامت ہے۔ مگر اگر اہم ترقی کی اس دوڑ میں صرف اور صرف اپنی انا اور خود غرضی کو ہی ترقی کی کنجی قرار دیں تو وہ نہ صرف ہماری معاشی اوراخلاقی بدحالی بلکہ انسانیت سوز علامت بھی ثابت ہوگی۔ تعلیم کا شعبہ ہی لیجئے ! ہماری ریاست میں سرکاری سکولوں کی خاصی تعداد ہونے کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی ادارے بھی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ چند برسوں سے جس رفتار سے ہماری ریاست میں نجی سکولوں کا جھال وسیع تر ہوتا گیا ا سے یہاں کے معصوم اور لاچار والدین طرح طرح کی پریشانیوںمیں مبتلانظر آرہے ہیں۔ کہیں پر بچوں کو یونیفارم اور اضافی کتابوں کے عوض بھاری رقومات کا تقاضا کیا جاتا ہے اور کہیں ٹرانسپورٹ چارچز کے حوالے سے موٹی موٹی رقمیں وصول کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیوشن فیس جو بے لگام گھوڑے کی طرح کوئی بھی سمت اختیار کرسکتا ہے اور والدین بے یارو مددگار یہ سب کچھ سہنے پر مجبورہوتے ہیں۔ ہاں اگر کہیں پروالدین نے اضافی فیس کیخلاف آواز اٹھائی بھی تو اسے اپنے بچے کو سکول سے نکالنے کی دھمکی دی جاتی اور نتیجتاً وہ اپنے بچے کے کیرئیر کو ملحوظ رکھتے ہوئے چپ سادھ لینے میں ہی اپنی عاقبت سمجھتے ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ سرکار نے کبھی کبھی ایسے احکامات صادر بھی کئے جس سے ان لاچار والدین کے ہونٹو ں پر مسکراٹ کے دو پل میسر توہوتے ہیں لیکن یہ ہدایات اور اعلانات ہمیشہ ’حکم نواب تادر نواب ‘ کے مصداق ہی ثابت ہوتے ہیں۔ غریب والدین جن کے پاس اتنے ذرائع بھی نہیں کہ وہ اپنے بچوں کی پڑھائی پر فیس کے مد میں موٹی موٹی رقم دینے کے اہل ہوں، جائیں تو جائیں کہاں؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکار اپنی طرف سے جاری کئے گئے احکامات اور ہدایت کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ عوام میں انتظامیہ کے تئیں معاملے کی نسبت سے اعتماد بحال ہوسکے۔