خبریں

غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری

غزہ پرجاری اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 100 ہوگئی ہے۔ سو سے زائد مسلمانوں کی شہادت کے خلاف وادی میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا،جس کے دوران مظاہرین نے صیہونی پرچم نذر آتش کئے اور اسرائیل مخالف نعرے لگائے۔مائسمہ اور پائین شہر میں پولیس اور احتجاجی نوجوانوں کے مابین پرتشدد جھڑپیں ہوئیں جس دوران کئی افراد کو چوٹیں آئیں۔اس دوران پولیس نے لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک کو گھر سے گرفتار کیا جبکہ لالچوک میں احتجاجی دھرنے کو ناکام بناتے ہوئے پولیس نے فرنٹ کارکنوں کو گرفتار کیا۔ جمعہ کی صبح پریس کالونی میں میڈیا سے وابستہ افراد نے غزہ میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔اپنے ہاتھوں میں اسرائیل مخالف پلے کارڈس لئے میڈ یا سے وابستہ افراد نے غزہ میں مسلمانوں کے قتل عام پر اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کیا اورفلسطینیوں کا قتل عام فوراً بند کرانے کامطالبہ کیا۔لبریشن فرنٹ نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ بطور یکجہتی نماز جمعہ کے بعد لال چوک میں احتجاج کا پروگرام بنایا تھا تاہم پولیس نے فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک کو گھر سے گرفتار کیا۔گرفتاری کے باوجود فرنٹ کے اہتمام سے’’ کشمیر چھوڑ دو تحریک‘‘ کے تحت نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مائسمہ میں فرنٹ ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا۔جلوس میں شامل فرنٹ اراکین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس اور بینر اٹھا رکھے تھے اور وہ اسرائیل کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔جلوس میں شامل مظاہرین نے جب لالچوک کی جانب پیش قدمی کی تو بڈشاہ چوک کے نزدیک پولیس نے درجن بھر کارکنوں کو گرفتار کیا۔پولیس کے اچانک لاٹھی چارج میں کئی لوگ زخمی ہوگئے ہیں۔اسی دوران نوجوانوں کی ٹولیاں نعرے بازی کرتے ہوئے نمودار ہوئیں اور پولیس نے انہیں بھگانے کیلئے لاٹھی چارج کیا۔مشتعل نوجوانوں نے پولیس پر سنگ باری کی اور اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف نعرے لگائے۔جس دوران گاو کدل ،مائسمہ بنڈ اور مائسمہ بازار کے علاوہ ریڈ کراس پر پولیس نے خشت باری کررہے نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور شلنگ کی جس میں ایک پولیس اہلکار سمیت 6افراد کو چوٹیں آئیں جن میں سے ایک کی شناخت باسط احمد کے بطور ہو ئی ہے۔مقامی تاجروں کے مطابق فورسز نے پولیس نے ایک ریڈہ فروش کی کتابیں اور دیگر اشیاء پھینکے ،جس پر ٹریڈرس نے سنیچر کو یہاں ہڑتال کی کال دی ہے اور لال چوک میں اسرئیلی جارہیت کے خلاف احتجاج کیاگیا۔جس دوران انہوں نے اسرائیلی پوسٹر نذر آتش کیا۔ اس موقعہ پر احتجاج میں شامل لوگوں نے اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔ نوہٹہ میں اس وقت پرتشدد مظاہرے ہوئے جب لوگوں نے نماز جمعہ کے بعد ایک احتجاجی جلوس نکالا اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے امریکہ مردہ باد ،اسرائیل مردہ باد،مسلم دنیا جاگ جاو،بربریت قبول نہیں کے نعرے لگاتے ہوئے اسرائیلی پرچم نذر آتش کئے۔اس دوران نوجوانوں نے جلوس نکالااورپولیس و سی آر پی ایف اہلکاروں نے جلوس کو روکنے کی کوشش کی۔ پولیس نے لاٹھی چارج کرکے جلوس کو منتشر کرنے کی کوشش کی تاہم دوسری طرف سے زبردست سنگ باری شروع ہوئی۔جس کے جواب میں پولیس نے بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا اور اشک آور گیس کے درجنوں گولے داغے۔گوجوارہ میں پولیس نے اس وقت ہوائی فائرنگ کی جب خشت باری کررہے نوجوانوں نے پولیس جپسی پر شدید پتھراو کیا۔ راجوری کدل میں بھی اسرائیلی جارحیت کے خلاف نکالے گئے جلوس میں شامل نوجوانوں اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔کشمیر یونیورسٹی میں طلاب نے احتجاجی جلوس نکالے اور اسرائیل کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔احتجاجی طلاب نے اپنے ہاتھوں میں اسرائیل مخالف پلے کارڈس اٹھا رکھے تھے ان پر’’فلسطین میں نسل کسی بند کرو،فلسطین میں خون کی ہولی اور دنیا سو گئی