مضامین

غزہ میں کیا ہوا؟ کیوں ہوا؟

غزہ میں کیا ہوا؟ کیوں ہوا؟

شاہنواز فاروقی
اصول ہے: موت وہیں جاتی ہے جہاں زندگی ہوتی ہے۔ جنگ وہیں ہوتی ہے جہاں مزاحمت ہوتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں عرب دنیا آزاد ہے اور غزہ مقبوضہ علاقہ ہے۔ مگر غزہ میں اسرائیل کی 28 روزہ جارحیت سے معلوم ہوا کہ عرب دنیا کے تمام ممالک غلام ہیں البتہ غزہ آزاد ہے۔ بلاشبہ غزہ کی آزادی سیاسی اور معاشی نہیں ہے، مگر حماس روحانی، ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی طور پر آزاد ہے اور اس کے زیراثر غزہ کے لوگ بھی۔ حضرت بلالؓ غلام تھے۔ وہ نہ اپنے آقا کی غلامی سے نجات حاصل کرسکتے تھے نہ اس کے تشدد سے۔ لیکن وہ اذیت سہتے ہوئے احد احد کہہ سکتے تھے اور اعلان کرسکتے تھے کہ تم چاہے مجھے جان سے مار دو مگر میں اپنے دین سے نہیں پھروں گا۔ یہی ان کا ایمان تھا، یہی ان کی آزادی تھی۔ حماس اور غزہ کے لوگوں کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اسرائیل 28 دن تک غزہ میں رقصِ ابلیس کرتا رہا۔ اس نے 28 دن میں 2867 انسانوں کو شہید کردیا۔ ان میں 450 بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل نے 28 دن میں ساڑھے نو ہزار افراد کو زخمی کردیا، جن میں 2800 بچے اور 1800 خواتین شامل ہیں۔ یونیسف کے نمائندے کے مطابق غزہ کے تقریباً چار لاکھ بچوں کو فوری طور پر نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے۔ غزہ میں اسرائیل کی بمباری سے ہونے والے مالی نقصان کا ابتدائی تخمینہ 4 سے 6 ارب ڈالر کے درمیان ہے اور ماہرین کا اصرار ہے کہ یہ تخمینہ بڑھ بھی سکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود حماس اور غزہ کے لوگوں نے اسرائیل کے آگے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے 28 دنوں میں ایک لمحے کے لیے بھی اسرائیل کی مزاحمت ترک نہ کی۔ لوگ کہتے ہیں کہ حماس کے راکٹوں سے اسرائیل کو کوئی نقصان نہیں ہوا… اور وہ غلط نہیں کہتے۔ مگر اخلاقی اور نفسیاتی طور پر حماس کا ہر راکٹ اس کی مزاحمت کی علامت ہے۔ اسی مزاحمت کے ذریعے حماس نے 28 دن میں اسرائیل کے 83 فوجیوں کو ہلاک اور سیکڑوں کو زخمی کیا۔غزہ کے جانی نقصان کو دیکھا جائے تو اسرائیل کا جانی نقصان کچھ بھی نہیں، لیکن اسرائیل اور حماس کی طاقت کی نسبت کو دیکھا جائے تو اسرائیل کا نقصان بہت بڑا ہے۔اس لیے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے
اور حماس فوجی طاقت تو کیا فوجی طاقت کا سایہ بھی نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں جارحیت کا ارتکاب کیوں کیا ہے؟
اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور جنگ و جارحیت اس کے خمیر میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کبھی مشرق وسطیٰ میں حقیقی امن کا خواہش مند نہیں رہا۔ یاسرعرفات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا اوسلو امن سمجھوتہ مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کی سب سے بڑی کوشش تھی۔ یہ سمجھوتہ فلسطینیوں کے خلاف اور اسرائیل کے حق میں تھا اور اسے تمام بڑی عالمی طاقتوں اور تمام عرب ملکوں کی پشت پناہی حاصل تھی، مگر اسرائیل نے اوسلو امن سمجھوتے کو بھی ایک انچ آگے نہ بڑھنے دیا اور دو سال میں یہ سمجھوتہ آپ اپنی موت مرگیا۔ اس سمجھوتے کے بعد اسرائیل نے کبھی فلسطینی ریاست کے قیام پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور اس کی کوشش یہ رہی کہ ناجائز بستیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کیا جائے اور فلسطینیوں کو باہم دست وگریباں رکھا جائے۔ لیکن حال ہی میں حماس اور الفتح نے مخلوط حکومت قائم کردی تھی اور اعلان کیا تھاکہ آئندہ چھ ماہ میں غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں انتخابات کرا دیے جائیں گے۔ اسرائیل کے لیے حماس اور الفتح کا معانقہ کسی طور قابلِ قبول نہیں ہوسکتا تھا، چنانچہ الفتح اور حماس کے سمجھوتے کے بعد اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ فلسطین کے صدر محمود عباس اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بجائے ’’دہشت گردوں‘‘ یعنی حماس سے مل گئے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بنجامن نیتن یاہو نے گزشتہ ڈھائی تین سال میں ایک بار بھی محمود عباس کے ساتھ امن مذاکرات نہیں کیے، یہاں تک کہ انہوں نے امریکہ کے وزیرخارجہ جان کیری کے دورے کو بھی کامیاب نہ ہونے دیا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو غزہ میں اسرائیل کی جارحیت کا ایک سبب الفتح اور حماس کی مخلوط حکومت کے تجربے کو ناکام اور بے معنی بنانا تھا۔ اسرائیل کی جارحیت اور درندگی کا دوسرا سبب یہ تھا کہ وہ غزہ میں بے پناہ جانی اور مالی نقصان کے ذریعے مقامی لوگوں میں حماس کے خلاف ردعمل پیدا کرنا چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا کے ذرائع ابلاغ 28 دنوں کی اسرائیلی جارحیت کے دوران غزہ میں موجود اپنے نمائندوں سے بار بار یہ پوچھتے نظر آ ئے کہ لوگ حماس کے بارے میں کیا رائے ظاہر کررہے ہیں؟ کیا غزہ میں حماس کے خلاف ردعمل کی کوئی صورت سامنے آئی ہے؟ اسرائیلی جارحیت کی تیسری وجہ یہ تھی کہ حماس نے کئی برسوں کی محنت سے ایک ’’زیرزمین غزہ‘‘ تخلیق کیا تھا۔ اس زیرزمین غزہ کے ذریعے حماس کے مجاہدین اسرائیلی علاقوں تک رسائی حاصل کرسکتے تھے، اسرائیل کی فوجی کارروائی کے دوران زیر زمین سرنگوں میں پناہ حاصل کرسکتے تھے، ان میں اپنا اسلحہ رکھ سکتے تھے۔ اسرائیل کے پاس اس سلسلے میں اطلاعات موجود تھیں اور وہ چاہتا تھا کہ اس سے پہلے کہ زیرزمین غزہ اسرائیل کے لیے کسی بڑے نقصان کا سبب بنے اسے تباہ کردیا جائے۔ اسرائیل کی جارحیت کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ حماس کی علاقائی تنہائی کو نمایاں کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اسرائیل ان میں سے کوئی مقصد بھی حاصل نہ کرسکا۔ حماس اور الفتح کی مخلوط حکومت کا تجربہ نہ صرف یہ کہ اپنی جگہ موجود ہے بلکہ اس کی ضرورت اور اہمیت اب پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس سلسلے میں عوامی دبائو پہلے بھی موجود تھا مگر اب اس عوامی دبائو میں مزید اضافہ ہوجائے گا اور اس دبائو کو کوئی بھی فریق نظرانداز نہیں کرسکے گا۔ اسرائیل حماس کے خلاف عوامی ردعمل پیدا کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکا ہے بلکہ غزہ کے بعد مغربی کنارے میں بھی حماس کی مقبولیت بڑھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ علاقے میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت کرنے والی واحد قوت بن کر سامنے آئی ہے۔ اگرچہ اسرائیل کی فوج نے 28 روز کی جارحیت کے بعد اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ کی سرنگوں کو ناکارہ بنادیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل 28 دنوں میں بہت کم مقامات پر زمینی فوج کے ساتھ پیش قدمی کرسکا، چنانچہ سرنگوں کی تباہی کے سلسلے میں اْس کا دعویٰ محض دعویٰ ہی ہے۔ بلاشبہ 28 روز کی اسرائیلی جارحیت کے دوران کسی عرب ملک نے حماس کی حمایت نہیں کی، لیکن اس کے نتیجے میں حماس کے بجائے اب عرب ریاستوں کے حکمران اپنے عوام میں تنہا ہوئے ہیں۔ اس کا اندازہ انٹرنیٹ پر موجود اس مواد سے کیا جا سکتا ہے جس میں بڑے پیمانے پر عرب حکمرانوں بالخصوص آ لِ سعود کو برا بھلا کہا گیا ہے۔ اسی مواد نے اسرائیلی جارحیت کے 20 روز بعد سہی، سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کو کچھ کہنے پر مجبور کیا۔ لیکن اسرائیل کی جارحیت کے مذکورہ اسباب عارضی ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کی پشت پر کچھ تاریخی عوامل بھی موجود ہیں۔ ان میں سے کئی عوامل کی نشاندہی اسرائیل کے معروف صحافی گیڈون لیوی نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کی ہے۔
گیڈون لیوی نے کہا ہے کہ یہودیوں کی نفسیات میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ وہ خدا کی پسندیدہ اور منتخب قوم ہیں، چنانچہ انہیں دنیا میں کچھ بھی کرنے کا حق حاصل ہے۔ تجزیہ کیا جائے تو اسی نفسیات کے تحت یہودیوں نے فلسطین پر قبضہ کیا، اسی نفسیات کے تحت انہوں نے اسرائیل کی بنیاد رکھی، اسی نفسیات کے تحت وہ 67 سال سے فلسطینیوں کا قتلِ کررہے ہیں۔ حالانکہ قرآن یہودیوں کے اس دعوے کی تردید کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہودی وہ لوگ ہیں جنہوں نے انبیاء کو قتل کیا ہے اور معمولی دنیاوی فائدے کے لیے آسمانی کتابوں میں تحریف کی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ یہودیوں کا عقیدہ نہیں ہے۔ ان کا عقیدہ وہی ہے جس کی نشاندہی اسرائیل کے صحافی نے کی ہے۔ مگر سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا اللہ کی پسندیدہ قوم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو ہر طرح کے ظلم کا حق حاصل ہوگیا؟ یہ بات اللہ تعالیٰ کی سنت اور انبیاء و مرسلین کے طویل تجربے کے خلاف ہے۔ اللہ نے کبھی کسی قوم کو دوسری قوم پر ظلم کا حق اور اختیار نہیں دیا۔ یہودیوں کی اجتماعی نفسیات کا ایک مسئلہ ہولوکاسٹ کا تجربہ ہے۔ اصولی اعتبار سے اس تجربے کے بعد یہودیوں کے دلوں کو نرم ہوجانا چاہیے تھا۔ مگر اس تجربے نے یہودیوں کے دلوں کو سخت کرکے پتھر سے بدتر بنادیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ ہولوکاسٹ کا سارا بدلہ عربوں سے لے رہے ہیں، حالانکہ عرب ہولوکاسٹ کے ذمہ دار نہیں تھے۔ لیکن عربوں کا مسئلہ جرم ضعیفی ضرور ہے اور یہ بات اسرائیل کو معلوم ہے کہ عرب کمزور ہیں، یہی وجہ ہے کہ اسے حماس پر زیادہ غصہ آتا ہے، وہ حیران ہوتا ہے کہ زنخوں میں یہ مرد کہاں سے نمودار ہوگئے؟ اسرائیلی صحافی گیڈون لیوی نے اسرائیل کی نفسیات کے سلسلے میں ایک اور بات یہ کہی ہے کہ اسرائیل کو عربوں کی زمین پر قبضے کا نشہ لاحق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1948ئ￿ میں اسرائیل فلسطین کے مختصر علاقے میں محصور تھا، لیکن اس نے مسلسل اپنی سرحدوں میں اضافہ کیا ہے، اور اسے اس سلسلے میں ہمیشہ کامیابی حاصل ہوئی ہے، چنانچہ اسے قبضے کے نشے کی عادت ہوگئی ہے۔ اسرائیل کچھ دنوں کے بعد عربوں کی مزید زمین پر قبضہ نہ کرے تو اس کا نشہ ٹوٹنے لگتا ہے اور وہ اس کی تاب نہیں لا پاتا۔ گیڈون لیوی نے اسرائیل کی اجتماعی نفسیات کے بارے میں ایک اور بات یہ کہی ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کو انسان ہی نہیں سمجھتا۔ مطلب یہ کہ اسرائیل جب فلسطینیوں کا قتل عام کرتا ہے تو اس کے انفرادی یا اجتماعی شعور میں یہ بات نہیں ہوتی کہ وہ انسانوں کو مار رہا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انسان شکار کے جانوروں کو بھی ڈھنگ سے مارتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل کی اجتماعی نفسیات خود حیوانیت سے بدتر نفسیات ہے۔ اس لیے کہ حیوان بھی اپنی نوع کو اس طرح نہیں مارتے جس طرح اسرائیل نے فلسطینیوں کو مارا ہے۔
بلاشبہ اسرائیل 28 دن تک غزہ کو خون میں نہلانے میں کامیاب رہا اور اس نے اس سلسلے میں بچوں، خواتین، بوڑھوں، یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے اسکولوں کو بھی نہیں بخشا۔ لیکن اسرائیل کی اس ننگی جارحیت نے امریکہ اور یورپ ہی کے نہیں مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں کے چہرے بھی پوری طرح عیاں کردیے ہیں اور یہ حقیقت آشکار ہوئی ہے کہ اسرائیل کے حامی صرف امریکہ اور یورپ نہیں بلکہ عرب حکمران بھی حماس کے ساتھ جنگ میں پوری طرح اسرائیل کے ساتھ ہیں۔ 28 روز کی اسرائیلی جارحیت سے یہ حقیقت بھی آشکار ہوگئی کہ حماس اور فلسطینی چونکہ حق پر ہیں اس لیے ان میں قربانی دینے، قربانیوں کو جذب کرنے اور مزاحمت کو زندہ اور جاری رکھنے کی غیر معمولی قوت پیدا ہوگئی ہے۔ یہ قوت حماس اور اہلِ فلسطین کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ یہی قوت حماس اور اہلِ فلسطین کا سب سے بڑا سہارا ہے۔